<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 18:28:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 18:28:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روس نے بھارت کیلئے خام تیل پر رعایت ختم کردی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30341643/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;روس نے بھارت کیلئے خام تیل پر رعایت ختم کردی، ہمسایہ ملک کو اضافی کرائے کے سبب روسی تیل دوسرے ممالک سے زیادہ مہنگا پڑنے لگا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30341639"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن جو واشنگٹن ڈی سی میں قائم دفاعی پالیسی تھنک ٹینک ہے، اس نے ایک رپورٹ شائع کی ہے ، جس کے مطابق فروری 2022 میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے روس کے خام تیل پر بھارت  کو ملنے والی رعایت اب تقریبا 30 ڈالر سے گھٹ کر 4 ڈالر فی بیرل رہ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں اکنامک ٹائمز کے حوالے سے بتایا گیا کہ بھارت، روس سے خام تیل درآمد کرنے کیلئے روسی بندرگاہوں سے اپنی بندرگاہوں تک 11 سے 19 ڈالر فی بیرل شپنگ لاگت برداشت کر رہا ہے ، جو دوسرے ممالک سے اسی طرح کے فاصلے کی شرح سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30339566"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ  یورلس گریڈ کے تیل کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے اور یہ گروپ آف سیون (جی 7) ممالک کی طرف سے عائد کردہ 60 ڈالر کی قیمت کی حد سے تجاوز کر گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس کی وجہ سے بھارت  کے لئے امریکی ڈالر میں روس کے ساتھ تیل کی تجارت جاری رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ اس طرح ، نئی دہلی متبادل طور پر چینی یوآن میں روسی تیل کی ادائیگی پر غور کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں :&lt;/strong&gt; &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30336998"&gt;روس نے یوکرینی اناج کی برآمد کا معاہدہ توڑ دیا&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ سعودی عرب اور روس کی جانب سے اگست 2023 سے پیداوار میں 10 لاکھ بیرل یومیہ اور برآمدات میں 5 لاکھ بیرل یومیہ کمی کے وعدوں کے بعد  خام تیل کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا تیل درآمد کنندہ ہے۔ رپورٹ میں انڈین ایکسپریس کے حوالے سے بتایا گیا کہ کچھ اندازوں کے مطابق اپریل 2022 سے مئی 2023 تک بھارت  کا رعایتی روسی خام تیل کا کل بل 186.45 بلین ڈالر ہے۔ رعایت کے بغیر، یہ بل اوسطا $ 193.62 بلین ہوتا، اس طرح بھارت نے صرف رعایتی روسی تیل خرید کر کم از کم 7.17 بلین ڈالر کی بچت کی، تاہم اب روس نے بھارت کیلئے خام تیل پر رعایت ختم کردی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>روس نے بھارت کیلئے خام تیل پر رعایت ختم کردی، ہمسایہ ملک کو اضافی کرائے کے سبب روسی تیل دوسرے ممالک سے زیادہ مہنگا پڑنے لگا ہے۔</strong></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30341639"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن جو واشنگٹن ڈی سی میں قائم دفاعی پالیسی تھنک ٹینک ہے، اس نے ایک رپورٹ شائع کی ہے ، جس کے مطابق فروری 2022 میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے روس کے خام تیل پر بھارت  کو ملنے والی رعایت اب تقریبا 30 ڈالر سے گھٹ کر 4 ڈالر فی بیرل رہ گئی ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں اکنامک ٹائمز کے حوالے سے بتایا گیا کہ بھارت، روس سے خام تیل درآمد کرنے کیلئے روسی بندرگاہوں سے اپنی بندرگاہوں تک 11 سے 19 ڈالر فی بیرل شپنگ لاگت برداشت کر رہا ہے ، جو دوسرے ممالک سے اسی طرح کے فاصلے کی شرح سے زیادہ ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30339566"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ  یورلس گریڈ کے تیل کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے اور یہ گروپ آف سیون (جی 7) ممالک کی طرف سے عائد کردہ 60 ڈالر کی قیمت کی حد سے تجاوز کر گیا ہے۔</p>
<p>جس کی وجہ سے بھارت  کے لئے امریکی ڈالر میں روس کے ساتھ تیل کی تجارت جاری رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ اس طرح ، نئی دہلی متبادل طور پر چینی یوآن میں روسی تیل کی ادائیگی پر غور کر رہا ہے۔</p>
<p><strong>یہ بھی پڑھیں :</strong> <a href="https://www.aaj.tv/news/30336998">روس نے یوکرینی اناج کی برآمد کا معاہدہ توڑ دیا</a></p>
<p>واضح رہے کہ سعودی عرب اور روس کی جانب سے اگست 2023 سے پیداوار میں 10 لاکھ بیرل یومیہ اور برآمدات میں 5 لاکھ بیرل یومیہ کمی کے وعدوں کے بعد  خام تیل کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>خیال رہے کہ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا تیل درآمد کنندہ ہے۔ رپورٹ میں انڈین ایکسپریس کے حوالے سے بتایا گیا کہ کچھ اندازوں کے مطابق اپریل 2022 سے مئی 2023 تک بھارت  کا رعایتی روسی خام تیل کا کل بل 186.45 بلین ڈالر ہے۔ رعایت کے بغیر، یہ بل اوسطا $ 193.62 بلین ہوتا، اس طرح بھارت نے صرف رعایتی روسی تیل خرید کر کم از کم 7.17 بلین ڈالر کی بچت کی، تاہم اب روس نے بھارت کیلئے خام تیل پر رعایت ختم کردی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30341643</guid>
      <pubDate>Fri, 18 Aug 2023 19:11:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/08/181746157afe8a7.webp?r=175028" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/08/181746157afe8a7.webp?r=175028"/>
        <media:title>فوٹو ــ روئٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
