<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 06:19:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 06:19:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کا مالی خسارہ ہدف سے1137ارب زیادہ ہونے کا خدشہ، آئی ایم ایف نے خطرے کی گھنٹی بجا دی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30350310/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آئی ایم ایف نے رواں مالی سال کے دوران پاکستان کا بجٹ خسارہ 8.2 ہزار ارب روپے رہنے کی پیشگوئی کی ہے، جو کہ جی ڈی پی کا 7.6 فیصد بنتا ہے، جو حکومت کے ہدف سے کئی گنا زیاہد ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے پاکستان کے حوالے سے فسکل مانیٹر رپورٹ 2023 جاری کردی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کا مالی خسارہ ہدف سے 1137  ارب زیادہ ہونے کا تخمینہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق سال 2023-24 میں پاکستان کا خسارہ 8 ہزار 42 ارب روپے تک پہنچ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے مالی خسارے کا ہدف 6 ہزار 905 ارب روپے مقرر کر رکھا ہے، جب کہ رپورٹ
میں خسارہ جی ڈی پی کے 6.5 فیصد کے بجائے7.6 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کا ہدف کیا گیا بجٹ خسارہ ہدف جی ڈی پی کا 6.5 فیصد تھا، جو 6.9 ہزار ارب روپے بنتے ہیں، اور 7.6 ہزار ارب روپے خسارے کا مطلب ہے کہ پاکستان کو جون میں بنائے گئے منصوبے کے مقابلے میں مزید  1.3 ہزار ارب روپے کا قرضہ درکار ہوگا، جب کہ حکومت پہلے ہی عالمی مالیاتی اداروں سے قرض حاصل کرنے کیلیے جدوجہد کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں قرضوں کی شرح 60 فیصد کے قانونی ہدف کے بجائے 72.2 فیصد رہے گی، اور اس سال پرائمری سرپلس0.4 فیصد ہدف کے مطابق421 ارب رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق مجموعی محاصل 12.5 فیصد، مجموعی اخراجات جی ڈی پی کا 20.1 فیصد رہیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آئی ایم ایف نے رواں مالی سال کے دوران پاکستان کا بجٹ خسارہ 8.2 ہزار ارب روپے رہنے کی پیشگوئی کی ہے، جو کہ جی ڈی پی کا 7.6 فیصد بنتا ہے، جو حکومت کے ہدف سے کئی گنا زیاہد ہے۔</strong></p>
<p>آئی ایم ایف نے پاکستان کے حوالے سے فسکل مانیٹر رپورٹ 2023 جاری کردی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کا مالی خسارہ ہدف سے 1137  ارب زیادہ ہونے کا تخمینہ ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق سال 2023-24 میں پاکستان کا خسارہ 8 ہزار 42 ارب روپے تک پہنچ جائے گا۔</p>
<p>حکومت نے مالی خسارے کا ہدف 6 ہزار 905 ارب روپے مقرر کر رکھا ہے، جب کہ رپورٹ
میں خسارہ جی ڈی پی کے 6.5 فیصد کے بجائے7.6 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔</p>
<p>حکومت کا ہدف کیا گیا بجٹ خسارہ ہدف جی ڈی پی کا 6.5 فیصد تھا، جو 6.9 ہزار ارب روپے بنتے ہیں، اور 7.6 ہزار ارب روپے خسارے کا مطلب ہے کہ پاکستان کو جون میں بنائے گئے منصوبے کے مقابلے میں مزید  1.3 ہزار ارب روپے کا قرضہ درکار ہوگا، جب کہ حکومت پہلے ہی عالمی مالیاتی اداروں سے قرض حاصل کرنے کیلیے جدوجہد کر رہی ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں قرضوں کی شرح 60 فیصد کے قانونی ہدف کے بجائے 72.2 فیصد رہے گی، اور اس سال پرائمری سرپلس0.4 فیصد ہدف کے مطابق421 ارب رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق مجموعی محاصل 12.5 فیصد، مجموعی اخراجات جی ڈی پی کا 20.1 فیصد رہیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30350310</guid>
      <pubDate>Thu, 12 Oct 2023 13:47:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (یاسر نذر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/10/12134625dae0864.webp?r=134741" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/10/12134625dae0864.webp?r=134741"/>
        <media:title>فوٹو ــ فائل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
