<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 00:12:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 00:12:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دماغ کی لہریں پکڑ کر خیالات سننے کے تجربات میں نئی کامیابی، سائنسدانوں نے گانا بھی ’سن‘ لیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30341256/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تحقیق کی دُنیا کی کوئی حد نہیں، سائنس دانوں نے اب لوگوں کے دماغ کی لہروں کو سُن کران کے خیالات جاننے سے متعلق تجربات میں نئی کامیابی  حاصل کرتے ہوئے گانا بھی سُن’لیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا رپورٹ کے مطابق امید کی جارہی ہے کہ اس تجربے کی بدولت وہ افراد زیادہ مستفید ہوں گےجو کسی بھی بیماری کی وجہ سے قوت گویائی سے محروم ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی مثال فالج یا نیوروڈیجینریٹیو نامی بیماری سے لی جاسکتی ہے جس کی تشخیص اسٹیفن ہاکنگ میں ہوئی تھی۔ وہ آئن اسٹائن کے بعد دنیا کے دوسرے بڑے سمجھے جانے والے سائنسدان تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/4  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/153264"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے پروفیسر رابرٹ نائٹ نے کہا کہ اسی لیبارٹری کے ممبران  پہلے دماغی ریکارڈنگ جسے decipher speech کہا جاتا ہے اورخاموش رہ کر بھی جوالفاظ ذہن میں  چل رہے ہوں انہیں بھی سمجھنے میں کامیاب ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان سب کو جاننے کے لیے روبوٹ کی مدد لی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروفیسر رابرٹ نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے نیورولوجسٹ کے ہمراہ پوسٹ ڈاکٹرل فیلو لڈووک بیلیئر کے ساتھ یہ مطالعہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ تجربے نے دماغ کے اسپیچ موٹر کارٹیکس سے برقی لہروں کو سنا تھا، جہاں سے ہمارے ہونٹوں، جبڑے، زبان کی حرکت کو کنٹرول کیا جاتا ہے، جو الفاظ بناتے ہیں، موجودہ مطالعہ میں دماغ کے اس حصے پرغور کیا گیا  جس جگہ  پر آواز کے تمام پہلوؤں پر کارروائی کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/4  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30332801"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیم نے مطالعے کے لیے 29 مریضوں کی دماغی ریکارڈنگ کا تجزیہ کیا ۔ اس دوران ”پنک فلائیڈ“ نامی گانے کا تقریباً تین منٹ کا حصہ ان کے لیے چلایا گیا جو1979 کے البم دی وال سے لیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مریضوں کی دماغی سرگرمی کا پتہ ان کے دماغ کی سطح پر براہ راست الیکٹروڈ لگا کر لگایا گیا جب ان کی مرگی کی سرجری ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال آسٹن کی یونیورسٹی آف ٹیکساس میں ڈاکٹر الیگزینڈر ہتھ کی سربراہی میں محققین نے اعلان کیا کہ وہ دماغی سرگرمی کو غیر جارحانہ ایم آر آئی اسکین ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے کچھ الفاظ کا ترجمہ کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/4  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30337967"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نظام اتنا درست نہیں تھا کہ صحیح الفاظ کو سن پائیں لیکن جملے کے خلاصے کا پتہ لگا سکتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے دماغی ردعمل کو ریکارڈ نہیں کیا جب موسیقی کا تصورکر رہے تھے۔  ہوسکتا ہے کہ انے والے وقت میں دماغی مشین کے انٹرفیس استعمال کیےجائیں، جو تصوراتی موسیقی کو ترجمہ کر پائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایل او ایس بائیولوجی میں شائع ہونے والی اس تحقیق نے دماغ کے نئے حصوں کی نشاندہی کی اور اس بات کی تصدیق کی کہ دماغ کا دائیں حصہ بائیں سے زیادہ موسیقی سے منسلک ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تحقیق کی دُنیا کی کوئی حد نہیں، سائنس دانوں نے اب لوگوں کے دماغ کی لہروں کو سُن کران کے خیالات جاننے سے متعلق تجربات میں نئی کامیابی  حاصل کرتے ہوئے گانا بھی سُن’لیا ہے۔</strong></p>
