<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style - Quirky</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 21:20:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 21:20:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’مونا لیزا‘ زہر سے بھری ہے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30351257/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مونا لیزا اطالوی مصور لیونارڈو ڈا ونچی کی پینٹنگ ہے جسے طالوی نشاۃ ثانیہ کا ایک قدیم شاہکار سمجھا جاتا ہے اسے ”سب سے زیادہ مشہور ، سب سے زیادہ دیکھی جانے والی اوردنیا میں آرٹ کا سب سے زیادہ پرکشش کام“ کے طور پر بیان کیا گیا ہے.&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مونا لیزا کی پینٹنگ نے ڈاونچی کے ایک ایسے زہریلے راز سے پردہ اٹھا یا ہے جو کھلی آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تازہ ترین مطالعے میں سائنس دانوں نے دو پینٹنگز’مونا لیزا اور لاسٹ سپر’ پر تازہ ترین اور ہائی ریزولوشن تجزیاتی تکنیک استعمال کرتے ہوئےایک نیا رازدریافت کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محققین نے بتایا کہ جدید ایکس رے ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اطالوی نشاۃ ثانیہ کے ماسٹر پیس کو بنانے میں استعمال کی جانے والی انوکھی تکنیک میں سیسہ آکسائڈ پاؤڈرکا استعمال کیا گیا تھا جسکی وجہ سے ان کے فن پاروں میں منفرد قسم کا زہریلا مرکب بن گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرنل آف دی امریکن کیمیکل سوسائٹی میں شائع ہونے والی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ لیونارڈو نے 16 ویں صدی کے شروعات میں ”مونا لیزا“ پرکام کرنا شروع کیا تو وہ تجرباتی مرحلے میں تھے۔انہوں نے لیڈ آکسائڈ کے مرکب کے ساتھ تجربہ کیا جس کے باعث امونا لیزا پینٹنگ کے نیچے کی تہہ میں سیسے کا زہریلا مرکب  پیدا ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تحقیق کے مرکزی مصنف اور فرانس کے سب سے بڑے تحقیقی ادارے سی این آر ایس کے کیمیا دان وکٹر گونزالیز لیونارڈو، ریمبرینٹ اور دیگر فنکاروں کے متعدد فن پاروں کی کیمیائی ساختوں کا مطالعہ کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2023/10/1814161131816e9.webp?r=141626'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محققین نے لیونارڈو کے پینٹ کی پہلی پرت میں  نایاب ’مرکب پلمبوناکرائٹ‘ کی دریافت سے اس بات کی تصدیق کی کہ لیونارڈو نے جب پیرس میں لوورمیوزیم میں حفاظتی شیشے کے پیچھے موجود تصویر کا آغاز کیا توممکنہ طور پر سیسہ آکسائڈ پاؤڈر کا استعمال کیا جو  ان کے پینٹ کو گاڑھا کرنے اور خشک کرنے کے لیے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;##مزید پڑھیں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/201790"&gt;کیا’مونا لیزا’ دیکھنے والوں کو گھورتی ہے؟ صدیوں سے چھپا بھید افشاں
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/758"&gt;مونا لیزا کی شاہکار پینٹنگ کا راز
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/91856"&gt;مسکراہٹ یا اداسی، مونا لیزا کی تصویر کا راز افشاں
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنس دانوں نے سنکروٹرون نامی ایک بڑی مشین میں ایکس رے کا استعمال کیا جو ذرات کو روشنی کی رفتار سے تیز کرتی ہے۔ تجزیہ کیا گیا پینٹ کا ٹکڑا کھلی آنکھوں سےبمشکل نظر آ رہا تھا جو انسانی بالوں کے قطر سے بڑا نہیں تھا ، اور پینٹنگ کے اوپری دائیں کنارے سے آیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2023/10/181224509d20311.webp'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیو یارک کے میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ میں اطالوی آرٹ کے ماہر اور کیوریٹر کارمین بامباخ نے اس بات پر زور دیا کہ ”مونا لیزا“ میں پلمبوناکرائٹ کی تلاش لیونارڈو کے ایک مصور کے طور پر پرجوش اور مسلسل تجربات کے جذبے کی تصدیق کرتی ہے جو اسے لازوال اور جدید بناتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق لیونارڈو نے السی یا اخروٹ کے تیل میں نارنجی رنگ کا لیڈ آکسائڈ پاؤڈر تحلیل کر دیا تاکہ اس مرکب کوجب گرم کیا جائے تو موٹا، تیزی سے خشک ہونے والا پیسٹ بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30351139"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ، لیونارڈو کے ’مونا لیزا‘ سمیت دیگر کام اب بھی مزید رازوں کو دریافت کرنے کے لیے موجود ہیں۔ جیسا کہ گونزالیز نے کہا، ’ہم بمشکل سطح کو کھرچ رہے ہیں۔‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مونا لیزا اطالوی مصور لیونارڈو ڈا ونچی کی پینٹنگ ہے جسے طالوی نشاۃ ثانیہ کا ایک قدیم شاہکار سمجھا جاتا ہے اسے ”سب سے زیادہ مشہور ، سب سے زیادہ دیکھی جانے والی اوردنیا میں آرٹ کا سب سے زیادہ پرکشش کام“ کے طور پر بیان کیا گیا ہے.</strong></p>
