<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 03:25:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 03:25:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان عالمی بینک کی غریب اور مقروض ممالک کی فہرست میں شامل، 50 ہزار سے کم آمدن والوں پر ٹیکس لگانے کا مشورہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30349025/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک طرف عالمی بینک نے پاکستان کو قرضے کے بوجھ تلے دبے غریب ممالک کی فہرست میں شامل کرلیا ہے طتو دوسری جانب مشورہ دیا ہے کہ 50 ہزار روپے سے کم کمانے والے افراد پر ٹیکس عائد کیا جائے، اگر پاکستان عالمی بینک کا مشورہ قبول کرلیتا ہے، تو وہ مزید ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی جانب سے اس مطالبے کا مقصد مالی استحکام کو بحال کرنا ہے تاکہ رقم کو معقول انداز میں خرچ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک نے کہا ہے کہ پانچ لاکھ روپے ماہانہ آمدن والوں پر 35 فیصد شرح سے ٹیکس عائد کیا جائے، ساتھ ہی یہ مشورہ بھی دیا کہ وفاقی حکومت ان شعبہ جات پر رقم خرچ نہ کرے، جو صوبوں کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک کے مطابق ساتویں قومی مالیاتی کمیشن کا دوبارہ جائزہ لے کر وفاقی و صوبائی دائرہ کار میں فنانسنگ کا لائحہ عمل طے کیا جائے، دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے اور ٹیکس فری آمدن کی حد کم کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="مزید-پڑھیں" href="#مزید-پڑھیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30348842/"&gt;پاکستان میں مزید سوا کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے، عالمی
بینک&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30348959/"&gt;19 جولائی کے بعد پہلی بار ڈالر 285 روپے سے نیچے
آگیا&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30348891/"&gt;ایف بی آر نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سے درآمد اشیاء پر پروسسنگ فیس عائد
کردی&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ مالی سال میں تنخواہ دار طبقے نے 264 ارب روپے ٹیکس ادا کیا، جبکہ پاکستان کے امیر ترین برآمد کنندگان نے صرف 74 ارب روپے ادا کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30349049"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک اور آئی ایم ایف کی سفارشات نے ملک کے غریب تنخواہ دار طبقے کو نامساعد حالت میں ڈال دیا ہے جس ان کے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب عالمی بینک نے کہا ہے کہ پاکستان کا 2027 تک قرضہ جی ڈی پی کے 89.3 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ارکان پارلیمنٹ، کابینہ ارکان، وزرائے خزانہ، کابینہ کمیٹی اور قائمہ کمیٹیوں کے ممبران ٹیکس پالیسیز مرتب کرنے میں ز بردست اثر و رسوخ استعمال کرتے ہیں جو اصلاحات کو روکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک نے مطالبہ کیا کہ سبسڈیز میں کمی کیلئے مجموعی ٹیکس اقدامات کیے جائیں اور سالانہ بنیادوں پر دو ہزار 723 ارب روپے مالی خسارے میں کمی لانے کیلئے اخراجات کو کم کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک کے حکام کے مطابق پاکستان کا میکرو اکنامک آؤٹ لک غیر یقینی صورت حال کا شکار ہے اور اصلاحات مؤثر عمل درآمد پر انحصار کرتی ہیں، مختصر مدت کیلئے رواں مالی سال کے بجٹ اور آئی ایم ایف اسٹینڈ بائی معاہدے، مارکیٹ کی بنیاد پر کرنسی کی قدر کا تعین، مانیٹری و مالیاتی پالیسی پر عمل درآمد، میکرو اور سیاسی و پالیسی عدم استحکام میں کمی سے معاشی استحکام آسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک کے مطابق پاکستان کو ہائی لیکوڈیٹی رسک، کم زرمبادلہ کے ذخائر، غیر مستحکم سیاسی ماحول، بیرونی اکاؤنٹس کے جھٹکوں کے متعدد خطرات کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک طرف عالمی بینک نے پاکستان کو قرضے کے بوجھ تلے دبے غریب ممالک کی فہرست میں شامل کرلیا ہے طتو دوسری جانب مشورہ دیا ہے کہ 50 ہزار روپے سے کم کمانے والے افراد پر ٹیکس عائد کیا جائے، اگر پاکستان عالمی بینک کا مشورہ قبول کرلیتا ہے، تو وہ مزید ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب جائے گا۔</strong></p>
