<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 06:15:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 06:15:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانیہ میں کتوں کی ایک مخصوص نسل پر پابندی عائد</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30345909/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برطانیہ نے رواں سال کے آخر تک امریکی کتوں پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کردیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق برطانیہ میں جمعرات کے روز کتے کے ایک اور مشتبہ حملے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ جس کے بعد برطانوی وزیر اعظم رشی سنک نے کہا کہ  اس سال کے آخر تک امریکی ایکس ایل خطرناک کتوں پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ دو روز قبل بھی برطانیہ کے شہر برمنگھم میں کتے نے 11 سالہ لڑکی پر حملہ کیا جس سے وہ زخمی ہوگئی تھی، کتے نے جس وقت بچی پر حملہ کیا وہ  اپنی بہن کے ساتھ دکانوں کی طرف جارہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لڑکی پر کتے کے حملے کے بعد پولیس نے ایک 60 سالہ شخص کو بے قابو خطرناک کتا رکھنے کے شبے میں گرفتار کیا  تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ کی جانب سے رواں سال کے آخر تک امریکی کتوں پر پابندی عائد کرنے کا اعلان مذکورہ واقعات کے  بعد سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں :&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30342187"&gt;ہزاروں ڈالرز خرچ کر کے کُتے کا لباس بنوانے والا جاپانی شہری اب کیا سوچتا ہے&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30345718/"&gt;کرناٹک: 58 سال قبل بھینسیں چرانے کے الزام میں ایک شخص گرفتار&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30345444/"&gt;پائلٹ نے 165 افراد سے بھرا مسافر طیارہ کھیتوں میں اتار دیا&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم  نے کہا کہ وہ کتوں کے سنگین حملوں کے سلسلے کے بارے میں ”قوم کی ہولناکی میں شریک ہیں“۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برطانیہ نے رواں سال کے آخر تک امریکی کتوں پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کردیا۔</strong></p>
<p>خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق برطانیہ میں جمعرات کے روز کتے کے ایک اور مشتبہ حملے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ جس کے بعد برطانوی وزیر اعظم رشی سنک نے کہا کہ  اس سال کے آخر تک امریکی ایکس ایل خطرناک کتوں پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔</p>
<p>یاد رہے کہ دو روز قبل بھی برطانیہ کے شہر برمنگھم میں کتے نے 11 سالہ لڑکی پر حملہ کیا جس سے وہ زخمی ہوگئی تھی، کتے نے جس وقت بچی پر حملہ کیا وہ  اپنی بہن کے ساتھ دکانوں کی طرف جارہی تھی۔</p>
<p>لڑکی پر کتے کے حملے کے بعد پولیس نے ایک 60 سالہ شخص کو بے قابو خطرناک کتا رکھنے کے شبے میں گرفتار کیا  تھا۔</p>
<p>برطانیہ کی جانب سے رواں سال کے آخر تک امریکی کتوں پر پابندی عائد کرنے کا اعلان مذکورہ واقعات کے  بعد سامنے آیا ہے۔</p>
<p><strong>یہ بھی پڑھیں :</strong></p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30342187">ہزاروں ڈالرز خرچ کر کے کُتے کا لباس بنوانے والا جاپانی شہری اب کیا سوچتا ہے</a></p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30345718/">کرناٹک: 58 سال قبل بھینسیں چرانے کے الزام میں ایک شخص گرفتار</a></p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30345444/">پائلٹ نے 165 افراد سے بھرا مسافر طیارہ کھیتوں میں اتار دیا</a></p>
<p>اس منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم  نے کہا کہ وہ کتوں کے سنگین حملوں کے سلسلے کے بارے میں ”قوم کی ہولناکی میں شریک ہیں“۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30345909</guid>
      <pubDate>Fri, 15 Sep 2023 23:13:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رویئٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/09/151827506b1a020.webp?r=183805" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/09/151827506b1a020.webp?r=183805"/>
        <media:title>فوٹو ــ روئٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
