<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 25 Jun 2026 22:52:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 25 Jun 2026 22:52:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دنیا میں رائے دینے والوں کو صحافی نہیں کہا جاتا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30342389/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سپریم کورٹ کے نامزد چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کا کہنا ہے کہ آئین پاکستان میں آزادی اظہار رائے کا حق دیا گیا ہے، یہ حق نہ صرف صحافیوں بلکہ ہر شہری کو حاصل ہے، میڈیا میں سچ اور رائے میں تفریق نہیں کی جاتی جس سے مجھے اختلاف ہے، صحافیوں کو معلومات پہنچانی چاہئیں لیکن اگر وہ اپنی رائے دے رہے ہیں تو بتائیں کہ یہ میری رائے ہے، جھوٹ بولنا مشکل کام ہے، سچ بولنا آسان ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں سپریم کورٹ پریس ایسوسی ایشن کے عہدیداران کی تقریب حلف برداری میں خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میڈیا میں سچ اور رائے میں تفریق نہیں کی جاتی جس سے مجھے اختلاف ہے، آئین پاکستان میں آزادی اظہار رائے کا حق دیا گیا ہے، یہ حق نہ صرف صحافیوں بلکہ ہر شہری کو حاصل ہے، دوسرا حق کہ مفاد عامہ میں عوام سے متعلق چیزوں کے بارے میں آپ معلومات لے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://pbs.twimg.com/media/F4NEGM4aMAAnLUU?format=jpg&amp;amp;name=small'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا جھوٹ سچائی اور رائے میں فرق ہے کہ ایک بات جس کا آئین میں براہ راست ذکر نہیں لیکن معنوی اعتبار سے ذکر ہے وہ ہے سچ، میں آپ( صحافیوں) کے سچ سے انکار نہیں کر سکتا لیکن رائے سے اختلاف کر سکتا ہوں، دنیا میں رائے دینے والوں کو صحافی نہیں کہا جاتا، صحافیوں کو معلومات پہنچانی چاہیے لیکن اگر وہ اپنی رائے دے رہے ہیں تو بتائیں کہ یہ میری رائے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="مزید-پڑھیں" href="#مزید-پڑھیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مزید پڑھیں&lt;/h2&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30337471/"&gt;سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ”کیوریٹو ریویو“ خارج
کردیا&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30333378/"&gt;فوجی عدالتوں کیخلاف عمران خان دور سے زیر التوا درخواستیں کیوں نہیں
سنی گئیں، جسٹس فائز عیسیٰ کا سوال&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30332990/"&gt;صدر نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس تعیناتی کی منظوری دے
دی&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ کے نامزد چیف جسٹس نے کہا کہ ہر موقع پر سچ بولیں، ویسے جھوٹ بولنا بڑا مشکل کام ہوتا ہے، مختلف جھوٹوں کو یاد رکھنا پڑتا ہے اور پھر جواز پیدا کرنے کے لیے ان کے درمیان ربط پیدا کرنا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ججز اور صحافیوں کے کام میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے، دونوں سچ کی تلاش میں نکلتے ہیں، جج قانون کے دائرے میں سچ سامنے لاتا ہے، انصاف دلانے کے لیے سچ کو سامنے لانا لازمی ہے، ٹی وی پر آ کر اپنی رائے دینے والا صحافی نہیں بن جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ صحافی کے لیے ضروری ہے کہ آئین و قانون کی رو سے کوئی بھی خبر تحقیق کر کے دے اور خبر کا بیک گراؤنڈ بھی دے، فون اٹھانے، کیمرہ اٹھانے یا کسی اخبار سے منسلک ہو جانے سے کوئی صحافی نہیں بن جاتا، صحافی کے لیے تحقیق ضروری چیز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص بیان دیتا ہے تو صحافی کو اس بیان کی تحقیق کرنی چاہیے کہ کیا اس شخص نے صحیح بات کی ہے، صحافی تحقیق کر کے بتا سکتا ہے کہ اس شخص کی کہی بات درست ہے یا غلط، اگر کوئی صحافی سپریم کورٹ کی خبر دیتا ہے لیکن وہ خود سپریم کورٹ میں موجود نہیں تو اسے سپریم کورٹ میں موجود کسی صحافی سے بات کر کے خبر دینی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس قاضی فائز عیسی نے قرآن پاک کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’تم سچوں (سچ بولنے والوں) کے ساتھ کھڑے رہو‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایک حدیث کا حوالہ بھی دیا ’امام مالک نے صفوان بن سلیم کی حدیث نقل کی ہے کہ رسول پاک ﷺ سے سوال پوچھا گیا کہ کیا مومن بزدل ہو سکتا ہے؟ جواب ملا ہاں۔ پھر سوال پوچھا گیا کہ کیا مومن بخیل ہو سکتا ہے؟ جواب ملا ہاں۔ پھر سوال کیا گیا کہ کیا مومن جھوٹا ہو سکتا ہے؟ رسولﷺ نے جواب دیا نہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نامزد چیف جسٹس نے ایک اورحدیث کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’ واقعہ جس کا ذکر امام رازی کی تفسیر کبیر میں ہے۔ ایک شخص نبی پاکﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ یا رسولﷺ میں شراب پیتا ہوں، زنا کرتا ہوں، چوری کرتا ہوں اور جھوٹ بولتا ہوں، آپ کی خاطر ایک چیز چھوڑ دوں گا۔ تو رسولﷺ نے اسے کہا کہ جھوٹ بولنا چھوڑ دو۔ ’&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سپریم کورٹ کے نامزد چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کا کہنا ہے کہ آئین پاکستان میں آزادی اظہار رائے کا حق دیا گیا ہے، یہ حق نہ صرف صحافیوں بلکہ ہر شہری کو حاصل ہے، میڈیا میں سچ اور رائے میں تفریق نہیں کی جاتی جس سے مجھے اختلاف ہے، صحافیوں کو معلومات پہنچانی چاہئیں لیکن اگر وہ اپنی رائے دے رہے ہیں تو بتائیں کہ یہ میری رائے ہے، جھوٹ بولنا مشکل کام ہے، سچ بولنا آسان ہے۔</strong></p>
