<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 18:56:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 18:56:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سپریم کورٹ کا وقت ضائع کرنے پر انکم ٹیکس کمشنر پر 10 ہزار روپے جرمانہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30347870/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سپریم کورٹ نے ٹیکس ادا کرنے والے افراد کے لئے جاری کردہ تمام نوٹیفیکیشنز فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ویب سائٹ پر شائع کرنے کا حکم دے دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فاٸز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے ٹیکس کی رقم کا دوبارہ تخمینہ لگانے کے بارے میں انکم ٹیکس کمشنر کی نظرثانی درخواست پرسماعت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے محکمہ ریونیو پشاور کے لیگل افسر پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس کا دوبارہ تخمینہ لگانے کا اختیار کمشنر ریونیو کو حاصل ہے، یہ اختیار ڈپٹی کمشنر کیسے استعمال کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کرنے میں بڑی تیزی دکھائی جاتی ہے،  جب مقدمات چلائے جاتے ہیں توعدالت کی معاونت ہی نہیں کی جاتی،  ٹیکس اکھٹا کرنے والی ایجنسی کو انتہائی شفاف ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت عالیہ نے ریمارکس دیے کہ ملک چلانے کے لئے عوام سے ٹیکس اکھٹا کیا جاتا ہے، ٹیکس اتھارٹی شفافیت لاکر عوامی اعتماد بحال نہیں کرے گی تو مشکلات پیدا ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے پشاور ریونیو کے انکم ٹیکس کمشنر کی نظرثانی درخواست خارج کرتے ہوئے عدالتی وقت ضائع کرنے پر 10 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کردیا اور ٹیکس دہندگان کے لئے جاری کیے جانے والے تمام نوٹیفکیشنز ایف بی آر ویب سائٹ پر جاری کرنے کا حکم دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سپریم کورٹ نے ٹیکس ادا کرنے والے افراد کے لئے جاری کردہ تمام نوٹیفیکیشنز فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ویب سائٹ پر شائع کرنے کا حکم دے دیا۔</strong></p>
<p>چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فاٸز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے ٹیکس کی رقم کا دوبارہ تخمینہ لگانے کے بارے میں انکم ٹیکس کمشنر کی نظرثانی درخواست پرسماعت کی۔</p>
<p>جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے محکمہ ریونیو پشاور کے لیگل افسر پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس کا دوبارہ تخمینہ لگانے کا اختیار کمشنر ریونیو کو حاصل ہے، یہ اختیار ڈپٹی کمشنر کیسے استعمال کر سکتا ہے۔</p>
<p>چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کرنے میں بڑی تیزی دکھائی جاتی ہے،  جب مقدمات چلائے جاتے ہیں توعدالت کی معاونت ہی نہیں کی جاتی،  ٹیکس اکھٹا کرنے والی ایجنسی کو انتہائی شفاف ہونا چاہیے۔</p>
<p>عدالت عالیہ نے ریمارکس دیے کہ ملک چلانے کے لئے عوام سے ٹیکس اکھٹا کیا جاتا ہے، ٹیکس اتھارٹی شفافیت لاکر عوامی اعتماد بحال نہیں کرے گی تو مشکلات پیدا ہوں گی۔</p>
<p>سپریم کورٹ نے پشاور ریونیو کے انکم ٹیکس کمشنر کی نظرثانی درخواست خارج کرتے ہوئے عدالتی وقت ضائع کرنے پر 10 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کردیا اور ٹیکس دہندگان کے لئے جاری کیے جانے والے تمام نوٹیفکیشنز ایف بی آر ویب سائٹ پر جاری کرنے کا حکم دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30347870</guid>
      <pubDate>Wed, 27 Sep 2023 14:09:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (افضل جاوید)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/09/27140934b3c6c8d.jpg?r=140940" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/09/27140934b3c6c8d.jpg?r=140940"/>
        <media:title>فوٹو — فائل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