<p>میڈیا رپورٹ کے مطابق امید کی جارہی ہے کہ اس تجربے کی بدولت وہ افراد زیادہ مستفید ہوں گےجو کسی بھی بیماری کی وجہ سے قوت گویائی سے محروم ہوتے ہیں۔</p>
<p>اس کی مثال فالج یا نیوروڈیجینریٹیو نامی بیماری سے لی جاسکتی ہے جس کی تشخیص اسٹیفن ہاکنگ میں ہوئی تھی۔ وہ آئن اسٹائن کے بعد دنیا کے دوسرے بڑے سمجھے جانے والے سائنسدان تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/4  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/153264"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے پروفیسر رابرٹ نائٹ نے کہا کہ اسی لیبارٹری کے ممبران  پہلے دماغی ریکارڈنگ جسے decipher speech کہا جاتا ہے اورخاموش رہ کر بھی جوالفاظ ذہن میں  چل رہے ہوں انہیں بھی سمجھنے میں کامیاب ہوئے تھے۔</p>
<p>ان سب کو جاننے کے لیے روبوٹ کی مدد لی جاتی ہے۔</p>
<p>پروفیسر رابرٹ نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے نیورولوجسٹ کے ہمراہ پوسٹ ڈاکٹرل فیلو لڈووک بیلیئر کے ساتھ یہ مطالعہ کیا۔</p>
<p>گزشتہ تجربے نے دماغ کے اسپیچ موٹر کارٹیکس سے برقی لہروں کو سنا تھا، جہاں سے ہمارے ہونٹوں، جبڑے، زبان کی حرکت کو کنٹرول کیا جاتا ہے، جو الفاظ بناتے ہیں، موجودہ مطالعہ میں دماغ کے اس حصے پرغور کیا گیا  جس جگہ  پر آواز کے تمام پہلوؤں پر کارروائی کی جاتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/4  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30332801"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ٹیم نے مطالعے کے لیے 29 مریضوں کی دماغی ریکارڈنگ کا تجزیہ کیا ۔ اس دوران ”پنک فلائیڈ“ نامی گانے کا تقریباً تین منٹ کا حصہ ان کے لیے چلایا گیا جو1979 کے البم دی وال سے لیا گیا تھا۔</p>
<p>مریضوں کی دماغی سرگرمی کا پتہ ان کے دماغ کی سطح پر براہ راست الیکٹروڈ لگا کر لگایا گیا جب ان کی مرگی کی سرجری ہوئی تھی۔</p>
<p>رواں سال آسٹن کی یونیورسٹی آف ٹیکساس میں ڈاکٹر الیگزینڈر ہتھ کی سربراہی میں محققین نے اعلان کیا کہ وہ دماغی سرگرمی کو غیر جارحانہ ایم آر آئی اسکین ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے کچھ الفاظ کا ترجمہ کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/4  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30337967"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ نظام اتنا درست نہیں تھا کہ صحیح الفاظ کو سن پائیں لیکن جملے کے خلاصے کا پتہ لگا سکتا تھا۔</p>
<p>انہوں نے دماغی ردعمل کو ریکارڈ نہیں کیا جب موسیقی کا تصورکر رہے تھے۔  ہوسکتا ہے کہ انے والے وقت میں دماغی مشین کے انٹرفیس استعمال کیےجائیں، جو تصوراتی موسیقی کو ترجمہ کر پائیں گے۔</p>
<p>پی ایل او ایس بائیولوجی میں شائع ہونے والی اس تحقیق نے دماغ کے نئے حصوں کی نشاندہی کی اور اس بات کی تصدیق کی کہ دماغ کا دائیں حصہ بائیں سے زیادہ موسیقی سے منسلک ہوتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30341256</guid>
      <pubDate>Wed, 16 Aug 2023 14:03:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/08/161355432b53776.png?r=135628" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/08/161355432b53776.png?r=135628"/>
        <media:title>تصویر: پکس بے/ فائل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
