<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style - Entertainment</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 16:09:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 16:09:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیل کا فلسطین پر ظلم و ستم، ملالہ نے بلآخر خاموشی توڑ دی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30350056/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستانی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے فلسطینی گروپ حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کو فوری روکنے کا مطالبہ کردیا ۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملالہ نے تنازعات کے درمیان پھنسے فلسطینی اور اسرائیلی بچوں کے لیے اپنی تشویش پر زور دیتے ہوئے فوری جنگ بندی کی حمایت کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملالہ یوسفزئی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں میں شامل ہوں گی، کیونکہ جب سے میں نے یہ خبر سنی ہے مجھے فلسطینی اور اسرائیلی بچوں کا خیال کھائے جا رہا ہے کہ اس جنگ میں یہ بچارے پھنس گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Malala/status/1711763620458103053"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے ماضی کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں صرف 11 سال کی تھی کہ صبح ہوتے ہی ہم گولہ بارود کی آواز سے جاگتے تھے اور دیکھتے کہ ہمارے اسکول اور مساجد پر بمباری کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/4  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30349930"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ جنگ کبھی بھی کسی بچے کو نہیں بخشتی، بے شک وہ قید کیا ہوا اسرائیلی ہو یا پھر بھوکے پیاسے گولہ بارود سے بچتے ہوئے فلسطینی بچے۔ یہی نہیں بلکہ میں یہ سوچ سوچ کر بہت زیادہ افسردہ ہوں کہ دونوں ممالک کے بچے آج امن کی خطر ترس رہے ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ اسرائیلی سفارت خانے کے بیان کے مطابق ’ہفتے سے اب تک کم از کم 1,008 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے سفارت خانے نے کہا کہ ان حملوں میں 3,418 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ہفتے کو اسرائیل کے جوابی فضائی حملوں کے آغاز کے بعد سے غزہ کی پٹی میں اب تک 770 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد چار ہزار سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستانی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے فلسطینی گروپ حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کو فوری روکنے کا مطالبہ کردیا ۔</strong></p>
<p>ملالہ نے تنازعات کے درمیان پھنسے فلسطینی اور اسرائیلی بچوں کے لیے اپنی تشویش پر زور دیتے ہوئے فوری جنگ بندی کی حمایت کا اظہار کیا۔</p>
<p>ملالہ یوسفزئی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں میں شامل ہوں گی، کیونکہ جب سے میں نے یہ خبر سنی ہے مجھے فلسطینی اور اسرائیلی بچوں کا خیال کھائے جا رہا ہے کہ اس جنگ میں یہ بچارے پھنس گئے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Malala/status/1711763620458103053"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>اپنے ماضی کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں صرف 11 سال کی تھی کہ صبح ہوتے ہی ہم گولہ بارود کی آواز سے جاگتے تھے اور دیکھتے کہ ہمارے اسکول اور مساجد پر بمباری کی گئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/4  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30349930"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ جنگ کبھی بھی کسی بچے کو نہیں بخشتی، بے شک وہ قید کیا ہوا اسرائیلی ہو یا پھر بھوکے پیاسے گولہ بارود سے بچتے ہوئے فلسطینی بچے۔ یہی نہیں بلکہ میں یہ سوچ سوچ کر بہت زیادہ افسردہ ہوں کہ دونوں ممالک کے بچے آج امن کی خطر ترس رہے ہوں گے۔</p>
<p>واضح رہے کہ اسرائیلی سفارت خانے کے بیان کے مطابق ’ہفتے سے اب تک کم از کم 1,008 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔‘</p>
<p>سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے سفارت خانے نے کہا کہ ان حملوں میں 3,418 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ہفتے کو اسرائیل کے جوابی فضائی حملوں کے آغاز کے بعد سے غزہ کی پٹی میں اب تک 770 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد چار ہزار سے زیادہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30350056</guid>
      <pubDate>Wed, 11 Oct 2023 01:03:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/10/110043159bf9b8c.gif?r=010302" type="image/gif" medium="image" height="450" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/10/110043159bf9b8c.gif?r=010302"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
