<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 04:02:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 04:02:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چینی آبدوز امریکہ کیلئے بچھائے گئے اپنے ہی جال میں پھنس گئی، 55 اہلکار مارے گئے، برطانوی اخبار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30349067/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برطانوی خبر رساں ادارے“دی ٹائمز“ نے برطانوی انٹیلی جنس ایجنسی کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کی ایک نیوکلئیر آبدوز اپنے ہی بچھائے جال میں پھنس کر ڈوب گئی جس کے نتیجے میں چینی بحریہ کے 55 اہلکار جاں بحق ہو گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ ”یلو سی“ (زرد سمندر) میں پیش آیا۔ تاہم تائیوان کی جانب سے آبدوز حادثے تردید کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی انٹیلی جنس رپورٹ میں چینی بحریہ کی آبدوز کی شناخت ”093-417“ کے طور پر کی گئی ہے اور کہا گیا کہ 21 اگست کو آبدوز میں تباہ کن خرابی پیدا ہوئی جس سے عملہ دم گھٹنے کا شکار ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مرنے والوں میں کپتان اور 21 افسران شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/240505"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹائمز کی  رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شنگھائی کے شمال میں شانڈونگ صوبے کے قریب اپنی ہی افواج کے ذریعے نصب کردہ سمندری جال میں آبدوز کے پھسنے کے بعد اس میں آکسیجن ختم ہو گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں برطانوی انٹیلی جنس حکام نے لکھا کہ ’ہم سمجھتے ہیں اموات آبدوز میں نظام کی خرابی کی وجہ سے ہائپوکسیا (آکسیجن کی کمی) کی وجہ سے واقع ہوئی ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ’سب میرین ایک چین اور سمندر کی تہہ میں لنگرانداز رکاوٹ سے ٹکرائی، جسے چینی بحریہ نے امریکی اور اس کے اتحادیوں آبدوزوں کو پھنسانے کے لیے نصب کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں نظام میں خرابی پیدا ہوئی جس کی وجہ سے مرمت اور سطح پر پہنچنے میں چھ گھنٹے لگے۔ جہاز پر موجود آکسیجن سسٹم کی ناکامی عملے کی زہرآلود موت کا باعث بنی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس انٹیلی جنس رپورٹ کو انتہائی خفیہ قرار دیا گیا تھا اور امکان ہے کہ اس کے لیک ہونے کی انکوائری ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/256231"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شانگ کلاس آبدوز کے واقعے کے بارے میں افواہیں ایک ماہ سے زیادہ عرصہ قبل ہی سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی تھیں لیکن بیجنگ نے ان کی تردید کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کے پاس چھ ٹائپ-093 حملہ آور آبدوزیں ہیں، اور یہ 553 ایم ایم ٹارپیڈو سے لیس ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ جوہری توانائی سے چلنے والی یہ آبدوزیں  پچھلے ماڈلز سے زیادہ پرسکون اور خاموش ہونے کے لیے ڈیزائن کی گئی تھیں، پچھلے 15 سالوں میں سروس میں داخل ہوئیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برطانوی خبر رساں ادارے“دی ٹائمز“ نے برطانوی انٹیلی جنس ایجنسی کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کی ایک نیوکلئیر آبدوز اپنے ہی بچھائے جال میں پھنس کر ڈوب گئی جس کے نتیجے میں چینی بحریہ کے 55 اہلکار جاں بحق ہو گئے۔</strong></p>
<p>رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ ”یلو سی“ (زرد سمندر) میں پیش آیا۔ تاہم تائیوان کی جانب سے آبدوز حادثے تردید کی گئی ہے۔</p>
<p>برطانوی انٹیلی جنس رپورٹ میں چینی بحریہ کی آبدوز کی شناخت ”093-417“ کے طور پر کی گئی ہے اور کہا گیا کہ 21 اگست کو آبدوز میں تباہ کن خرابی پیدا ہوئی جس سے عملہ دم گھٹنے کا شکار ہوا۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مرنے والوں میں کپتان اور 21 افسران شامل ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/240505"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ٹائمز کی  رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شنگھائی کے شمال میں شانڈونگ صوبے کے قریب اپنی ہی افواج کے ذریعے نصب کردہ سمندری جال میں آبدوز کے پھسنے کے بعد اس میں آکسیجن ختم ہو گئی تھی۔</p>
<p>رپورٹ میں برطانوی انٹیلی جنس حکام نے لکھا کہ ’ہم سمجھتے ہیں اموات آبدوز میں نظام کی خرابی کی وجہ سے ہائپوکسیا (آکسیجن کی کمی) کی وجہ سے واقع ہوئی ہیں۔‘</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ’سب میرین ایک چین اور سمندر کی تہہ میں لنگرانداز رکاوٹ سے ٹکرائی، جسے چینی بحریہ نے امریکی اور اس کے اتحادیوں آبدوزوں کو پھنسانے کے لیے نصب کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں نظام میں خرابی پیدا ہوئی جس کی وجہ سے مرمت اور سطح پر پہنچنے میں چھ گھنٹے لگے۔ جہاز پر موجود آکسیجن سسٹم کی ناکامی عملے کی زہرآلود موت کا باعث بنی‘۔</p>
<p>اس انٹیلی جنس رپورٹ کو انتہائی خفیہ قرار دیا گیا تھا اور امکان ہے کہ اس کے لیک ہونے کی انکوائری ہوگی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/256231"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>شانگ کلاس آبدوز کے واقعے کے بارے میں افواہیں ایک ماہ سے زیادہ عرصہ قبل ہی سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی تھیں لیکن بیجنگ نے ان کی تردید کی تھی۔</p>
<p>چین کے پاس چھ ٹائپ-093 حملہ آور آبدوزیں ہیں، اور یہ 553 ایم ایم ٹارپیڈو سے لیس ہیں۔</p>
<p>ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ جوہری توانائی سے چلنے والی یہ آبدوزیں  پچھلے ماڈلز سے زیادہ پرسکون اور خاموش ہونے کے لیے ڈیزائن کی گئی تھیں، پچھلے 15 سالوں میں سروس میں داخل ہوئیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30349067</guid>
      <pubDate>Thu, 05 Oct 2023 08:04:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/10/04205401bdcf565.jpg?r=205546" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/10/04205401bdcf565.jpg?r=205546"/>
        <media:title>علامتی تصویر: روئٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
