<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 23:18:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 23:18:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت: نپاہ وائرس کے باعث لاک ڈاؤن کی صورتحال، ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30345987/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی ریاست کیرالا میں نپاہ وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے، ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیرالا کے کوزی کوڈ میں نپاہ وائرس کے اب تک 4 کیسز سامنے آچکے ہیں، جبکہ دو افراد کی موت ہوچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صورتحال کی وجہ سے کنور، وائناڈ اور ملاپورم میں الرٹ جاری کرتے ہوئے ان علاقوں اور یہاں کے اسپتالوں میں ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوزی کوڈ کے ضلع مجسٹریٹ نے مذکورہ 7 پنچایتوں تعلیمی ادارے، بینک اور سرکاری اداروں کو بند رکھنے کا حکم دیا ہے، جبکہ کیرالا میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی کی ٹیم نپاہ وائرس کی تحقیقات کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این آئی وی ٹیم کوزی کوڈ میڈیکل کالج میں چمگادڑوں کا سروے بھی کرے گی، جبکہ نپاہ وائرس زونوٹک انفیکشن کی ایک قسم ہے، جو جانوروں کے ذریعے پھیلتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے ڈبلیو ایچ او نے بتایا کہ نپاہ وائرس پہلی بار سنہ 1998 میں ملائیشیا کے گاؤں سنگائی نپاہ میں پایا گیا تھا اور گاؤں کے نام پر اس کا نام نپاہ رکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر یہ وائرس چمگادڑوں اور خنزیروں سے پھیلتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر وائرس سے متاثرہ چمگادڑ کوئی پھل کھاتا ہے اور انسان یا جانور وہی پھل یا سبزی کھاتا ہے، تو وہ بھی اس کا شکار ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی ریاست کیرالا میں نپاہ وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے، ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>کیرالا کے کوزی کوڈ میں نپاہ وائرس کے اب تک 4 کیسز سامنے آچکے ہیں، جبکہ دو افراد کی موت ہوچکی ہے۔</p>
<p>صورتحال کی وجہ سے کنور، وائناڈ اور ملاپورم میں الرٹ جاری کرتے ہوئے ان علاقوں اور یہاں کے اسپتالوں میں ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p>کوزی کوڈ کے ضلع مجسٹریٹ نے مذکورہ 7 پنچایتوں تعلیمی ادارے، بینک اور سرکاری اداروں کو بند رکھنے کا حکم دیا ہے، جبکہ کیرالا میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی کی ٹیم نپاہ وائرس کی تحقیقات کرے گی۔</p>
<p>این آئی وی ٹیم کوزی کوڈ میڈیکل کالج میں چمگادڑوں کا سروے بھی کرے گی، جبکہ نپاہ وائرس زونوٹک انفیکشن کی ایک قسم ہے، جو جانوروں کے ذریعے پھیلتا ہے۔</p>
<p>اس حوالے سے ڈبلیو ایچ او نے بتایا کہ نپاہ وائرس پہلی بار سنہ 1998 میں ملائیشیا کے گاؤں سنگائی نپاہ میں پایا گیا تھا اور گاؤں کے نام پر اس کا نام نپاہ رکھا گیا۔</p>
<p>عام طور پر یہ وائرس چمگادڑوں اور خنزیروں سے پھیلتا ہے۔</p>
<p>اگر وائرس سے متاثرہ چمگادڑ کوئی پھل کھاتا ہے اور انسان یا جانور وہی پھل یا سبزی کھاتا ہے، تو وہ بھی اس کا شکار ہو جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30345987</guid>
      <pubDate>Sat, 16 Sep 2023 11:09:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/09/16110743e5e9b2b.png?r=110751" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/09/16110743e5e9b2b.png?r=110751"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