<p>آئی ایم ایف کی جانب سے اس مطالبے کا مقصد مالی استحکام کو بحال کرنا ہے تاکہ رقم کو معقول انداز میں خرچ کیا جائے۔</p>
<p>عالمی بینک نے کہا ہے کہ پانچ لاکھ روپے ماہانہ آمدن والوں پر 35 فیصد شرح سے ٹیکس عائد کیا جائے، ساتھ ہی یہ مشورہ بھی دیا کہ وفاقی حکومت ان شعبہ جات پر رقم خرچ نہ کرے، جو صوبوں کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔</p>
<p>عالمی بینک کے مطابق ساتویں قومی مالیاتی کمیشن کا دوبارہ جائزہ لے کر وفاقی و صوبائی دائرہ کار میں فنانسنگ کا لائحہ عمل طے کیا جائے، دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے اور ٹیکس فری آمدن کی حد کم کی جائے۔</p>
<h2><a id="مزید-پڑھیں" href="#مزید-پڑھیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>مزید پڑھیں</strong></h2>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30348842/">پاکستان میں مزید سوا کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے، عالمی
بینک</a></p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30348959/">19 جولائی کے بعد پہلی بار ڈالر 285 روپے سے نیچے
آگیا</a></p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30348891/">ایف بی آر نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سے درآمد اشیاء پر پروسسنگ فیس عائد
کردی</a></p>
</blockquote>
<p>گزشتہ مالی سال میں تنخواہ دار طبقے نے 264 ارب روپے ٹیکس ادا کیا، جبکہ پاکستان کے امیر ترین برآمد کنندگان نے صرف 74 ارب روپے ادا کیے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30349049"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>عالمی بینک اور آئی ایم ایف کی سفارشات نے ملک کے غریب تنخواہ دار طبقے کو نامساعد حالت میں ڈال دیا ہے جس ان کے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب عالمی بینک نے کہا ہے کہ پاکستان کا 2027 تک قرضہ جی ڈی پی کے 89.3 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔</p>
<p>عالمی بینک کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ارکان پارلیمنٹ، کابینہ ارکان، وزرائے خزانہ، کابینہ کمیٹی اور قائمہ کمیٹیوں کے ممبران ٹیکس پالیسیز مرتب کرنے میں ز بردست اثر و رسوخ استعمال کرتے ہیں جو اصلاحات کو روکتا ہے۔</p>
<p>عالمی بینک نے مطالبہ کیا کہ سبسڈیز میں کمی کیلئے مجموعی ٹیکس اقدامات کیے جائیں اور سالانہ بنیادوں پر دو ہزار 723 ارب روپے مالی خسارے میں کمی لانے کیلئے اخراجات کو کم کیا جائے۔</p>
<p>عالمی بینک کے حکام کے مطابق پاکستان کا میکرو اکنامک آؤٹ لک غیر یقینی صورت حال کا شکار ہے اور اصلاحات مؤثر عمل درآمد پر انحصار کرتی ہیں، مختصر مدت کیلئے رواں مالی سال کے بجٹ اور آئی ایم ایف اسٹینڈ بائی معاہدے، مارکیٹ کی بنیاد پر کرنسی کی قدر کا تعین، مانیٹری و مالیاتی پالیسی پر عمل درآمد، میکرو اور سیاسی و پالیسی عدم استحکام میں کمی سے معاشی استحکام آسکتا ہے۔</p>
<p>عالمی بینک کے مطابق پاکستان کو ہائی لیکوڈیٹی رسک، کم زرمبادلہ کے ذخائر، غیر مستحکم سیاسی ماحول، بیرونی اکاؤنٹس کے جھٹکوں کے متعدد خطرات کا سامنا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30349025</guid>
      <pubDate>Wed, 04 Oct 2023 18:54:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/10/041900208561a76.jpg?r=190032" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/10/041900208561a76.jpg?r=190032"/>
        <media:title>تصویر: روئٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
