<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 10:38:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 10:38:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یوکرائنی آرمی چیف کا معتمد خاص سالگرہ میں ملنے والا تحفہ پھٹنے سے ہلاک</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30354413/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یوکرائنی مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف کے معتمد خاص سالگرہ میں ملنے والا گرینیڈ پھٹنے سے ہلاک ہوگئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیلی گرام پر جاری ایک پیغام میں، یوکرین کی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف والیری زلوزنی نے بتایا کہ ان کے معاون اور قریبی دوست میجر ہینادی چاسٹیاکوف اپنی سالگرہ منا رہے تھے، اس دوران ان کے تحفے میں سے ایک ”نامعلوم دھماکہ خیز ڈیوائس“ برآمد ہوا جو نکالتے ہی پھٹ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زلوزنی نے کہا کہ چستیاکوف کی موت سے ”ناقابل بیان درد“ ہوا اور یہ ناصرف ان کیلئے بلکہ فوج کے لیے بھی ایک ”بھاری نقصان“ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر مکمل حملے کے آغاز کے بعد سے چستیاکوف اعلیٰ جنرل کے لیے ایک ”قابل اعتماد کندھا“ رہے تھے اور ان کی موت کی تحقیقات کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30354319"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرینسکا پراوڈا نے قانون نافذ کرنے والے ایک نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ چستیاکوف کی اہلیہ نے بتایا کہ گفٹ بیگ کے اندر دستی بم تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق گفٹ بیگ میں شراب کی بوتل اور شاٹ گلاسز بھی تھے جو دستی بموں کی طرح نظر آتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چستیاکوف کے 13 سالہ بیٹے کو بھی مبینہ طور پر شدید زخمی حالت میں اسپتال لے جایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30354398"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چسیاکوف کی موت کے حالات کے بارے میں ابتدائی رپورٹس میں بہت کچھ واضح نہیں تھا، لیکن یوکرین کے وزیر برائے داخلہ امور ایہور کلیمنکو نے بعد میں واضح کیا کہ چشتیاکوف اپنے ساتھیوں سے ملے تحائف کے ساتھ دفتر سے گھر واپس آئے تھے، ان میں سے ایک نئے مغربی ساختہ دستی بموں کا ایک ڈبہ تھا۔ جو انہوں نے اپنے بیٹے کو دکھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کلیمنکو نے ٹیلیگرام کے ایک پیغام میں کہا کہ چستیاکوف اور ان کے بیٹے کے ہاتھوں حادثاتی طور پر دستی بم ڈیٹونیٹ ہوا اور دھماکہ ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں پولیس کو ان کی رہائش گاہ سے مزید پانچ بغیر پھٹے دستی بم ملے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30354330"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایک یوکرائنی فوجی کی شناخت کی جس نے دستی بموں کا ڈبہ چستیاکوف کو دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کلیمنکو نے کہا کہ فوجی کے دفتر کی تلاشی لی گئی ہے، اور وہاں سے مزید دستی بم ملے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرین کی قومی پولیس فورس نے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکام صورتحال اور دستی بموں سے نمٹنے کے طریقے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یوکرائنی مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف کے معتمد خاص سالگرہ میں ملنے والا گرینیڈ پھٹنے سے ہلاک ہوگئے۔</strong></p>
<p>ٹیلی گرام پر جاری ایک پیغام میں، یوکرین کی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف والیری زلوزنی نے بتایا کہ ان کے معاون اور قریبی دوست میجر ہینادی چاسٹیاکوف اپنی سالگرہ منا رہے تھے، اس دوران ان کے تحفے میں سے ایک ”نامعلوم دھماکہ خیز ڈیوائس“ برآمد ہوا جو نکالتے ہی پھٹ گیا۔</p>
<p>زلوزنی نے کہا کہ چستیاکوف کی موت سے ”ناقابل بیان درد“ ہوا اور یہ ناصرف ان کیلئے بلکہ فوج کے لیے بھی ایک ”بھاری نقصان“ ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر مکمل حملے کے آغاز کے بعد سے چستیاکوف اعلیٰ جنرل کے لیے ایک ”قابل اعتماد کندھا“ رہے تھے اور ان کی موت کی تحقیقات کی جائیں گی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30354319"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یوکرینسکا پراوڈا نے قانون نافذ کرنے والے ایک نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ چستیاکوف کی اہلیہ نے بتایا کہ گفٹ بیگ کے اندر دستی بم تھا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق گفٹ بیگ میں شراب کی بوتل اور شاٹ گلاسز بھی تھے جو دستی بموں کی طرح نظر آتے تھے۔</p>
<p>چستیاکوف کے 13 سالہ بیٹے کو بھی مبینہ طور پر شدید زخمی حالت میں اسپتال لے جایا گیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30354398"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>چسیاکوف کی موت کے حالات کے بارے میں ابتدائی رپورٹس میں بہت کچھ واضح نہیں تھا، لیکن یوکرین کے وزیر برائے داخلہ امور ایہور کلیمنکو نے بعد میں واضح کیا کہ چشتیاکوف اپنے ساتھیوں سے ملے تحائف کے ساتھ دفتر سے گھر واپس آئے تھے، ان میں سے ایک نئے مغربی ساختہ دستی بموں کا ایک ڈبہ تھا۔ جو انہوں نے اپنے بیٹے کو دکھایا۔</p>
<p>کلیمنکو نے ٹیلیگرام کے ایک پیغام میں کہا کہ چستیاکوف اور ان کے بیٹے کے ہاتھوں حادثاتی طور پر دستی بم ڈیٹونیٹ ہوا اور دھماکہ ہوگیا۔</p>
<p>بعد ازاں پولیس کو ان کی رہائش گاہ سے مزید پانچ بغیر پھٹے دستی بم ملے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30354330"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے ایک یوکرائنی فوجی کی شناخت کی جس نے دستی بموں کا ڈبہ چستیاکوف کو دیا۔</p>
<p>کلیمنکو نے کہا کہ فوجی کے دفتر کی تلاشی لی گئی ہے، اور وہاں سے مزید دستی بم ملے ہیں۔</p>
<p>یوکرین کی قومی پولیس فورس نے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکام صورتحال اور دستی بموں سے نمٹنے کے طریقے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30354413</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Nov 2023 19:27:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/11/0819234200175fe.jpg?r=192604" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/11/0819234200175fe.jpg?r=192604"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
