<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 17:45:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 17:45:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خواتین کی جیل سے آنے والی آوازوں نے علاقہ مکینوں کی زندگی مشکل کردی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30345763/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسکاٹ لینڈ کے ایک رہائشی علاقے میں نئی بنائی گئی جیل کے اردگرد رہنے والے شہری وہاں قید خواتین کی گالیوں اور دھمکیوں سے تنگ آگئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پچیاسی ملین پاؤنڈ لاگت سے بنی خواتین کی اس نئی ”سُپر جیل“ کے ساتھ رہنے والوں کا کہنا ہے کہ انہیں قیدیوں کی چیخ و پکار، گالیاں اور ایک دوسرے کو قتل کرنے کی دھمکیاں مسلسل سنائی دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسکاٹ لینڈ میں ”ایچ ایم پی اسٹرلنگ“ نامی اس جیل کے گرد رہنے والے مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ جب وہ اپنے کتے گھمانے نکالتے ہیں انہیں مغلظات سے نوازا جاتا ہے، اور وہ قیدیوں کو ہر وقت لڑتے ہوئے سن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جیل مئی میں بنائی گئی تھی، اور اسے ایچ ایم پی کارنٹن ویل جیل کی جگہ بنایا گیا تھا، جو جنوری میں اس وقت سرخیوں میں آئی تھی جب ایک ”دو بار عصمت دری کے مجرم خواجہ سرا“ اسلا برائسن کو وہاں رکھا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30345444/"&gt;پائلٹ نے 165 افراد سے بھرا مسافر طیارہ کھیتوں میں اتار دیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جیل کمپلیکس ایک پرسکون ہاؤسنگ اسٹیٹ کے ساتھ  واقع ہے اور شہریوں کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے ان کی زندگی عذاب ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2023/09/14204917a4f97f7.jpg'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہاں کے 67  سالہ رہائشی مورس اینڈرسن کا کہنا ہے کہ ’میں اپنے پچھلے باغ میں گالیاں یا یہ سنے بغیرنہیں بیٹھ سکتا کہ ”میں تمہیں مار ڈالوں گی“۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’ایک عورت دو گھنٹے سے زیادہ سیٹیاں بجاتی اور چلاتی رہی تھی۔ یہ ہر وقت جاری رہتا ہے، یہ بس نہیں رکتا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ یہاں فیملیز میں چھوٹے بچے بھی ہیں، جو اپنے لانز میں کھیل نہیں سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مورس نے بتایا کہ وہ اپنے کتے کو سیر کے لیے باہر لے کر گئے تو خواتین قیدیوں نے ان پر چلانا شروع کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30345756"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ’میں نے اپنی دائیں طرف دیکھا تو پایا کہ ایک عورت مجھے دیکھ رہی ہے۔ وہ چلائی، ’‘”بڈھے کیا کر رہا ہے“ یہ تقریباً صبح آٹھ بجے کا وقت تھا۔ میں اب اپنے کتے کو کسی اور راستے پر گھماؤں گا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواتین کی یہ جیل برج آف ایلن اور کارنٹن قصبوں کے درمیان واقع ہے اور اسے کیمپس کے انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے، جس کے دروازے یا کھڑکیوں پر کوئی سلاخیں نہیں ہیں۔ اس کا مقصد قیدیوں کو فطرت تک زیادہ رسائی کے ساتھ پرسکون ماحول فراہم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30345279/"&gt;مراکش کے بعد اسرائیل میں تباہ کُن زلزلے کی پیشگوئی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں صرف 100 قیدیوں کی گنجائش ہے، اس کے باوجود پڑوس کی گلیوں میں رہنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں شور کے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مورس کا کہنا ہے کہ جیل بنانے سے پہلے رہائشیوں کو یہ نہیں بتایا گیا کہ اس کے کیا نتائج ہوں گے، ہمیں گمراہ رکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30345701"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب علاقے کے رہائشیوں نے حکام کو ایک شکایتی خط لکھا ہے اور غلط بیانی پر جواب طلب کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسکاٹ لینڈ کے ایک رہائشی علاقے میں نئی بنائی گئی جیل کے اردگرد رہنے والے شہری وہاں قید خواتین کی گالیوں اور دھمکیوں سے تنگ آگئے ہیں۔</strong></p>
