<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style - Entertainment</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 01:04:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 01:04:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آسکرایوارڈ یافتہ پاکستانی فلمساز کی ڈاکیومینٹری ایمی ایوارڈز کیلئے نامزد</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30339198/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اکیڈمی اور دو بار ایمی ایوارڈ جیتنے والی ڈاکیومینٹری فلم میکر حیا فاطمہ اقبال کی فلم کوایمی ایوارڈ کے لیے نامزد کردیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیا کی فلم’As Far As They Can Run’ کو 44 ویں سالانہ نیوز اینڈ ڈاکیومنٹری ایمی ایوارڈز کی بہترین شارٹ ڈاکیومنٹری کیٹیگری کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلم میں پاکستان کے خصوصی اولمپکس پروگرام کے لئے ذہنی معذوری کے شکار,  پاکستان کے دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے تین نوجوانوں کے سفر کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیا فاطمہ اقبال نے ایوارڈ کیلئے نامزدگی پر خوشی کا اظہارکرتے ہوئے سوشل میڈیا کے ذریعے آگاہ کیا کہ انکی فلم ک ایمی ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیا فاطمہ اقبال نے بتایا کہ یہ فلم میرپورخاص اور اس کے آس پاس کے بچوں کی زندگیوں کی پیروی کرتی ہے جو ذہنی معذوری کا شکار ہوتے ہیں اور آخرکارکھلاڑی بننے کی تربیت حاصل کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی فلم میکر نے لکھا کہ یہ میرے لیے خوشی اور اعزاز کی بات ہے کہ ان بچوں میں سے ایک ثناء کپری نے  پچھلے مہینے برلن میں ہونے والے اسپیشل اولمپکس میں مشعل روشن کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--right  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30337981"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیافاطمہ اقبال نے بتایا کہ میں نے اس فلم پر بطور فیلڈ پروڈیوسر کام کیا ہے، لیکن اور بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے اس فلم کے لئے انتھک محنت کی ہے۔  انہیں امید ہے کہ اس بار بھی انکی فلم ایوارڈ کی حقدار رہے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اکیڈمی اور دو بار ایمی ایوارڈ جیتنے والی ڈاکیومینٹری فلم میکر حیا فاطمہ اقبال کی فلم کوایمی ایوارڈ کے لیے نامزد کردیا گیا۔</strong></p>
<p>حیا کی فلم’As Far As They Can Run’ کو 44 ویں سالانہ نیوز اینڈ ڈاکیومنٹری ایمی ایوارڈز کی بہترین شارٹ ڈاکیومنٹری کیٹیگری کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔</p>
<p>فلم میں پاکستان کے خصوصی اولمپکس پروگرام کے لئے ذہنی معذوری کے شکار,  پاکستان کے دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے تین نوجوانوں کے سفر کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔</p>
<p>حیا فاطمہ اقبال نے ایوارڈ کیلئے نامزدگی پر خوشی کا اظہارکرتے ہوئے سوشل میڈیا کے ذریعے آگاہ کیا کہ انکی فلم ک ایمی ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔</p>
<p>حیا فاطمہ اقبال نے بتایا کہ یہ فلم میرپورخاص اور اس کے آس پاس کے بچوں کی زندگیوں کی پیروی کرتی ہے جو ذہنی معذوری کا شکار ہوتے ہیں اور آخرکارکھلاڑی بننے کی تربیت حاصل کرتے ہیں۔</p>
<p>پاکستانی فلم میکر نے لکھا کہ یہ میرے لیے خوشی اور اعزاز کی بات ہے کہ ان بچوں میں سے ایک ثناء کپری نے  پچھلے مہینے برلن میں ہونے والے اسپیشل اولمپکس میں مشعل روشن کی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--right  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30337981"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>حیافاطمہ اقبال نے بتایا کہ میں نے اس فلم پر بطور فیلڈ پروڈیوسر کام کیا ہے، لیکن اور بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے اس فلم کے لئے انتھک محنت کی ہے۔  انہیں امید ہے کہ اس بار بھی انکی فلم ایوارڈ کی حقدار رہے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30339198</guid>
      <pubDate>Thu, 03 Aug 2023 12:25:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/08/031056468a5dbca.webp?r=105725" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/08/031056468a5dbca.webp?r=105725"/>
        <media:title>تصویر: ڈیلی میگزین
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
