<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 01:14:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 01:14:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گھنگھریالے بالوں پر نیوز اینکر نوکری سے فارغ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30351618/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خواتین کو اکثر ان کے پہلے تاثر کی بنا پر جج کیا جاتا ہے اور جب بات نوکری کی آجائے تو ایسی صورت میں بہت سے عنصر سامنے آتے ہیں جیسے کہ قد ، تعلیم، بولنے کا طریقہ، کپڑے پہننے کا انداز وغیرہ۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موسم کی خبر سنانے والی ایک امریکی رپورٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں ریاست ٹینیسی کے شہر ناکس ویل کے ایک ٹی وی اسٹیشن نے نوکری سے اس لیے نکال دیا تھا کیونکہ ان کے بال بہت گھنگھریالے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تابیتھا بارتو نوکس ویل کے اے بی سی اسٹیشن ڈبلیو اے ٹی ای میں فروری سے کام کر رہی تھیں۔ کالج ختم کرنے کے بعد یہ ان کی پہلی نوکری تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ناکس ویل نیوز سینٹینل کو بتایا کہ ’کام شروع کرنے کے فوراً بعد بارتو کا اسٹیشن کی انتظامیہ کے ساتھ ان کے بالوں کے اسٹائل پر بار بار جھگڑا ہوا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیشن کے ہیئر اسٹائلسٹ کے ساتھ اپنی ابتدائی ملاقات میں بارتو نے کہا کہ ان سے ان کے بالوں کو سیدھا کرنے کے بارے میں کہا گیا تھا اور ایک شخص نے مبینہ طور پر ان سے کہا تھا کہ ’اگر آپ اپنے بالوں کو سیدھا کریں گی تو گھنگھریالا پن وقت کے ساتھ ختم ہوتا جائے گا اور یہی ہم چاہتے ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینٹینل کے مطابق اس کے بعد ہیئر اپائنٹمنٹ میں انتظامیہ نے اسٹائلسٹ سے کہا کہ وہ بارتو کے گھنگریالے بالوں کو ’زیادہ واضح‘ بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بارتو نے کہا کہ اسٹیشن کے نیوز منیجر نے ان سے کہا، ’آپ کا انداز کمپنی اور کمپنی کی پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتا لہذا آپ کا وقت یہاں ختم ہو گیا ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ملازمت شروع کرنے کے 90 دن کے اندر ہی انہیں نوکری سے نکال دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30351558"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاہ فام ملازمین کو طویل عرصے سے اپنے کام کرنے والی جگہ پر اپنے بالوں کے حوالے سے امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="مزید-پڑھیں" href="#مزید-پڑھیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں:&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30342814"&gt;امریکی اینکر کو لائیو نیوز بلیٹن کے دوران شادی کی پیشکش &lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30342882"&gt;لائیو نشریات کے دوران بی بی سی اینکر کی زبان پھسل گئی &lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30336578"&gt;دیسی دکھائی دینے والے مصنوعی ذہانت سے بنے ٹی وی نیوز ریڈرز تیار، سود
مند ہونگے یا نہیں بحث چھڑ گئی &lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;اس سال جاری ہونے والے ایک سروے کے مطابق 25 سے 34 سال کی عمر کی ہر پانچ میں سے ایک سیاہ فام خاتون کا کہنا ہے کہ انہیں ان کے بالوں کی وجہ سے گھر بھیج دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/TabithaBartoe/status/1657775966612062215?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بارتو نے سوشل میڈیا پرایک پوسٹ میں اپنی کہانی بھی شیئر کی، جس میں انہوں نے لکھا کہ ’ہر کوئی اپنے اپنے طریقوں سے خوبصورت اور پیشہ ور ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا  کہ آپ کے گھنگھریالے بال ہیں یا آپ سائز دو نہیں سائز 12 ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’میں امید کرتی ہوں مستقبل میں لوگ آپ کو ایسا ہی قبول کریں جیسا کہ آپ اصل میں ہیں۔اگر آپ کے پاس قدرتی کرل ہیں تو انہیں گلے لگائیں اور اپنے قدرتی بالوں کے ساتھ ٹھیک رہیں۔ یہ پیشہ ورانہ ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--right  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30337981"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کینیڈین نیوز اینکر لیزا لافلیم کو گزشتہ سال اس وقت اچانک برطرف کر دیا گیا تھا جب انہوں نے وبائی مرض کے دوران اپنے بالوں کو رنگنا بند کر دیا تھا، جس کی وجہ سے وہ اپنے قدرتی بھورے رنگ میں واپس آ گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2023/10/201716074d4e16a.jpg'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بارتو نے ان تمام حالات کے باوجود ہار نہیں مانی وہ اپریل میں 22 سال کی ہو گئی ہیں، ان کے ٹویٹر کے مطابق ’ وہ کام سے پیچھے نہیں ہٹ رہیں’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یونیورسٹی آف نارتھ ڈکوٹا میں مواصلات میں ماسٹر پروگرام میں داخلہ لیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خواتین کو اکثر ان کے پہلے تاثر کی بنا پر جج کیا جاتا ہے اور جب بات نوکری کی آجائے تو ایسی صورت میں بہت سے عنصر سامنے آتے ہیں جیسے کہ قد ، تعلیم، بولنے کا طریقہ، کپڑے پہننے کا انداز وغیرہ۔</strong></p>