<p>پچیاسی ملین پاؤنڈ لاگت سے بنی خواتین کی اس نئی ”سُپر جیل“ کے ساتھ رہنے والوں کا کہنا ہے کہ انہیں قیدیوں کی چیخ و پکار، گالیاں اور ایک دوسرے کو قتل کرنے کی دھمکیاں مسلسل سنائی دیتی ہیں۔</p>
<p>اسکاٹ لینڈ میں ”ایچ ایم پی اسٹرلنگ“ نامی اس جیل کے گرد رہنے والے مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ جب وہ اپنے کتے گھمانے نکالتے ہیں انہیں مغلظات سے نوازا جاتا ہے، اور وہ قیدیوں کو ہر وقت لڑتے ہوئے سن سکتے ہیں۔</p>
<p>یہ جیل مئی میں بنائی گئی تھی، اور اسے ایچ ایم پی کارنٹن ویل جیل کی جگہ بنایا گیا تھا، جو جنوری میں اس وقت سرخیوں میں آئی تھی جب ایک ”دو بار عصمت دری کے مجرم خواجہ سرا“ اسلا برائسن کو وہاں رکھا گیا تھا۔</p>
<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.aaj.tv/news/30345444/">پائلٹ نے 165 افراد سے بھرا مسافر طیارہ کھیتوں میں اتار دیا</a></strong></p>
<p>یہ جیل کمپلیکس ایک پرسکون ہاؤسنگ اسٹیٹ کے ساتھ  واقع ہے اور شہریوں کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے ان کی زندگی عذاب ہوگئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2023/09/14204917a4f97f7.jpg'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>وہاں کے 67  سالہ رہائشی مورس اینڈرسن کا کہنا ہے کہ ’میں اپنے پچھلے باغ میں گالیاں یا یہ سنے بغیرنہیں بیٹھ سکتا کہ ”میں تمہیں مار ڈالوں گی“۔‘</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’ایک عورت دو گھنٹے سے زیادہ سیٹیاں بجاتی اور چلاتی رہی تھی۔ یہ ہر وقت جاری رہتا ہے، یہ بس نہیں رکتا‘۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ یہاں فیملیز میں چھوٹے بچے بھی ہیں، جو اپنے لانز میں کھیل نہیں سکتے۔</p>
<p>مورس نے بتایا کہ وہ اپنے کتے کو سیر کے لیے باہر لے کر گئے تو خواتین قیدیوں نے ان پر چلانا شروع کردیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30345756"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ’میں نے اپنی دائیں طرف دیکھا تو پایا کہ ایک عورت مجھے دیکھ رہی ہے۔ وہ چلائی، ’‘”بڈھے کیا کر رہا ہے“ یہ تقریباً صبح آٹھ بجے کا وقت تھا۔ میں اب اپنے کتے کو کسی اور راستے پر گھماؤں گا۔‘</p>
<p>خواتین کی یہ جیل برج آف ایلن اور کارنٹن قصبوں کے درمیان واقع ہے اور اسے کیمپس کے انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے، جس کے دروازے یا کھڑکیوں پر کوئی سلاخیں نہیں ہیں۔ اس کا مقصد قیدیوں کو فطرت تک زیادہ رسائی کے ساتھ پرسکون ماحول فراہم کرنا ہے۔</p>
<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.aaj.tv/news/30345279/">مراکش کے بعد اسرائیل میں تباہ کُن زلزلے کی پیشگوئی</a></strong></p>
<p>اس میں صرف 100 قیدیوں کی گنجائش ہے، اس کے باوجود پڑوس کی گلیوں میں رہنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں شور کے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔</p>
<p>مورس کا کہنا ہے کہ جیل بنانے سے پہلے رہائشیوں کو یہ نہیں بتایا گیا کہ اس کے کیا نتائج ہوں گے، ہمیں گمراہ رکھا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30345701"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اب علاقے کے رہائشیوں نے حکام کو ایک شکایتی خط لکھا ہے اور غلط بیانی پر جواب طلب کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30345763</guid>
      <pubDate>Thu, 14 Sep 2023 21:01:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/09/14205316e46e419.jpg?r=205447" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/09/14205316e46e419.jpg?r=205447"/>
        <media:title>علامتی تصویر: روئٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
