<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 00:37:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 00:37:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عوام کی صحت بچانے کیلئے’جنک فوڈ’ پر بھاری ٹیکس نافذ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30354745/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاطینی امریکی ملک کولمبیا نے صحت مند معاشرے کو فروغ دینے  اور  بیماریوں سے نمٹنے کے لیے ’جنک فوڈ قانون‘ منظور کر لیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کولمبیا میں کئی سالوں کی مہم کے بعد رواں ماہ ’جنک فوڈ قانون‘ نافذ کیا گیا اور آہستہ آہستہ لیوی متعارف کرائی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متاثرہ کھانے پینے کی اشیاء پر اضافی ٹیکس فوری طور پر 10 فیصد سے شروع ہوگا جو اگلے سال بڑھ کر 15 فیصد اور 2025 میں 20 فیصد تک پہنچ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کولمبیا میں الٹرا پروسیسڈ فوڈ پر واضح طور پر ٹیکس عائد کرنے والے دنیا کے پہلے ممالک میں سے ایک ہے۔ نئے قانون کی مہم چلانے والوں اور صحت کے ماہرین نے اس قانون کو سراہا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ دوسرے ممالک کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ انہیں اس قانون کے نفاذ سے پہلے کے برسوں میں خوراک اور مشروبات کی صنعتوں کی طرف سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30354642"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لندن کے امپیریل کالج بزنس اسکول میں انٹرنیشنل ہیلتھ پالیسی اور اکنامکس کے پروفیسر فرانکو ساسی کا کہنا ہے کہ ’دنیا بھر کے ممالک ہیلتھ ٹیکسز نافذ کر رہے ہیں، تاہم کولمبیا کا ماڈل ہماری نظر سے گزرنے والے  اسطرح کے اقدامات میں زیادہ وسیع ہے جو دوسرے ممالک کے لئے ایک مثال کے طور پر کام کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30354612"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروفیسر فرانکو ساسی کا مزید کہنا ہے کہ اس ٹیکس میں صنعتی طور پر تیار کردہ کھانے کے لیے تیار کھانے کی اشیاء کے ساتھ  نمک اور سیچوریٹڈ چربی جیسے چاکلیٹ یا کرسپس جیسی مصنوعات کو بھی شامل کیا گیا  ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاطینی امریکی ملک کولمبیا نے صحت مند معاشرے کو فروغ دینے  اور  بیماریوں سے نمٹنے کے لیے ’جنک فوڈ قانون‘ منظور کر لیا۔</strong></p>
<p>کولمبیا میں کئی سالوں کی مہم کے بعد رواں ماہ ’جنک فوڈ قانون‘ نافذ کیا گیا اور آہستہ آہستہ لیوی متعارف کرائی جائے گی۔</p>
<p>متاثرہ کھانے پینے کی اشیاء پر اضافی ٹیکس فوری طور پر 10 فیصد سے شروع ہوگا جو اگلے سال بڑھ کر 15 فیصد اور 2025 میں 20 فیصد تک پہنچ جائے گا۔</p>
<p>کولمبیا میں الٹرا پروسیسڈ فوڈ پر واضح طور پر ٹیکس عائد کرنے والے دنیا کے پہلے ممالک میں سے ایک ہے۔ نئے قانون کی مہم چلانے والوں اور صحت کے ماہرین نے اس قانون کو سراہا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ دوسرے ممالک کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔</p>
<p>مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ انہیں اس قانون کے نفاذ سے پہلے کے برسوں میں خوراک اور مشروبات کی صنعتوں کی طرف سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30354642"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>لندن کے امپیریل کالج بزنس اسکول میں انٹرنیشنل ہیلتھ پالیسی اور اکنامکس کے پروفیسر فرانکو ساسی کا کہنا ہے کہ ’دنیا بھر کے ممالک ہیلتھ ٹیکسز نافذ کر رہے ہیں، تاہم کولمبیا کا ماڈل ہماری نظر سے گزرنے والے  اسطرح کے اقدامات میں زیادہ وسیع ہے جو دوسرے ممالک کے لئے ایک مثال کے طور پر کام کرسکتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30354612"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پروفیسر فرانکو ساسی کا مزید کہنا ہے کہ اس ٹیکس میں صنعتی طور پر تیار کردہ کھانے کے لیے تیار کھانے کی اشیاء کے ساتھ  نمک اور سیچوریٹڈ چربی جیسے چاکلیٹ یا کرسپس جیسی مصنوعات کو بھی شامل کیا گیا  ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30354745</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Nov 2023 22:16:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/11/10214708a2e7d17.webp?r=214734" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/11/10214708a2e7d17.webp?r=214734"/>
        <media:title>فوٹو ــ فائل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
