<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 03:56:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 03:56:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حریت رہنما عمر فاروق کی نظربندی 4 سال بعد ختم، خطبہ جمعہ بھی دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30347090/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق کی چار برس بعد نظر بندی ختم کر دی گئی جس کے بعد انہوں نے سرینگر کی جامع مسجد میں جمعے کا خطبہ بھی دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;50 سالہ حریت رہنما نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ جمعے کی صبح ان کے گھر کے اطراف سے پولیس کا محاصرہ ختم کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ میر واعظ عمر فاروق کو 5 اگست 2019  کو مقبوضہ کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کرنے کے فیصلے کے بعد گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حریت رہنما نے اپنی نظر بندی کے احکامات کو عدالت میں چیلنج کر رکھا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی عدالت نے 15 ستمبر کو اس حوالے سے انتظامیہ کو جواب داخل کرانے کے لیے چار ہفتوں کی مہلت دی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق کی چار برس بعد نظر بندی ختم کر دی گئی جس کے بعد انہوں نے سرینگر کی جامع مسجد میں جمعے کا خطبہ بھی دیا۔</strong></p>
<p>50 سالہ حریت رہنما نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ جمعے کی صبح ان کے گھر کے اطراف سے پولیس کا محاصرہ ختم کیا گیا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ میر واعظ عمر فاروق کو 5 اگست 2019  کو مقبوضہ کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کرنے کے فیصلے کے بعد گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔</p>
<p>حریت رہنما نے اپنی نظر بندی کے احکامات کو عدالت میں چیلنج کر رکھا تھا۔</p>
<p>بھارتی عدالت نے 15 ستمبر کو اس حوالے سے انتظامیہ کو جواب داخل کرانے کے لیے چار ہفتوں کی مہلت دی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30347090</guid>
      <pubDate>Fri, 22 Sep 2023 15:38:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/09/2215074805f8b80.webp?r=151108" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/09/2215074805f8b80.webp?r=151108"/>
        <media:title>فوٹو — وائس آف امریکا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
