<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 23:07:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 23:07:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عافیہ صدیقی کی رہائی کے نام پر سرکاری خزانے سے لاکھوں ڈالرز خرچ ہونے کا انکشاف</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30339540/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے امریکی جیل میں قید پاکستانی ڈاکٹرعافیہ صدیقی کے کیس پراٹھنے والے حیران کن اخراجات کو اجاگرکرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اتننی بڑی رقم خرچ کیے جانے کے باوجود ڈاکٹرعافیہ کو ریلیف کیوں نہ مل سکا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز سینیٹ اجلاس کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سینیٹر مشتاق احمد خان نے تفصیلی ٹویٹ میں  ان اخراجات کا انکشاف کرتے ہوئے حکومت کو ڈاکٹر عافیہ کی رہائی ممکن بنانے کیلئے 5 تجاویز پیش کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ  حکومت نے جولائی 2009 سے جنوری 2010 تک کے 6،7 ماہ میں 1.85ملین ڈالر عافیہ کیس پر خرچ کیے ہیں۔ اس رقم کا آڈٹ ہونا اور اس کی تفصیلات آنی چایئے کہ اتنی بڑی رقم خرچ کرنےکے باوجود عافیہ کو ریلیف کیوں نہیں مل سکا؟۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2023/08/05094141e4a0bfe.jpg'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر مشتاق کے مطابق عافیہ کیس کے حوالےسے تفصیلات ڈسکس کرنے کے لیے وفاقی وزیر مملکت برائے امور خارجہ حنا ربانی کھر نے ان کے پاس اپوزیشن لابی میں جاکر حکومتی کوششوں اوردورہ امریکا پر تبادلہ خیال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ ہمراہ مئی 2023 کے اختتام پرکیے جانے والے اس دورے میں سینیٹرمشتاق نے عافیہ سے ملاقات کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30329964"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نےاپنی ٹویٹ میں بتایا کہ  وفاقی وزیر مملکت برائے امور خارجہ  کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے 5 آپشنز بتائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1۔حکومت اخلاص سےڈاکٹر عافیہ کی وکیل/مدعی بن جائے&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2-ریاستی سطح پر ججمنٹ ریویو کے آپشن ماہر وکلاء کے ذریعے اختیار کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;3-ڈاکٹر عافیہ کے 15 سالہ میڈیکل ریکارڈ حاصل کرکے انسانی ہمدردی(compassionate grounds)پر ریلیف اور رہائی کا مطالبہ کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;4-امریکی صدر سے رحم کی اپیل(clemency petition)کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;5-پاکستان امریکہ باہمی ریاستی معاملات میں مفادات کا تبادلہ(Swap of interests)میں ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کو ترجیح اول بنائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشتاق احمد نے اپنی ٹویٹ میں مزید بتایا کہ انہوں نے حنا ربانی کھر کو یہ بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے تاحال ڈاکٹر فوزیہ صدیقی سے عافیہ صدیقی کیس کے سلسلے میں کمیٹی بنانے کا وعدہ  پورا نہیں کیا۔ حکومت نے ٹی ایل پی کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا اس کےمطابق  امریکی ایڈمنسٹریشن کو کیس کے حوالے سے خط لکھنا تھا وہ بھی نہیں لکھا گیا۔ حکومت اسلام آباد ہائی کورٹ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس کے حوالے سے کاغذات بھی ہمیں نہیں دے رہی تاکہ ہم قانونی جنگ لڑسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/SenatorMushtaq/status/1687424586281824256?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں خود پی ڈی ایم کو ہی رکاوٹ قراردینے والے سینیٹرمشتاق نے مزید لکھا کہ انہوں نے ڈاکٹر فوزیہ کے ہمراہ اگست کے پہلے ہفتہ میں دوبارہ امریکا جانا تھا  لیکن انہیں اور ڈاکٹر فوزیہ کو  امریکی جیل میں  عافیہ سے دوبارہ ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی،  یہ بھی حکومت کی ناکامی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="ڈاکٹر-عافیہ-صدیقی-کون-ہیں" href="#ڈاکٹر-عافیہ-صدیقی-کون-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ڈاکٹر عافیہ صدیقی کون ہیں؟&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹرعافیہ صدیقی ایک سائنسدان ہیں جو امریکا کی جیل میں 86 سال قید کی سزا بھگت رہی ہیں، ان پر افغانستان میں امریکی فوجیوں پر حملے کا الزام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارچ 2003 میں دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے اہم کمانڈر اور نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کی گرفتاری کے بعد ڈاکٹر عافیہ صدیقی اپنے 3 بچوں کے ہمراہ کراچی سے لاپتہ ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس کے بعد 2008 میں امریکی حکومت نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر عافیہ کو افغان شہر غزنی سے گرفتار کیا گیا جہاں وہ طالبان کے ساتھ مل کر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عافیہ صدیقی پر ستمبر 2010 میں مقدمہ چلایا گیا جس میں الزام لگایا گیا کہ انہوں نے ایک امریکی فوجی سے رائفل چھین کر اس پر گولی چلائی لیکن وہ بچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی عدالت میں 14 دن کے ٹرائل کے دوران عافیہ صدیقی نے بتایا کہ اس پر امریکیوں نے تشدد کیا لیکن ان کی سنوائی نہیں ہوئی۔ اقدام قتل کے الزام میں ڈاکٹر عافیہ کو 86 سال قید کی سزا سنائی گئی، یہ قید 30 اگست 2083 کو ختم ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے امریکی جیل میں قید پاکستانی ڈاکٹرعافیہ صدیقی کے کیس پراٹھنے والے حیران کن اخراجات کو اجاگرکرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اتننی بڑی رقم خرچ کیے جانے کے باوجود ڈاکٹرعافیہ کو ریلیف کیوں نہ مل سکا۔</strong></p>