<p>اسلام آباد میں سپریم کورٹ پریس ایسوسی ایشن کے عہدیداران کی تقریب حلف برداری میں خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میڈیا میں سچ اور رائے میں تفریق نہیں کی جاتی جس سے مجھے اختلاف ہے، آئین پاکستان میں آزادی اظہار رائے کا حق دیا گیا ہے، یہ حق نہ صرف صحافیوں بلکہ ہر شہری کو حاصل ہے، دوسرا حق کہ مفاد عامہ میں عوام سے متعلق چیزوں کے بارے میں آپ معلومات لے سکتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://pbs.twimg.com/media/F4NEGM4aMAAnLUU?format=jpg&amp;name=small'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا جھوٹ سچائی اور رائے میں فرق ہے کہ ایک بات جس کا آئین میں براہ راست ذکر نہیں لیکن معنوی اعتبار سے ذکر ہے وہ ہے سچ، میں آپ( صحافیوں) کے سچ سے انکار نہیں کر سکتا لیکن رائے سے اختلاف کر سکتا ہوں، دنیا میں رائے دینے والوں کو صحافی نہیں کہا جاتا، صحافیوں کو معلومات پہنچانی چاہیے لیکن اگر وہ اپنی رائے دے رہے ہیں تو بتائیں کہ یہ میری رائے ہے۔</p>
<h2><a id="مزید-پڑھیں" href="#مزید-پڑھیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مزید پڑھیں</h2>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30337471/">سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ”کیوریٹو ریویو“ خارج
کردیا</a></p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30333378/">فوجی عدالتوں کیخلاف عمران خان دور سے زیر التوا درخواستیں کیوں نہیں
سنی گئیں، جسٹس فائز عیسیٰ کا سوال</a></p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30332990/">صدر نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس تعیناتی کی منظوری دے
دی</a></p>
</blockquote>
<p>سپریم کورٹ کے نامزد چیف جسٹس نے کہا کہ ہر موقع پر سچ بولیں، ویسے جھوٹ بولنا بڑا مشکل کام ہوتا ہے، مختلف جھوٹوں کو یاد رکھنا پڑتا ہے اور پھر جواز پیدا کرنے کے لیے ان کے درمیان ربط پیدا کرنا ہوتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ججز اور صحافیوں کے کام میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے، دونوں سچ کی تلاش میں نکلتے ہیں، جج قانون کے دائرے میں سچ سامنے لاتا ہے، انصاف دلانے کے لیے سچ کو سامنے لانا لازمی ہے، ٹی وی پر آ کر اپنی رائے دینے والا صحافی نہیں بن جاتا۔</p>
<p>جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ صحافی کے لیے ضروری ہے کہ آئین و قانون کی رو سے کوئی بھی خبر تحقیق کر کے دے اور خبر کا بیک گراؤنڈ بھی دے، فون اٹھانے، کیمرہ اٹھانے یا کسی اخبار سے منسلک ہو جانے سے کوئی صحافی نہیں بن جاتا، صحافی کے لیے تحقیق ضروری چیز ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص بیان دیتا ہے تو صحافی کو اس بیان کی تحقیق کرنی چاہیے کہ کیا اس شخص نے صحیح بات کی ہے، صحافی تحقیق کر کے بتا سکتا ہے کہ اس شخص کی کہی بات درست ہے یا غلط، اگر کوئی صحافی سپریم کورٹ کی خبر دیتا ہے لیکن وہ خود سپریم کورٹ میں موجود نہیں تو اسے سپریم کورٹ میں موجود کسی صحافی سے بات کر کے خبر دینی چاہیے۔</p>
<p>جسٹس قاضی فائز عیسی نے قرآن پاک کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’تم سچوں (سچ بولنے والوں) کے ساتھ کھڑے رہو‘۔</p>
<p>انہوں نے ایک حدیث کا حوالہ بھی دیا ’امام مالک نے صفوان بن سلیم کی حدیث نقل کی ہے کہ رسول پاک ﷺ سے سوال پوچھا گیا کہ کیا مومن بزدل ہو سکتا ہے؟ جواب ملا ہاں۔ پھر سوال پوچھا گیا کہ کیا مومن بخیل ہو سکتا ہے؟ جواب ملا ہاں۔ پھر سوال کیا گیا کہ کیا مومن جھوٹا ہو سکتا ہے؟ رسولﷺ نے جواب دیا نہیں۔‘</p>
<p>نامزد چیف جسٹس نے ایک اورحدیث کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’ واقعہ جس کا ذکر امام رازی کی تفسیر کبیر میں ہے۔ ایک شخص نبی پاکﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ یا رسولﷺ میں شراب پیتا ہوں، زنا کرتا ہوں، چوری کرتا ہوں اور جھوٹ بولتا ہوں، آپ کی خاطر ایک چیز چھوڑ دوں گا۔ تو رسولﷺ نے اسے کہا کہ جھوٹ بولنا چھوڑ دو۔ ’</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30342389</guid>
      <pubDate>Wed, 23 Aug 2023 20:01:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/08/23195216f56e268.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/08/23195216f56e268.webp"/>
        <media:title>فوٹو۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹوئٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
