<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 16:07:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 16:07:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت کس سیکٹر سے کتنا ٹیکس وصول کر رہی ہے، آئی ایم ایف نے رپورٹ طلب کرلی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30353755/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے فیدرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے جون 2024 تک 6670 ارب روپے محصولات جمع کرنے کا پلان مانگ لیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 10 روزہ مذاکرات جاری ہیں، اسی دوران آئی ایم ایف نے ایف بی آر سے پیر کو نے رواں مالی سال کے لئے 6670 ارب روپے محصولات جمع کرنے کا پلان مانگ لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا کہ ایف بی آر ریونیو اہداف میں ٹیکس شارٹ فال نہیں کرے گا اور ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھا کر ریونیو محصولات کو بڑھایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہا کہ عالمی ادارے نے زیر التوا ٹیکس کیسز پر پیشرفت رپورٹ بھی طلب کی جسے ایف بی آر پیر کو پیش کرے گا جب کہ ریونیو بورڈ نے 10 لاکھ نئے ٹیکس دہندگان کی تفصیلات آئی ایم ایف کو شیئر کردی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30353662/"&gt;پاکستانی برآمدات 600 ملین ڈالر ماہانہ تک بڑھنے کی امید ہے، چئیرمین
ایپٹما&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30353599/"&gt;آئی ایم ایف کا پاکستان کو قرض پروگرام کی تمام شرائط پر سختی سے عمل
کرنے پر زور&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30353290/"&gt;ایف بی آر نے چوتھے ماہ محصولات کی وصولی کا ہدف حاصل
کرلیا&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ ذرائع نے مزید بتایا کہ 4.9 ملین ٹیکس دہندگان کو 10 ملین تک بڑھانے کے لئے آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت ہوئی، ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھانے حکومت اور عالمی ادارے کے درمیان مشاورت کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ آئی ایم ایف نے ریونیوم حصولات میں شارٹ فال اور ٹیکس چھوٹ کے لئے حکومت کو گنجائش نہیں دی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے فیدرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے جون 2024 تک 6670 ارب روپے محصولات جمع کرنے کا پلان مانگ لیا۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 10 روزہ مذاکرات جاری ہیں، اسی دوران آئی ایم ایف نے ایف بی آر سے پیر کو نے رواں مالی سال کے لئے 6670 ارب روپے محصولات جمع کرنے کا پلان مانگ لیا ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا کہ ایف بی آر ریونیو اہداف میں ٹیکس شارٹ فال نہیں کرے گا اور ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھا کر ریونیو محصولات کو بڑھایا جائے۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہا کہ عالمی ادارے نے زیر التوا ٹیکس کیسز پر پیشرفت رپورٹ بھی طلب کی جسے ایف بی آر پیر کو پیش کرے گا جب کہ ریونیو بورڈ نے 10 لاکھ نئے ٹیکس دہندگان کی تفصیلات آئی ایم ایف کو شیئر کردی ہیں۔</p>
<p><strong>یہ بھی پڑھیں:</strong></p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30353662/">پاکستانی برآمدات 600 ملین ڈالر ماہانہ تک بڑھنے کی امید ہے، چئیرمین
ایپٹما</a></p>
</blockquote>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30353599/">آئی ایم ایف کا پاکستان کو قرض پروگرام کی تمام شرائط پر سختی سے عمل
کرنے پر زور</a></p>
</blockquote>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30353290/">ایف بی آر نے چوتھے ماہ محصولات کی وصولی کا ہدف حاصل
کرلیا</a></p>
</blockquote>
<p>اس کے علاوہ ذرائع نے مزید بتایا کہ 4.9 ملین ٹیکس دہندگان کو 10 ملین تک بڑھانے کے لئے آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت ہوئی، ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھانے حکومت اور عالمی ادارے کے درمیان مشاورت کی جائے گی۔</p>
<p>خیال رہے کہ آئی ایم ایف نے ریونیوم حصولات میں شارٹ فال اور ٹیکس چھوٹ کے لئے حکومت کو گنجائش نہیں دی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30353755</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Nov 2023 12:07:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (یاسر نذر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/11/041200539c38644.jpg?r=120635" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/11/041200539c38644.jpg?r=120635"/>
        <media:title>فوٹو — فائل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