<p>گزشتہ روز سینیٹ اجلاس کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سینیٹر مشتاق احمد خان نے تفصیلی ٹویٹ میں  ان اخراجات کا انکشاف کرتے ہوئے حکومت کو ڈاکٹر عافیہ کی رہائی ممکن بنانے کیلئے 5 تجاویز پیش کیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ  حکومت نے جولائی 2009 سے جنوری 2010 تک کے 6،7 ماہ میں 1.85ملین ڈالر عافیہ کیس پر خرچ کیے ہیں۔ اس رقم کا آڈٹ ہونا اور اس کی تفصیلات آنی چایئے کہ اتنی بڑی رقم خرچ کرنےکے باوجود عافیہ کو ریلیف کیوں نہیں مل سکا؟۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2023/08/05094141e4a0bfe.jpg'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>سینیٹر مشتاق کے مطابق عافیہ کیس کے حوالےسے تفصیلات ڈسکس کرنے کے لیے وفاقی وزیر مملکت برائے امور خارجہ حنا ربانی کھر نے ان کے پاس اپوزیشن لابی میں جاکر حکومتی کوششوں اوردورہ امریکا پر تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p>عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ ہمراہ مئی 2023 کے اختتام پرکیے جانے والے اس دورے میں سینیٹرمشتاق نے عافیہ سے ملاقات کی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30329964"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نےاپنی ٹویٹ میں بتایا کہ  وفاقی وزیر مملکت برائے امور خارجہ  کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے 5 آپشنز بتائے۔</p>
<p>1۔حکومت اخلاص سےڈاکٹر عافیہ کی وکیل/مدعی بن جائے</p>
<p>2-ریاستی سطح پر ججمنٹ ریویو کے آپشن ماہر وکلاء کے ذریعے اختیار کرے۔</p>
<p>3-ڈاکٹر عافیہ کے 15 سالہ میڈیکل ریکارڈ حاصل کرکے انسانی ہمدردی(compassionate grounds)پر ریلیف اور رہائی کا مطالبہ کرے۔</p>
<p>4-امریکی صدر سے رحم کی اپیل(clemency petition)کرے۔</p>
<p>5-پاکستان امریکہ باہمی ریاستی معاملات میں مفادات کا تبادلہ(Swap of interests)میں ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کو ترجیح اول بنائے۔</p>
<p>مشتاق احمد نے اپنی ٹویٹ میں مزید بتایا کہ انہوں نے حنا ربانی کھر کو یہ بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے تاحال ڈاکٹر فوزیہ صدیقی سے عافیہ صدیقی کیس کے سلسلے میں کمیٹی بنانے کا وعدہ  پورا نہیں کیا۔ حکومت نے ٹی ایل پی کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا اس کےمطابق  امریکی ایڈمنسٹریشن کو کیس کے حوالے سے خط لکھنا تھا وہ بھی نہیں لکھا گیا۔ حکومت اسلام آباد ہائی کورٹ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس کے حوالے سے کاغذات بھی ہمیں نہیں دے رہی تاکہ ہم قانونی جنگ لڑسکیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/SenatorMushtaq/status/1687424586281824256?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں خود پی ڈی ایم کو ہی رکاوٹ قراردینے والے سینیٹرمشتاق نے مزید لکھا کہ انہوں نے ڈاکٹر فوزیہ کے ہمراہ اگست کے پہلے ہفتہ میں دوبارہ امریکا جانا تھا  لیکن انہیں اور ڈاکٹر فوزیہ کو  امریکی جیل میں  عافیہ سے دوبارہ ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی،  یہ بھی حکومت کی ناکامی ہے۔</p>
<h2><a id="ڈاکٹر-عافیہ-صدیقی-کون-ہیں" href="#ڈاکٹر-عافیہ-صدیقی-کون-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ڈاکٹر عافیہ صدیقی کون ہیں؟</h2>
<p>ڈاکٹرعافیہ صدیقی ایک سائنسدان ہیں جو امریکا کی جیل میں 86 سال قید کی سزا بھگت رہی ہیں، ان پر افغانستان میں امریکی فوجیوں پر حملے کا الزام ہے۔</p>
<p>مارچ 2003 میں دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے اہم کمانڈر اور نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کی گرفتاری کے بعد ڈاکٹر عافیہ صدیقی اپنے 3 بچوں کے ہمراہ کراچی سے لاپتہ ہوئیں۔</p>
<p>جس کے بعد 2008 میں امریکی حکومت نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر عافیہ کو افغان شہر غزنی سے گرفتار کیا گیا جہاں وہ طالبان کے ساتھ مل کر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہی تھیں۔</p>
<p>عافیہ صدیقی پر ستمبر 2010 میں مقدمہ چلایا گیا جس میں الزام لگایا گیا کہ انہوں نے ایک امریکی فوجی سے رائفل چھین کر اس پر گولی چلائی لیکن وہ بچ گیا۔</p>
<p>امریکی عدالت میں 14 دن کے ٹرائل کے دوران عافیہ صدیقی نے بتایا کہ اس پر امریکیوں نے تشدد کیا لیکن ان کی سنوائی نہیں ہوئی۔ اقدام قتل کے الزام میں ڈاکٹر عافیہ کو 86 سال قید کی سزا سنائی گئی، یہ قید 30 اگست 2083 کو ختم ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30339540</guid>
      <pubDate>Sat, 05 Aug 2023 09:44:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/08/050943409915b7b.webp?r=094351" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/08/050943409915b7b.webp?r=094351"/>
        <media:title>فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
