<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 05:56:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 05:56:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سنگاپور منی لانڈرنگ کے بڑے اسکینڈل کی زد میں آگیا، 10 گرفتار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30346274/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سنگاپور منی لانڈرنگ کے ایک ارب سے زائد بڑے اسکینڈل کی زد میں آگیا، جس کے پیش نظر اب تک 10 گرفتاریاں ہوچکی ہیں، اس سے ملک کی بے داغ ساکھ خطرے میں پڑ گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق سنگاپور پولیس نے گزشتہ ماہ 10 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیا ہے، جن کی عمریں 31 سے 44 سال کے درمیان ہیں۔ ان افراد کی رہائش گاہوں پر چھاپے کے دوران رولس رائس کاروں سمیت پرتعیش اشیاء ضبط کر لیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام مشتبہ افراد کا تعلق مشرقی چین کے فوجیان سے ہے لیکن ان میں قبرصی، ترک، کمبوڈیا اور وانواتوان پاسپورٹ رکھنے والے بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://www.aljazeera.com/wp-content/uploads/2023/09/2023-08-30T120023Z_1085361249_RC20Y2A3Q9K7_RTRMADP_3_SINGAPORE-CRIME-1695004301.jpg?w=770&amp;amp;resize=770%2C512&amp;amp;quality=80'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنگاپور پولیس فورس نے الزام عائد کیا ہے کہ ضبط کیے گئے اثاثے بیرون ملک کیے جانے والے منظم جرائم سے حاصل کیے گئے ہیں، جن کی آمدنی سنگاپور میں لائی گئی اور ملک کے مالیاتی اداروں کے ذریعے فلٹر کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کیس کے سامنے آنے کے بعد سنگاپور کی ساکھ پر خطرے میں پڑھ گئی ہے، جہاں جرائم کی شرح کم ہے اور یہ ملک کی حکمران جماعت کے لیے بھی ناخوشگوار خبر ہے، جو گزشتہ چند مہینوں میں سیاسی اسکینڈلوں کی زد میں ہے، جس میں وزیر ٹرانسپورٹ بھی بدعنوانی کی تحقیقات میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق منی لانڈرنگ کرنے والوں کے لیے جنوب مشرقی ایشیائی سٹی اسٹیٹ ایک پرکشش آپشن ہو سکتا ہے کیونکہ اس کی حیثیت ایک بڑے مالیاتی مرکز کے طور پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے ایک سینئر ریسرچ فیلو وو جون جی نے بتایا کہ “ہماری سرحدوں سے گزرنے والے مالیاتی لین دین کی بڑی مقدار ریگولیٹرز کے لیے غیر قانونی لین دین کو ختم کرنا مشکل بنا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ رئیل اسٹیٹ اور کریپٹو کرنسی سے لے کر کیسینو اور لسٹڈ کمپنیوں تک مختلف چینلز کے ذریعے منی لانڈرنگ کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سنگاپور منی لانڈرنگ کے ایک ارب سے زائد بڑے اسکینڈل کی زد میں آگیا، جس کے پیش نظر اب تک 10 گرفتاریاں ہوچکی ہیں، اس سے ملک کی بے داغ ساکھ خطرے میں پڑ گئی ہے۔</strong></p>
<p>غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق سنگاپور پولیس نے گزشتہ ماہ 10 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیا ہے، جن کی عمریں 31 سے 44 سال کے درمیان ہیں۔ ان افراد کی رہائش گاہوں پر چھاپے کے دوران رولس رائس کاروں سمیت پرتعیش اشیاء ضبط کر لیں ہیں۔</p>
<p>تمام مشتبہ افراد کا تعلق مشرقی چین کے فوجیان سے ہے لیکن ان میں قبرصی، ترک، کمبوڈیا اور وانواتوان پاسپورٹ رکھنے والے بھی شامل ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://www.aljazeera.com/wp-content/uploads/2023/09/2023-08-30T120023Z_1085361249_RC20Y2A3Q9K7_RTRMADP_3_SINGAPORE-CRIME-1695004301.jpg?w=770&amp;resize=770%2C512&amp;quality=80'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>سنگاپور پولیس فورس نے الزام عائد کیا ہے کہ ضبط کیے گئے اثاثے بیرون ملک کیے جانے والے منظم جرائم سے حاصل کیے گئے ہیں، جن کی آمدنی سنگاپور میں لائی گئی اور ملک کے مالیاتی اداروں کے ذریعے فلٹر کی گئی۔</p>
<p>اس کیس کے سامنے آنے کے بعد سنگاپور کی ساکھ پر خطرے میں پڑھ گئی ہے، جہاں جرائم کی شرح کم ہے اور یہ ملک کی حکمران جماعت کے لیے بھی ناخوشگوار خبر ہے، جو گزشتہ چند مہینوں میں سیاسی اسکینڈلوں کی زد میں ہے، جس میں وزیر ٹرانسپورٹ بھی بدعنوانی کی تحقیقات میں شامل ہیں۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق منی لانڈرنگ کرنے والوں کے لیے جنوب مشرقی ایشیائی سٹی اسٹیٹ ایک پرکشش آپشن ہو سکتا ہے کیونکہ اس کی حیثیت ایک بڑے مالیاتی مرکز کے طور پر ہے۔</p>
<p>نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے ایک سینئر ریسرچ فیلو وو جون جی نے بتایا کہ “ہماری سرحدوں سے گزرنے والے مالیاتی لین دین کی بڑی مقدار ریگولیٹرز کے لیے غیر قانونی لین دین کو ختم کرنا مشکل بنا سکتی ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ رئیل اسٹیٹ اور کریپٹو کرنسی سے لے کر کیسینو اور لسٹڈ کمپنیوں تک مختلف چینلز کے ذریعے منی لانڈرنگ کی جا سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30346274</guid>
      <pubDate>Mon, 18 Sep 2023 10:19:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/09/181013575954bd8.png?r=101425" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/09/181013575954bd8.png?r=101425"/>
        <media:title>تصویر: روئٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
