<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 07:41:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 07:41:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فرانس نے پاکستان میں مقیم 5 اہم افغان خواتین کو پیرس بلا لیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30344203/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فرانس نے افغانستان میں طالبان کی جانب سے شدید خطرات کا سامنا کرنے والی 5 خواتین کو بحفاظت ملک سے نکال لیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فرانسیسی محکمہ امیگریشن کے سربراہ ڈیڈیئرلیشی کے مطابق یہ پانچوں خواتین آج شام  پیرس پہنچیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/4  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30343657"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیڈیئر لیشی نے کہ کہ صدارتی حکم کے تحت ان خواتین پرخصوصی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے، افغان معاشرے میں اہم مقام رکھتی ہیں یاانکے مغربی ممالک میں تعلقات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان خواتین میں سابق یونورسٹی ڈائریکٹر، سابق این جی اوکسنلٹنٹ، ٹیلی ویژن میزبان ، کابل میں خفیہ اسکول چلانے والی ایک ٹیچر اور 3 بچوں کے ہمراہ ایک اور خاتون شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانچوں خواتین 2021 میں طالبان کی واپسی اورانخلاء کے دوران افغانستان سے باہرنکلنے میں ناکام رہی تھیں تاہم بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں پناہ لی جہاں سے فرانسیسی حکام نے ان کے انخلا کا انتظام کیا ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/4  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30319863"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانس پہنچنے پران افغان خواتین کو پناہ گزین کے طور پررجسٹرکرکے رہائش بھی فراہم کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ امیگریشن کے سربراہ  کا کہنا ہے کہ ایسی ہی صورتحال سے دوچار دیگر افغان خواتین کا انخلاء بھی ممکن بنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب مہاجرین سے متعلق فرانسیسی غیر ملکی ادارے ’فرانس تیغ ایسائل‘ کی سربراہ ڈیلفین نے کہا کہ ان خواتین کا انخلاسیاسی نہیں ہے بلکہ ویزوں کے حصول کیلئے ان کی  ’مشکل لڑائی‘ کے بعد ایسا ممکن ہوا۔فی الحال ان پانچوں کو این جی او کے سینٹر میں ہی رکھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیلفین کے مطابق سیکڑوں کی تعداد میں افغان خواتین پاکستان میں روپوش ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل سال 2021میں فرانسیسی صدر میکرون نے اس عزم کا اعادہ کیا تھا کہ ان کا ملک افغانوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے، حکام کے مطابق اس وقت سے لیکر اب تک 16 ہزارافراد کو افغانستان سے نکالاجا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فرانس نے افغانستان میں طالبان کی جانب سے شدید خطرات کا سامنا کرنے والی 5 خواتین کو بحفاظت ملک سے نکال لیا۔</strong></p>
<p>خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فرانسیسی محکمہ امیگریشن کے سربراہ ڈیڈیئرلیشی کے مطابق یہ پانچوں خواتین آج شام  پیرس پہنچیں گی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/4  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30343657"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ڈیڈیئر لیشی نے کہ کہ صدارتی حکم کے تحت ان خواتین پرخصوصی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے، افغان معاشرے میں اہم مقام رکھتی ہیں یاانکے مغربی ممالک میں تعلقات ہیں۔</p>
<p>ان خواتین میں سابق یونورسٹی ڈائریکٹر، سابق این جی اوکسنلٹنٹ، ٹیلی ویژن میزبان ، کابل میں خفیہ اسکول چلانے والی ایک ٹیچر اور 3 بچوں کے ہمراہ ایک اور خاتون شامل ہیں۔</p>
<p>پانچوں خواتین 2021 میں طالبان کی واپسی اورانخلاء کے دوران افغانستان سے باہرنکلنے میں ناکام رہی تھیں تاہم بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں پناہ لی جہاں سے فرانسیسی حکام نے ان کے انخلا کا انتظام کیا ۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/4  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30319863"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>فرانس پہنچنے پران افغان خواتین کو پناہ گزین کے طور پررجسٹرکرکے رہائش بھی فراہم کی جائے گی۔</p>
<p>محکمہ امیگریشن کے سربراہ  کا کہنا ہے کہ ایسی ہی صورتحال سے دوچار دیگر افغان خواتین کا انخلاء بھی ممکن بنایا جائے گا۔</p>
<p>دوسری جانب مہاجرین سے متعلق فرانسیسی غیر ملکی ادارے ’فرانس تیغ ایسائل‘ کی سربراہ ڈیلفین نے کہا کہ ان خواتین کا انخلاسیاسی نہیں ہے بلکہ ویزوں کے حصول کیلئے ان کی  ’مشکل لڑائی‘ کے بعد ایسا ممکن ہوا۔فی الحال ان پانچوں کو این جی او کے سینٹر میں ہی رکھا جائے گا۔</p>
<p>ڈیلفین کے مطابق سیکڑوں کی تعداد میں افغان خواتین پاکستان میں روپوش ہیں۔</p>
<p>اس سے قبل سال 2021میں فرانسیسی صدر میکرون نے اس عزم کا اعادہ کیا تھا کہ ان کا ملک افغانوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے، حکام کے مطابق اس وقت سے لیکر اب تک 16 ہزارافراد کو افغانستان سے نکالاجا چکا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30344203</guid>
      <pubDate>Mon, 04 Sep 2023 16:15:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/09/041552579f7f233.png?r=155329" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/09/041552579f7f233.png?r=155329"/>
        <media:title>تصویر: اے ایف پی/ فائل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
