<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 01:02:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 01:02:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لیبیا میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 20 ہزار تک پہنچنے کا خدشہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30345685/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لیبیا میں آنے والے سیلاب نے ہر جانب تباہی مچائی ہوئی ہے، تباہ شدہ شہر ڈیرنا کے رہائشی اپنے پیاروں کو تلاش کررہے ہیں کیونکہ سیلابی ریلے میں ہزاروں افراد بہہ چکے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحیرہ روم سے متصل ایک شہر کی جانب آنے والے پانی کے بہاؤ نے تباہی مچادی، جس کے نتیجے میں شہر کے ڈیم ٹوٹ گئے، کثیر المنزلہ عمارتیں منہدم ہوگئیں، ہزاروں افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت داخلہ کے ترجمان لیفٹیننٹ طارق الخراز نے بدھ کے روز خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بحیرہ روم کے شہر میں اب تک 3,840 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، جن میں سے 3,190 کی پہلے دن تدفین کی جاچکی ہے، ان میں 400 غیر ملکی تھے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق سوڈان اور مصر سے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2023/09/14131519db76ba5.png'  alt=' تصویر: روئٹرز ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;تصویر: روئٹرز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقی لیبیا میں ایوی ایشن کے وزیر ہچم ابو چکیوت نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اب تک 5,300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، یہ تعداد نمایاں طور پر بڑھنے کا امکان ہے اور یہ دوگنی بھی ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درنہ شہر کے میئر عبدالمنعم الغیثی نے سعودی میڈیا کو بتایا کہ سیلاب سے تباہ ہونے والے اضلاع کی تعداد کی بنیاد پر شہر میں ہلاکتوں کی تخمینہ تعداد 18ہزار  سے 20ہزار کے درمیان ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے لاپتہ افراد کی تعداد 10 ہزار بتائی ہے جبکہ اقوام متحدہ کے امدادی ادارے نے کہا کہ یہ تعداد کم از کم 5000 ہے۔ سمندر کے کنارے کپڑے، کھلونے، فرنیچر، جوتے اور دیگر سامان بکھرا پڑا، جو گھر سیلابی ریلے میں بہہ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لیبیا میں آنے والے سیلاب نے ہر جانب تباہی مچائی ہوئی ہے، تباہ شدہ شہر ڈیرنا کے رہائشی اپنے پیاروں کو تلاش کررہے ہیں کیونکہ سیلابی ریلے میں ہزاروں افراد بہہ چکے ہیں۔</strong></p>
<p>بحیرہ روم سے متصل ایک شہر کی جانب آنے والے پانی کے بہاؤ نے تباہی مچادی، جس کے نتیجے میں شہر کے ڈیم ٹوٹ گئے، کثیر المنزلہ عمارتیں منہدم ہوگئیں، ہزاروں افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔</p>
<p>وزارت داخلہ کے ترجمان لیفٹیننٹ طارق الخراز نے بدھ کے روز خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بحیرہ روم کے شہر میں اب تک 3,840 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، جن میں سے 3,190 کی پہلے دن تدفین کی جاچکی ہے، ان میں 400 غیر ملکی تھے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق سوڈان اور مصر سے تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2023/09/14131519db76ba5.png'  alt=' تصویر: روئٹرز ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>تصویر: روئٹرز</figcaption>
    </figure></p>
<p>مشرقی لیبیا میں ایوی ایشن کے وزیر ہچم ابو چکیوت نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اب تک 5,300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، یہ تعداد نمایاں طور پر بڑھنے کا امکان ہے اور یہ دوگنی بھی ہوسکتی ہے۔</p>
<p>درنہ شہر کے میئر عبدالمنعم الغیثی نے سعودی میڈیا کو بتایا کہ سیلاب سے تباہ ہونے والے اضلاع کی تعداد کی بنیاد پر شہر میں ہلاکتوں کی تخمینہ تعداد 18ہزار  سے 20ہزار کے درمیان ہوسکتی ہے۔</p>
<p>حکام نے لاپتہ افراد کی تعداد 10 ہزار بتائی ہے جبکہ اقوام متحدہ کے امدادی ادارے نے کہا کہ یہ تعداد کم از کم 5000 ہے۔ سمندر کے کنارے کپڑے، کھلونے، فرنیچر، جوتے اور دیگر سامان بکھرا پڑا، جو گھر سیلابی ریلے میں بہہ گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30345685</guid>
      <pubDate>Thu, 14 Sep 2023 19:16:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/09/14131143321125c.png?r=131441" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/09/14131143321125c.png?r=131441"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/09/141313093512b14.png?r=131441" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/09/141313093512b14.png?r=131441"/>
        <media:title>تصویر: روئٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
