<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 03:07:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 03:07:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اداکار صبا فیصل انڈسٹری میں کیسے آئیں ؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30342939/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان شوبز انڈسٹری کی سینیئر اور معروف اداکارہ صبا فیصل نے بتادیا کہ وہ اداکاری سے قبل کس شعبے سے وابستہ تھیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صبا فیصل حال ہی میں تابش ہاشمی کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=PqDzeee1HCs"&gt;پروگرام&lt;/a&gt; میں شریک ہوئیں، جہاں انہوں نے اپنے کیریئر سمیت شوبز کے معاملات پر بھی کھل کر بات کرتے ہوئے بتایا کہ میٹرک کرنے کے بعد ہی وہ میڈیا انڈسٹری میں آ گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صبا نے بتایا کہ میٹرک کرنے کے بعد انہوں نے بطور استاد ملازمت شروع کی، جہاں ایک اسٹیج اداکارہ کی بھانجی پڑھتی تھیں اور مذکورہ اداکارہ ہی انہیں پہلی بار پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) لے گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق انہوں نے 1981 میں اناؤسر کا آڈیشن دیا اور ان کے ساتھ دیگر 24 لڑکیاں بھی تھیں لیکن صرف انہیں منتخب کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صبا فیصل کا کہنا تھا کہ اناؤسر بننے کے کچھ ہی دن بعد انہیں ان کے دانتوں کی وجہ سے نکال دیا گیا، جس پر انہوں نے دانت بھی بنوائے اور پھر پی ٹی وی کے مینیجر سے رابطہ کرکے کام دینے کا کہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اداکارہ کا کہنا تھا کہ اناؤسر بننے کے بعد انہوں نے نیوز کاسٹنگ شروع کردی اور 1990 کی دہائی میں جب بھارتی وزیر اعظم اندر کمار گجرال پاکستانی دورے پر آئے تو انہوں نے مسلسل ان کا نام غلط پڑھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق انہوں نے خبروں میں بھارتی وزیر اعظم کو انور کمار گجرال پڑھا اور مجموعی طور پر انہوں نے 17 بار ان کا نام غلط لیا، جس پر انہیں 15 دن کے لیے معطل کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا یہ بھی کہن اتھا کہ اداکارہ اور سابق اینکر پرسن صبا فیصل نے کہا ہے کہ میرے زمانے میں خبریں پڑھتے وقت اینکر اداکاری نہیں کرتے تھے لیکن آج کے دور میں خبریں پڑھنے کے دوران اداکاری بھی کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان شوبز انڈسٹری کی سینیئر اور معروف اداکارہ صبا فیصل نے بتادیا کہ وہ اداکاری سے قبل کس شعبے سے وابستہ تھیں۔</strong></p>
<p>صبا فیصل حال ہی میں تابش ہاشمی کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=PqDzeee1HCs">پروگرام</a> میں شریک ہوئیں، جہاں انہوں نے اپنے کیریئر سمیت شوبز کے معاملات پر بھی کھل کر بات کرتے ہوئے بتایا کہ میٹرک کرنے کے بعد ہی وہ میڈیا انڈسٹری میں آ گئی تھیں۔</p>
<p>صبا نے بتایا کہ میٹرک کرنے کے بعد انہوں نے بطور استاد ملازمت شروع کی، جہاں ایک اسٹیج اداکارہ کی بھانجی پڑھتی تھیں اور مذکورہ اداکارہ ہی انہیں پہلی بار پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) لے گئی تھیں۔</p>
<p>ان کے مطابق انہوں نے 1981 میں اناؤسر کا آڈیشن دیا اور ان کے ساتھ دیگر 24 لڑکیاں بھی تھیں لیکن صرف انہیں منتخب کیا گیا۔</p>
<p>صبا فیصل کا کہنا تھا کہ اناؤسر بننے کے کچھ ہی دن بعد انہیں ان کے دانتوں کی وجہ سے نکال دیا گیا، جس پر انہوں نے دانت بھی بنوائے اور پھر پی ٹی وی کے مینیجر سے رابطہ کرکے کام دینے کا کہا۔</p>
<p>اداکارہ کا کہنا تھا کہ اناؤسر بننے کے بعد انہوں نے نیوز کاسٹنگ شروع کردی اور 1990 کی دہائی میں جب بھارتی وزیر اعظم اندر کمار گجرال پاکستانی دورے پر آئے تو انہوں نے مسلسل ان کا نام غلط پڑھا۔</p>
<p>ان کے مطابق انہوں نے خبروں میں بھارتی وزیر اعظم کو انور کمار گجرال پڑھا اور مجموعی طور پر انہوں نے 17 بار ان کا نام غلط لیا، جس پر انہیں 15 دن کے لیے معطل کردیا گیا تھا۔</p>
<p>ان کا یہ بھی کہن اتھا کہ اداکارہ اور سابق اینکر پرسن صبا فیصل نے کہا ہے کہ میرے زمانے میں خبریں پڑھتے وقت اینکر اداکاری نہیں کرتے تھے لیکن آج کے دور میں خبریں پڑھنے کے دوران اداکاری بھی کی جاتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30342939</guid>
      <pubDate>Sun, 27 Aug 2023 00:46:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/08/270045496b90d6b.jpg?r=004615" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/08/270045496b90d6b.jpg?r=004615"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
