<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 01:22:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 01:22:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قومی ایئرلائن کے اربوں روپے خسارے میں جہازوں کے گراؤنڈنگ کا اہم کردار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30348693/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قومی ایئرلائن کو ہوئے اربوں روپے خسارے میں جہازوں کی گراؤنڈنگ نے اہم کردار ادا کیا ہے، جہازوں کے طویل گراؤنڈنگ سے پی آئی اے کو 38 ارب 40 کروڑ کا ریکارڈ نقصان ہوا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آئی اے کی آڈٹ رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق پی آئی اے کے انجینئرنگ اینڈ مینٹیننس ڈیپارٹمنٹ نے ہوائی جہاز عارضی گراؤنڈنگ اور شیڈول مینٹیننس کی وجہ سے گراؤنڈ رکھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مینٹیننس پلان کے مطابق انتظامیہ نے عارضی گراؤنڈنگ اور شیڈول مینٹیننس کے لیے 19 سے 28 دن کا تخمینہ وقت مختص کیا۔ انتظامیہ کی جانب سے سست روی کے نتیجے میں طیاروں کی 905 دن تک طویل گراؤنڈنگ ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آڈٹ رپورٹ کے مطابق پی آئی اے کے اپنے دو 777 جہازوں کے لیے 26 اور 32 دن کا وقت مقرر کیا گیا۔ ایک جہاز کی مینٹیننس میں 520 دن لگے جبکہ دوسرے 777 جہاز کی مینٹیننس میں 250 دن لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30348492"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ہی طرح لیز پر موجود اے 320 جہازوں پر تو انتہا ہی ہوگئی، ایک جہاز کی مرمت میں 905 دن جبکہ دوسرے میں 540 دن لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ٹی آر کی لیے بھی 24 دن کا وقت مختص کیا گیا جبکہ اس پر بھی 905 دن لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طویل گراؤنڈنگ کے نتیجے میں پی آئی اے کو نقصان اٹھانا پڑا اور آپریشنل تسلسل میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتظامیہ کو اس حوالے سے 16 دسمبر 2022 کو اطلاع دی گئی۔ 16 جنوری 2023 کو ہونے والی DAC میٹنگ میں اس بے ضابطگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔  رپورٹ کو حتمی شکل دینے تک انتظامیہ کی جانب سے کوئی ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>قومی ایئرلائن کو ہوئے اربوں روپے خسارے میں جہازوں کی گراؤنڈنگ نے اہم کردار ادا کیا ہے، جہازوں کے طویل گراؤنڈنگ سے پی آئی اے کو 38 ارب 40 کروڑ کا ریکارڈ نقصان ہوا ہے۔</strong></p>
<p>پی آئی اے کی آڈٹ رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق پی آئی اے کے انجینئرنگ اینڈ مینٹیننس ڈیپارٹمنٹ نے ہوائی جہاز عارضی گراؤنڈنگ اور شیڈول مینٹیننس کی وجہ سے گراؤنڈ رکھے۔</p>
<p>مینٹیننس پلان کے مطابق انتظامیہ نے عارضی گراؤنڈنگ اور شیڈول مینٹیننس کے لیے 19 سے 28 دن کا تخمینہ وقت مختص کیا۔ انتظامیہ کی جانب سے سست روی کے نتیجے میں طیاروں کی 905 دن تک طویل گراؤنڈنگ ہوئی۔</p>
<p>آڈٹ رپورٹ کے مطابق پی آئی اے کے اپنے دو 777 جہازوں کے لیے 26 اور 32 دن کا وقت مقرر کیا گیا۔ ایک جہاز کی مینٹیننس میں 520 دن لگے جبکہ دوسرے 777 جہاز کی مینٹیننس میں 250 دن لگے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30348492"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس ہی طرح لیز پر موجود اے 320 جہازوں پر تو انتہا ہی ہوگئی، ایک جہاز کی مرمت میں 905 دن جبکہ دوسرے میں 540 دن لگے۔</p>
<p>اے ٹی آر کی لیے بھی 24 دن کا وقت مختص کیا گیا جبکہ اس پر بھی 905 دن لگے۔</p>
<p>اس طویل گراؤنڈنگ کے نتیجے میں پی آئی اے کو نقصان اٹھانا پڑا اور آپریشنل تسلسل میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔</p>
<p>انتظامیہ کو اس حوالے سے 16 دسمبر 2022 کو اطلاع دی گئی۔ 16 جنوری 2023 کو ہونے والی DAC میٹنگ میں اس بے ضابطگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔  رپورٹ کو حتمی شکل دینے تک انتظامیہ کی جانب سے کوئی ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30348693</guid>
      <pubDate>Mon, 02 Oct 2023 18:17:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (قاضی آصف)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/10/021814118f65acf.jpg?r=181639" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/10/021814118f65acf.jpg?r=181639"/>
        <media:title>فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
