<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 00:16:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 00:16:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریلیف کیوں نہ مل سکا، وجہ سامنے آگئی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30353327/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت نے ایک بار پھر گنجائش کے باوجود پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہیں کرکے عوام کو ریلیف سے محروم رکھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نگران حکومت کی جانب سے ڈیزل پر 6 روپے 44 پیسے اور پیٹرول پر 3 روپے سے زائد کا ریلیف عوام کو دینے کے بجائے ڈیزل پر لیوی کی شرح  میں 5 روپے فی لیٹر کا اضافہ کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی 5 روپے اضافے کے بعد 60 روپے فی لیٹر ہوگئی ہے، جب کہ پیٹرول پر لیوی پہلے سے ہی 60 روپے فی لیٹر مقرر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے ڈیزل پر فی لیٹر 25 پیسے کا ایسکٹرا مارجن بھی عائد کر دیا جس کے بعد ڈیزل پر ڈیلر مارجن 41 پیسے بڑھا  کر8.64 روپے کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/4  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30353295"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پیٹرول پر او ایم سی مارجن میں 47 پیسے فی لیٹر  اضافے سے 7.87 روپے ہوگیا جب کہ پیٹرول پر ڈیلر مارجن بھی 41 پیسے فی لیٹر بڑھا کر8.64 روپے ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویز کے مطابق ڈیزل پر بھی تیل کمپنیوں کا مارجن 47 پیسے کا اضافہ کیا گیا اورنئی شرح 8.12 روپے مقرر کر دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2023/11/01125744ef90c68.jpg'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ نگراں حکومت نے 15 نومبر تک پیٹرولیم مصنوعات کی &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30350851/"&gt;قیمتیں&lt;/a&gt; برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں فی بیرل 5 ڈالر کمی ہونے کے پیشِ نظر یکم نومبر سے پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یکم نومبر سے پیٹرول کی قیمت میں 15 سے 20 روپے فی لیٹر، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 10 سے 16 روپے کی فی لیٹر کمی متوقع تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت نے ایک بار پھر گنجائش کے باوجود پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہیں کرکے عوام کو ریلیف سے محروم رکھا۔</strong></p>
<p>نگران حکومت کی جانب سے ڈیزل پر 6 روپے 44 پیسے اور پیٹرول پر 3 روپے سے زائد کا ریلیف عوام کو دینے کے بجائے ڈیزل پر لیوی کی شرح  میں 5 روپے فی لیٹر کا اضافہ کردیا۔</p>
<p>ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی 5 روپے اضافے کے بعد 60 روپے فی لیٹر ہوگئی ہے، جب کہ پیٹرول پر لیوی پہلے سے ہی 60 روپے فی لیٹر مقرر ہے۔</p>
<p>حکومت نے ڈیزل پر فی لیٹر 25 پیسے کا ایسکٹرا مارجن بھی عائد کر دیا جس کے بعد ڈیزل پر ڈیلر مارجن 41 پیسے بڑھا  کر8.64 روپے کر دیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/4  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30353295"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دوسری جانب پیٹرول پر او ایم سی مارجن میں 47 پیسے فی لیٹر  اضافے سے 7.87 روپے ہوگیا جب کہ پیٹرول پر ڈیلر مارجن بھی 41 پیسے فی لیٹر بڑھا کر8.64 روپے ہو گیا ہے۔</p>
<p>دستاویز کے مطابق ڈیزل پر بھی تیل کمپنیوں کا مارجن 47 پیسے کا اضافہ کیا گیا اورنئی شرح 8.12 روپے مقرر کر دی گئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2023/11/01125744ef90c68.jpg'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>واضح رہے کہ نگراں حکومت نے 15 نومبر تک پیٹرولیم مصنوعات کی <a href="https://www.aaj.tv/news/30350851/">قیمتیں</a> برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں فی بیرل 5 ڈالر کمی ہونے کے پیشِ نظر یکم نومبر سے پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان تھا۔</p>
<p>یکم نومبر سے پیٹرول کی قیمت میں 15 سے 20 روپے فی لیٹر، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 10 سے 16 روپے کی فی لیٹر کمی متوقع تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30353327</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Nov 2023 12:58:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (یاسر نذر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/11/011254065f06141.jpg?r=125651" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/11/011254065f06141.jpg?r=125651"/>
        <media:title>فوٹو — فائل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
