<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 07:25:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 07:25:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی اور فرانسیسی صدور جانتے ہیں کہ بھارت میں کیا ہو رہا ہے لیکن بات نہیں کریں گے، اروندھتی رائے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30344849/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی مصنفہ اور سماجی کارکن اروندھتی رائے نے کہا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون جانتے ہیں کہ بھارت میں کیا ہو رہا ہے لیکن وہ اس پر بات نہیں کریں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت میں منعقدہ جی 20 سربراہ اجلاس پر گہری نظر رکھنے والی اروندھتی رائے نے الجزیرہ ٹی وی کو ویڈیو لنک کے ذریعے انٹرویو دیا اور  بھارت کی اقلیتوں کی حالت کے بارے میں بات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنفہ اور سماجی کارکن اروندھتی رائے بھارت میں اقلیتوں اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حالات زندگی اور ان کو درپیش مسائل کے بارے میں آواز اٹھاتی رہتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انھوں نے کہا کہ نئی دہلی میں جی 20 اجلاس کے لئے بڑے پیمانے پر اور متنازع  مہم چلائی گئی، جس میں بہت سی کچی آبادیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ان میں رہنے والے افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ میزبانی بھارتی حکومت نہیں بلکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی حکومت کے اقلیتوں سے ظالمانہ سلوک سے متعلق سوال پر اروندھتی رائے نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ کسی کو اقلیتوں کی پرواہ ہے کیونکہ جی 20 سربراہ اجلاس بھارت میں ہورہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30343852"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انھوں نے کہا کہ ہر ملک   تجارتی معاہدہ یا فوجی سازوسامان کا معاہدہ کرنے کا خواہاں ہے، جبکہ یہاں آنے والے  سربراہان مملکت سب جانتے ہیں کہ بھارت میں کیا ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ امریکا، برطانیہ اور فرانس جیسے ممالک میں مین اسٹریم کا میڈیا، بھارت  میں اقلیتوں ( مسلمانوں) کے ساتھ جو کچھ ہوتا رہا ہے اس پر بہت تنقید کرتا رہا ہے، لیکن حکومتوں کا ایجنڈا بالکل مختلف ہے۔ لہٰذا مجھے نہیں لگتا کہ کسی کو اتنا سادہ لوح ہونے کی ضرورت ہے کہ یہاں آنے والے لوگوں کے لیے یہ کوئی مسئلہ ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی مصنفہ اور سماجی کارکن اروندھتی رائے نے کہا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون جانتے ہیں کہ بھارت میں کیا ہو رہا ہے لیکن وہ اس پر بات نہیں کریں گے۔</strong></p>
<p>بھارت میں منعقدہ جی 20 سربراہ اجلاس پر گہری نظر رکھنے والی اروندھتی رائے نے الجزیرہ ٹی وی کو ویڈیو لنک کے ذریعے انٹرویو دیا اور  بھارت کی اقلیتوں کی حالت کے بارے میں بات کی۔</p>
<p>مصنفہ اور سماجی کارکن اروندھتی رائے بھارت میں اقلیتوں اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حالات زندگی اور ان کو درپیش مسائل کے بارے میں آواز اٹھاتی رہتی ہیں۔</p>
<p>انھوں نے کہا کہ نئی دہلی میں جی 20 اجلاس کے لئے بڑے پیمانے پر اور متنازع  مہم چلائی گئی، جس میں بہت سی کچی آبادیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ان میں رہنے والے افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ میزبانی بھارتی حکومت نہیں بلکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کررہی ہے۔</p>
<p>بھارتی حکومت کے اقلیتوں سے ظالمانہ سلوک سے متعلق سوال پر اروندھتی رائے نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ کسی کو اقلیتوں کی پرواہ ہے کیونکہ جی 20 سربراہ اجلاس بھارت میں ہورہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30343852"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انھوں نے کہا کہ ہر ملک   تجارتی معاہدہ یا فوجی سازوسامان کا معاہدہ کرنے کا خواہاں ہے، جبکہ یہاں آنے والے  سربراہان مملکت سب جانتے ہیں کہ بھارت میں کیا ہو رہا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ امریکا، برطانیہ اور فرانس جیسے ممالک میں مین اسٹریم کا میڈیا، بھارت  میں اقلیتوں ( مسلمانوں) کے ساتھ جو کچھ ہوتا رہا ہے اس پر بہت تنقید کرتا رہا ہے، لیکن حکومتوں کا ایجنڈا بالکل مختلف ہے۔ لہٰذا مجھے نہیں لگتا کہ کسی کو اتنا سادہ لوح ہونے کی ضرورت ہے کہ یہاں آنے والے لوگوں کے لیے یہ کوئی مسئلہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30344849</guid>
      <pubDate>Sat, 09 Sep 2023 00:47:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/09/09003758aa8fd62.webp?r=004717" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/09/09003758aa8fd62.webp?r=004717"/>
        <media:title>بھارتی مصنفہ اور سماجی کارکن اروندھتی رائے، فوٹو ــ فائل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