<p>مونا لیزا کی پینٹنگ نے ڈاونچی کے ایک ایسے زہریلے راز سے پردہ اٹھا یا ہے جو کھلی آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔</p>
<p>تازہ ترین مطالعے میں سائنس دانوں نے دو پینٹنگز’مونا لیزا اور لاسٹ سپر’ پر تازہ ترین اور ہائی ریزولوشن تجزیاتی تکنیک استعمال کرتے ہوئےایک نیا رازدریافت کیا ہے۔</p>
<p>محققین نے بتایا کہ جدید ایکس رے ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اطالوی نشاۃ ثانیہ کے ماسٹر پیس کو بنانے میں استعمال کی جانے والی انوکھی تکنیک میں سیسہ آکسائڈ پاؤڈرکا استعمال کیا گیا تھا جسکی وجہ سے ان کے فن پاروں میں منفرد قسم کا زہریلا مرکب بن گیا۔</p>
<p>جرنل آف دی امریکن کیمیکل سوسائٹی میں شائع ہونے والی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ لیونارڈو نے 16 ویں صدی کے شروعات میں ”مونا لیزا“ پرکام کرنا شروع کیا تو وہ تجرباتی مرحلے میں تھے۔انہوں نے لیڈ آکسائڈ کے مرکب کے ساتھ تجربہ کیا جس کے باعث امونا لیزا پینٹنگ کے نیچے کی تہہ میں سیسے کا زہریلا مرکب  پیدا ہوگیا۔</p>
<p>اس تحقیق کے مرکزی مصنف اور فرانس کے سب سے بڑے تحقیقی ادارے سی این آر ایس کے کیمیا دان وکٹر گونزالیز لیونارڈو، ریمبرینٹ اور دیگر فنکاروں کے متعدد فن پاروں کی کیمیائی ساختوں کا مطالعہ کر رہے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2023/10/1814161131816e9.webp?r=141626'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>محققین نے لیونارڈو کے پینٹ کی پہلی پرت میں  نایاب ’مرکب پلمبوناکرائٹ‘ کی دریافت سے اس بات کی تصدیق کی کہ لیونارڈو نے جب پیرس میں لوورمیوزیم میں حفاظتی شیشے کے پیچھے موجود تصویر کا آغاز کیا توممکنہ طور پر سیسہ آکسائڈ پاؤڈر کا استعمال کیا جو  ان کے پینٹ کو گاڑھا کرنے اور خشک کرنے کے لیے تھا۔</p>
<p>##مزید پڑھیں:</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/201790">کیا’مونا لیزا’ دیکھنے والوں کو گھورتی ہے؟ صدیوں سے چھپا بھید افشاں
</a></p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/758">مونا لیزا کی شاہکار پینٹنگ کا راز
</a></p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/91856">مسکراہٹ یا اداسی، مونا لیزا کی تصویر کا راز افشاں
</a></p>
<p>سائنس دانوں نے سنکروٹرون نامی ایک بڑی مشین میں ایکس رے کا استعمال کیا جو ذرات کو روشنی کی رفتار سے تیز کرتی ہے۔ تجزیہ کیا گیا پینٹ کا ٹکڑا کھلی آنکھوں سےبمشکل نظر آ رہا تھا جو انسانی بالوں کے قطر سے بڑا نہیں تھا ، اور پینٹنگ کے اوپری دائیں کنارے سے آیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2023/10/181224509d20311.webp'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>نیو یارک کے میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ میں اطالوی آرٹ کے ماہر اور کیوریٹر کارمین بامباخ نے اس بات پر زور دیا کہ ”مونا لیزا“ میں پلمبوناکرائٹ کی تلاش لیونارڈو کے ایک مصور کے طور پر پرجوش اور مسلسل تجربات کے جذبے کی تصدیق کرتی ہے جو اسے لازوال اور جدید بناتی ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق لیونارڈو نے السی یا اخروٹ کے تیل میں نارنجی رنگ کا لیڈ آکسائڈ پاؤڈر تحلیل کر دیا تاکہ اس مرکب کوجب گرم کیا جائے تو موٹا، تیزی سے خشک ہونے والا پیسٹ بنایا جا سکے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30351139"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تاہم ، لیونارڈو کے ’مونا لیزا‘ سمیت دیگر کام اب بھی مزید رازوں کو دریافت کرنے کے لیے موجود ہیں۔ جیسا کہ گونزالیز نے کہا، ’ہم بمشکل سطح کو کھرچ رہے ہیں۔‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30351257</guid>
      <pubDate>Wed, 18 Oct 2023 14:23:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/10/18122503c361f32.jpg?r=123156" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/10/18122503c361f32.jpg?r=123156"/>
        <media:title>فوٹو فائل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
