<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 10:52:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 10:52:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیش میں 300 انٹرنیشنل گارمنٹس فیکٹریاں بند، ملازمین کا تنخواہیں بڑھانے کا مطالبہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30353736/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بنگلہ دیش میں دنیا کے مشہور کپڑوں کے برانڈز لیویز اور ایچ اینڈ ایم کو پیداوار میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ مزدروں کی جانب اجرت میں اضافہ نہ کرنے کے خلاف احتجاج کیا جارہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گارمنٹس یونین کے ایک رہنما نے کہا کہ مزدوروں کی اجرت میں قریب تین گنا اضافے کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کی 3,500 گارمنٹ فیکٹریاں جنوبی ایشیائی ملک کی 55 ارب ڈالر کی سالانہ برآمدات کا تقریباً 85 فیصد بنتی ہیں، جوفیشن کی دنیا میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صنعت سے وابستہ 40 لاکھ افراد میں سے متعدد کو مشکلات کا سامنا ہے، جن میں سے اکثریت خواتین کی ہے، ان کی ماہانہ اجرت8 ہزار300 ٹکا (ڈالر75) سے شروع ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پُرتشدد مظاہروں کے دوران مزدوروں کی جانب سے متعدد فیکٹریوں کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا جا چکا ہے، جبکہ مالکان نے توڑ پھوڑ سے بچنے کے لیے فیکٹری کو بند کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش گارمنٹس اینڈ انڈسٹریل ورکرز فیڈریشن کی صدر کلپونہ اکٹر نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان میں سے ملک کی بہت سی بڑی فیکٹریاں ہیں، جو تقریباً تمام بڑے مغربی برانڈز اور ریٹیلز کے لیے کپڑے تیار کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جن مالکان نے فیکٹریاں بند کی ہیں، وہ ان برانڈز کے نام بتانے سے گریز کر رہیں، تاکہ ان کے آرڈرز پر کوئی اثر نہ پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے بتایا کہ ہفتے بھر سے جاری احتجاج میں 300 فیکٹریاں بند کر دی گئی ہیں، جس سے اب تک دو مزدور ہلاک اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ دارالحکومت ڈھاکہ میں حتجاج جمعہ کو بھی جاری رہا، تقریباً 3ہزار  فیکٹری ملازمین نے بائکاٹ کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بنگلہ دیش میں دنیا کے مشہور کپڑوں کے برانڈز لیویز اور ایچ اینڈ ایم کو پیداوار میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ مزدروں کی جانب اجرت میں اضافہ نہ کرنے کے خلاف احتجاج کیا جارہا ہے۔</strong></p>
<p>گارمنٹس یونین کے ایک رہنما نے کہا کہ مزدوروں کی اجرت میں قریب تین گنا اضافے کیا جائے۔</p>
<p>بنگلہ دیش کی 3,500 گارمنٹ فیکٹریاں جنوبی ایشیائی ملک کی 55 ارب ڈالر کی سالانہ برآمدات کا تقریباً 85 فیصد بنتی ہیں، جوفیشن کی دنیا میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں۔</p>
<p>اس صنعت سے وابستہ 40 لاکھ افراد میں سے متعدد کو مشکلات کا سامنا ہے، جن میں سے اکثریت خواتین کی ہے، ان کی ماہانہ اجرت8 ہزار300 ٹکا (ڈالر75) سے شروع ہوتی ہے۔</p>
<p>پُرتشدد مظاہروں کے دوران مزدوروں کی جانب سے متعدد فیکٹریوں کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا جا چکا ہے، جبکہ مالکان نے توڑ پھوڑ سے بچنے کے لیے فیکٹری کو بند کر دیا ہے۔</p>
<p>بنگلہ دیش گارمنٹس اینڈ انڈسٹریل ورکرز فیڈریشن کی صدر کلپونہ اکٹر نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان میں سے ملک کی بہت سی بڑی فیکٹریاں ہیں، جو تقریباً تمام بڑے مغربی برانڈز اور ریٹیلز کے لیے کپڑے تیار کرتی ہیں۔</p>
<p>جن مالکان نے فیکٹریاں بند کی ہیں، وہ ان برانڈز کے نام بتانے سے گریز کر رہیں، تاکہ ان کے آرڈرز پر کوئی اثر نہ پڑے۔</p>
<p>پولیس نے بتایا کہ ہفتے بھر سے جاری احتجاج میں 300 فیکٹریاں بند کر دی گئی ہیں، جس سے اب تک دو مزدور ہلاک اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ دارالحکومت ڈھاکہ میں حتجاج جمعہ کو بھی جاری رہا، تقریباً 3ہزار  فیکٹری ملازمین نے بائکاٹ کردیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30353736</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Nov 2023 10:25:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/11/04100826b93bd75.webp?r=100905" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/11/04100826b93bd75.webp?r=100905"/>
        <media:title>تصویر: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
