<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 19:06:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 19:06:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسپین: ٹی وی نشریات کے دوران خاتون صحافی کو ہراساں کرنیوالا شخص گرفتار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30345701/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسپین میں لائیو ٹیلی ویژن نشریات کے دوران خاتون صحافی کو ہراساں کرنے والے شخص کو گرفتار کرلیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاتون صحافی عیسی بلادو کو جنسی طور پر ہراساں ایسے موقع پر کیا، جب وہ میڈرڈ میں ڈکیتی کے ایک واقعے کی کوریج میں مصروف تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاتون سڑک پر کھڑی رپورٹنگ میں مصروف تھیں کہ ایک شخص پیچھے سے ان کے قریب آیا اور ان کی رضا مندی کے بٖغیر انہیں ہاتھ لگایا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جس پر لوگوں کی جانب سے خوب تنقید کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Yolanda_Diaz_/status/1701592320645210180?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ واقعے کے حوالے سے رپورٹر سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ایک لائیو ٹرانسمیشن کے بیچ میں تھی اور اپنی رپورٹنگ جاری رکھنے کی کوشش کر رہی تھیں کہ میزبان کی جانب سے اصرار کیا کہ سامنے موجود شخص کو کیمرے کے سامنے لائیں کیونکہ وہ اس آدمی کا سامنا کرنے سے ہچکچا رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد جیسے ہی وہ شخص قریب آیا اس نے اچانک خاتون غیرمناسب طریقے سے چھوا، اس دوران وہ اپنے کام کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ پھر وہ شخص خاتون صحافی کے سر کو چھونے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے چلا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ واقعے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان میں پولیس نے کہا کہ اس شخص کو براہ راست نشریات کے دروان خاتون رپورٹر کے ساتھ جنسی ہراساں کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے پر لیبر منسٹر یولینڈا ڈیاز نے کہا کہ ایسے افراد کو سزا دیے بغیر نہیں  چھوڑنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مردوں کے اس رویے کی وجہ سے ہی خواتین صحافی جنسی ہراساںی کا شکار بنتی ہیں۔ بغیر رضامندی سے چھونا جنسی تشدد کے ضمن میں آتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسپین میں لائیو ٹیلی ویژن نشریات کے دوران خاتون صحافی کو ہراساں کرنے والے شخص کو گرفتار کرلیا ہے۔</strong></p>
<p>خاتون صحافی عیسی بلادو کو جنسی طور پر ہراساں ایسے موقع پر کیا، جب وہ میڈرڈ میں ڈکیتی کے ایک واقعے کی کوریج میں مصروف تھیں۔</p>
<p>خاتون سڑک پر کھڑی رپورٹنگ میں مصروف تھیں کہ ایک شخص پیچھے سے ان کے قریب آیا اور ان کی رضا مندی کے بٖغیر انہیں ہاتھ لگایا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جس پر لوگوں کی جانب سے خوب تنقید کی گئی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Yolanda_Diaz_/status/1701592320645210180?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>مذکورہ واقعے کے حوالے سے رپورٹر سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ایک لائیو ٹرانسمیشن کے بیچ میں تھی اور اپنی رپورٹنگ جاری رکھنے کی کوشش کر رہی تھیں کہ میزبان کی جانب سے اصرار کیا کہ سامنے موجود شخص کو کیمرے کے سامنے لائیں کیونکہ وہ اس آدمی کا سامنا کرنے سے ہچکچا رہی تھی۔</p>
<p>اس کے بعد جیسے ہی وہ شخص قریب آیا اس نے اچانک خاتون غیرمناسب طریقے سے چھوا، اس دوران وہ اپنے کام کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ پھر وہ شخص خاتون صحافی کے سر کو چھونے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے چلا گیا۔</p>
<p>مذکورہ واقعے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان میں پولیس نے کہا کہ اس شخص کو براہ راست نشریات کے دروان خاتون رپورٹر کے ساتھ جنسی ہراساں کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔</p>
<p>واقعے پر لیبر منسٹر یولینڈا ڈیاز نے کہا کہ ایسے افراد کو سزا دیے بغیر نہیں  چھوڑنا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مردوں کے اس رویے کی وجہ سے ہی خواتین صحافی جنسی ہراساںی کا شکار بنتی ہیں۔ بغیر رضامندی سے چھونا جنسی تشدد کے ضمن میں آتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30345701</guid>
      <pubDate>Thu, 14 Sep 2023 14:47:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/09/14142547682e8cf.png?r=142709" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/09/14142547682e8cf.png?r=142709"/>
        <media:title>اسکرین گریب (ایکس)
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
