<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 16:38:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 16:38:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ارسلان کے والد کی وفات پولیس تشدد سے نہیں ہوئی، پروپیگنڈہ حقائق کے برعکس ہے، پولیس</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30341195/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈی آئی جی آپریشنز لاہور علی ناصر رضوی نے کہا ہے کہ چودہ سالہ ارسلان نسیم کے والد کی موت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر پولیس کے خلاف پروپیگنڈہ حقائق کے برعکس ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30339731"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قلعہ گجر سنگھ لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران علی ناصر رضوی نے کہا کہ چودہ سالہ ارسلان رفیق 1271/23 کے مقدمہ میں ڈیڑھ ماہ جیل میں رہنے کے بعد 9 اگست کو ضمانت پر رہا ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انھوں نے کہا کہ ارسلان 10 مئی کو درج ہونے والے دوسرے مقدمے میں بھی مطلوب تھا، حکمنامہ طلبی کے ذریعے اسے طلب کیا گیا لیکن ارسلان پیش نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی ناصر کے مطابق 10 اور 11 اگست کی رات کو حکمنامہ طلبی کیلئے اس کے گھر پولیس گئی لیکن وہاں تالا لگا ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30323260"&gt;لاہور میں پولیس مقابلہ، 2 ڈاکو ہلاک، 2 اہلکار زخمی&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/11939"&gt;لاہور:پولیس کا سرچ آپریشن،چھیاسی افراد گرفتار&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کا کہنا ہے کہ پولیس کی طرف سے ارسلان کے والد پر کوئی تشد نہیں کیا گیا اور نہ ہی ارسلان کے والد کی وفات پولیس تشدد سے ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پولیس نے سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈہ کرنے والوں خلاف ایف آئی اے سائبر کرائم سے رجوع کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 14 اگست سے سوشل میڈیا پر کچھ صحافی اور یوٹیوبر ایک واقعے کی تفصیل شیئر کر رہے ہیں جس میں ان کا دعویٰ ہے کہ لاہور میں 14 سالہ ارسلان نسیم کو ضمانت کے باوجود پولیس نے دوبارہ گرفتار کرنے کی کوشش کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر کہا جارہا ہے کہ گھر سے لڑکا  برآمد نہ ہونے پر اس کے والد کو حراست میں لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر دی جانے والی غیر مصدقہ خبر کے مطابق ان کے والد محمد نسیم کو پولیس نے مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا اور ہارٹ اٹیک سے ان کی موت واقع ہو گئی تاہم پولیس نے سوشل میڈیا پر چلنے والی ان خبروں کی تردید کی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈی آئی جی آپریشنز لاہور علی ناصر رضوی نے کہا ہے کہ چودہ سالہ ارسلان نسیم کے والد کی موت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر پولیس کے خلاف پروپیگنڈہ حقائق کے برعکس ہے۔</strong></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30339731"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>قلعہ گجر سنگھ لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران علی ناصر رضوی نے کہا کہ چودہ سالہ ارسلان رفیق 1271/23 کے مقدمہ میں ڈیڑھ ماہ جیل میں رہنے کے بعد 9 اگست کو ضمانت پر رہا ہوا۔</p>
<p>انھوں نے کہا کہ ارسلان 10 مئی کو درج ہونے والے دوسرے مقدمے میں بھی مطلوب تھا، حکمنامہ طلبی کے ذریعے اسے طلب کیا گیا لیکن ارسلان پیش نہیں ہوا۔</p>
<p>علی ناصر کے مطابق 10 اور 11 اگست کی رات کو حکمنامہ طلبی کیلئے اس کے گھر پولیس گئی لیکن وہاں تالا لگا ہوا تھا۔</p>
<p><strong>یہ بھی پڑھیں:</strong></p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30323260">لاہور میں پولیس مقابلہ، 2 ڈاکو ہلاک، 2 اہلکار زخمی</a></p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/11939">لاہور:پولیس کا سرچ آپریشن،چھیاسی افراد گرفتار</a></p>
<p>ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کا کہنا ہے کہ پولیس کی طرف سے ارسلان کے والد پر کوئی تشد نہیں کیا گیا اور نہ ہی ارسلان کے والد کی وفات پولیس تشدد سے ہوئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پولیس نے سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈہ کرنے والوں خلاف ایف آئی اے سائبر کرائم سے رجوع کر لیا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ 14 اگست سے سوشل میڈیا پر کچھ صحافی اور یوٹیوبر ایک واقعے کی تفصیل شیئر کر رہے ہیں جس میں ان کا دعویٰ ہے کہ لاہور میں 14 سالہ ارسلان نسیم کو ضمانت کے باوجود پولیس نے دوبارہ گرفتار کرنے کی کوشش کی ہے۔</p>
<p>سوشل میڈیا پر کہا جارہا ہے کہ گھر سے لڑکا  برآمد نہ ہونے پر اس کے والد کو حراست میں لیا گیا۔</p>
<p>سوشل میڈیا پر دی جانے والی غیر مصدقہ خبر کے مطابق ان کے والد محمد نسیم کو پولیس نے مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا اور ہارٹ اٹیک سے ان کی موت واقع ہو گئی تاہم پولیس نے سوشل میڈیا پر چلنے والی ان خبروں کی تردید کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30341195</guid>
      <pubDate>Tue, 15 Aug 2023 23:47:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/08/15233934d071ed1.webp?r=233951" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/08/15233934d071ed1.webp?r=233951"/>
        <media:title>فوٹو ــ فائل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