<p>موسم کی خبر سنانے والی ایک امریکی رپورٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں ریاست ٹینیسی کے شہر ناکس ویل کے ایک ٹی وی اسٹیشن نے نوکری سے اس لیے نکال دیا تھا کیونکہ ان کے بال بہت گھنگھریالے تھے۔</p>
<p>تابیتھا بارتو نوکس ویل کے اے بی سی اسٹیشن ڈبلیو اے ٹی ای میں فروری سے کام کر رہی تھیں۔ کالج ختم کرنے کے بعد یہ ان کی پہلی نوکری تھی۔</p>
<p>انہوں نے ناکس ویل نیوز سینٹینل کو بتایا کہ ’کام شروع کرنے کے فوراً بعد بارتو کا اسٹیشن کی انتظامیہ کے ساتھ ان کے بالوں کے اسٹائل پر بار بار جھگڑا ہوا۔‘</p>
<p>اسٹیشن کے ہیئر اسٹائلسٹ کے ساتھ اپنی ابتدائی ملاقات میں بارتو نے کہا کہ ان سے ان کے بالوں کو سیدھا کرنے کے بارے میں کہا گیا تھا اور ایک شخص نے مبینہ طور پر ان سے کہا تھا کہ ’اگر آپ اپنے بالوں کو سیدھا کریں گی تو گھنگھریالا پن وقت کے ساتھ ختم ہوتا جائے گا اور یہی ہم چاہتے ہیں۔‘</p>
<p>سینٹینل کے مطابق اس کے بعد ہیئر اپائنٹمنٹ میں انتظامیہ نے اسٹائلسٹ سے کہا کہ وہ بارتو کے گھنگریالے بالوں کو ’زیادہ واضح‘ بنائیں۔</p>
<p>بارتو نے کہا کہ اسٹیشن کے نیوز منیجر نے ان سے کہا، ’آپ کا انداز کمپنی اور کمپنی کی پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتا لہذا آپ کا وقت یہاں ختم ہو گیا ہے۔‘</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ملازمت شروع کرنے کے 90 دن کے اندر ہی انہیں نوکری سے نکال دیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30351558"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سیاہ فام ملازمین کو طویل عرصے سے اپنے کام کرنے والی جگہ پر اپنے بالوں کے حوالے سے امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔</p>
<h2><a id="مزید-پڑھیں" href="#مزید-پڑھیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>مزید پڑھیں:</strong></h2>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30342814">امریکی اینکر کو لائیو نیوز بلیٹن کے دوران شادی کی پیشکش </a></p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30342882">لائیو نشریات کے دوران بی بی سی اینکر کی زبان پھسل گئی </a></p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30336578">دیسی دکھائی دینے والے مصنوعی ذہانت سے بنے ٹی وی نیوز ریڈرز تیار، سود
مند ہونگے یا نہیں بحث چھڑ گئی </a></p>
</blockquote>
<p>اس سال جاری ہونے والے ایک سروے کے مطابق 25 سے 34 سال کی عمر کی ہر پانچ میں سے ایک سیاہ فام خاتون کا کہنا ہے کہ انہیں ان کے بالوں کی وجہ سے گھر بھیج دیا گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/TabithaBartoe/status/1657775966612062215?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>بارتو نے سوشل میڈیا پرایک پوسٹ میں اپنی کہانی بھی شیئر کی، جس میں انہوں نے لکھا کہ ’ہر کوئی اپنے اپنے طریقوں سے خوبصورت اور پیشہ ور ہے۔‘</p>
<p>’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا  کہ آپ کے گھنگھریالے بال ہیں یا آپ سائز دو نہیں سائز 12 ہیں۔‘</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’میں امید کرتی ہوں مستقبل میں لوگ آپ کو ایسا ہی قبول کریں جیسا کہ آپ اصل میں ہیں۔اگر آپ کے پاس قدرتی کرل ہیں تو انہیں گلے لگائیں اور اپنے قدرتی بالوں کے ساتھ ٹھیک رہیں۔ یہ پیشہ ورانہ ہے۔‘</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--right  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30337981"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>کینیڈین نیوز اینکر لیزا لافلیم کو گزشتہ سال اس وقت اچانک برطرف کر دیا گیا تھا جب انہوں نے وبائی مرض کے دوران اپنے بالوں کو رنگنا بند کر دیا تھا، جس کی وجہ سے وہ اپنے قدرتی بھورے رنگ میں واپس آ گئے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2023/10/201716074d4e16a.jpg'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>بارتو نے ان تمام حالات کے باوجود ہار نہیں مانی وہ اپریل میں 22 سال کی ہو گئی ہیں، ان کے ٹویٹر کے مطابق ’ وہ کام سے پیچھے نہیں ہٹ رہیں’۔</p>
<p>انہوں نے یونیورسٹی آف نارتھ ڈکوٹا میں مواصلات میں ماسٹر پروگرام میں داخلہ لیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30351618</guid>
      <pubDate>Mon, 23 Oct 2023 17:56:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/10/201537382eddcc7.jpg?r=154219" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/10/201537382eddcc7.jpg?r=154219"/>
        <media:title>فوٹو فائل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
