<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 17:54:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 17:54:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا میں غزہ جنگ کے خلاف مظاہرہ، ’کارکن نیویارک ٹائمز کی لابی میں داخل‘</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30354757/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا میں احتجاج کے دوران مظاہرین  نیویارک ٹائمز کے دفتر میں داخل ہوگئے۔ شرکاء نے غزہ پر اسرائیلی بمباری کے دوران میڈیا سے وابستہ افراد سمیت دیگر کی اموات کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروایا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈیا ٹو ڈے کی رپورٹ کے مطابق امریکا کی سڑکوں پر  فلسطینی جھنڈے اٹھائے ہزاروں مظاہرین ، غزہ پر اسرائیلی بمباری کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے مڈ ٹاؤن مین ہیٹن سے ہوتے ہوئے نیویارک ٹائمز کے دفتر پہنچے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غصے میں بھرے کارکن  نیویارک ٹائمز کے دفتر  کی لابی میں گھس گئے۔ انھوں نے غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور علامتی طور پر اخبار کی کاپیاں فرش پر بکھیرتے ہوئے  غزہ میں جان سے ہاتھ دھونے والے صحافیوں سمیت  فلسطینیوں کے نام پڑھ کر سنائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مظاہرین نے  میڈیا پر الزام عائد کیا کہ اسرائیل حماس جنگ کی کوریج میں اس کا جھکاؤ اسرائیل کی طرف دکھائی دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احتجاج کے حوالے سے انڈیا ٹو ڈے نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’مقامی وقت کے مطابق شام 5 بجے کے قریب میڈیا کارکنوں کی قیادت میں لوگوں کا ایک چھوٹا سا گروپ، جو خود کو ’رائٹرز بلاک‘ کہتے ہیں، بینرز کے ساتھ نیویارک ٹائمز کی لابی میں داخل ہوا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30354726"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کارکنوں نے نیویارک ٹائمز کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ عوامی طور پر غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرے۔ ان میں سے کچھ نے فلسطینی جھنڈے لہرائے جبکہ دیگر نے غزہ میں مارے گئے  فلسطینی شہریوں کے نام پڑھے جن میں 36 صحافی بھی شامل تھے۔ جن کی اموات  کی تصدیق اسرائیل کے غزہ پر حملوں کے بعد سے ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30354725"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مظاہرین کی جانب سے فرش پر بچھائے گئے اخبار کے جس صفحے پر فرائض کی انجام دہی کے دوران مرنے والے صحافیوں کی خبر تھی ، اس کا عنوان تھا، ”ہم نے اپنے ساتھیوں کو قتل کیا“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمارت کی لابی میں موجود پولیس نے ایک گھنٹے کے اندر علاقے کو صاف کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ احتجاج کے سلسلے میں جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ احتجاج کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا میں احتجاج کے دوران مظاہرین  نیویارک ٹائمز کے دفتر میں داخل ہوگئے۔ شرکاء نے غزہ پر اسرائیلی بمباری کے دوران میڈیا سے وابستہ افراد سمیت دیگر کی اموات کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروایا۔</strong></p>
<p>انڈیا ٹو ڈے کی رپورٹ کے مطابق امریکا کی سڑکوں پر  فلسطینی جھنڈے اٹھائے ہزاروں مظاہرین ، غزہ پر اسرائیلی بمباری کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے مڈ ٹاؤن مین ہیٹن سے ہوتے ہوئے نیویارک ٹائمز کے دفتر پہنچے۔</p>
<p>غصے میں بھرے کارکن  نیویارک ٹائمز کے دفتر  کی لابی میں گھس گئے۔ انھوں نے غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور علامتی طور پر اخبار کی کاپیاں فرش پر بکھیرتے ہوئے  غزہ میں جان سے ہاتھ دھونے والے صحافیوں سمیت  فلسطینیوں کے نام پڑھ کر سنائے۔</p>
<p>مظاہرین نے  میڈیا پر الزام عائد کیا کہ اسرائیل حماس جنگ کی کوریج میں اس کا جھکاؤ اسرائیل کی طرف دکھائی دیا۔</p>
<p>احتجاج کے حوالے سے انڈیا ٹو ڈے نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’مقامی وقت کے مطابق شام 5 بجے کے قریب میڈیا کارکنوں کی قیادت میں لوگوں کا ایک چھوٹا سا گروپ، جو خود کو ’رائٹرز بلاک‘ کہتے ہیں، بینرز کے ساتھ نیویارک ٹائمز کی لابی میں داخل ہوا‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30354726"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>کارکنوں نے نیویارک ٹائمز کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ عوامی طور پر غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرے۔ ان میں سے کچھ نے فلسطینی جھنڈے لہرائے جبکہ دیگر نے غزہ میں مارے گئے  فلسطینی شہریوں کے نام پڑھے جن میں 36 صحافی بھی شامل تھے۔ جن کی اموات  کی تصدیق اسرائیل کے غزہ پر حملوں کے بعد سے ہوئی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30354725"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مظاہرین کی جانب سے فرش پر بچھائے گئے اخبار کے جس صفحے پر فرائض کی انجام دہی کے دوران مرنے والے صحافیوں کی خبر تھی ، اس کا عنوان تھا، ”ہم نے اپنے ساتھیوں کو قتل کیا“۔</p>
<p>عمارت کی لابی میں موجود پولیس نے ایک گھنٹے کے اندر علاقے کو صاف کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ احتجاج کے سلسلے میں جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ احتجاج کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30354757</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Nov 2023 23:03:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/11/10223256ca5829f.webp?r=225742" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/11/10223256ca5829f.webp?r=225742"/>
        <media:title>نیویارک ٹائمز کے دفتر میں مظاہرین نے غزہ میں ہلاک ہونے والے صحافیوں سمیت ہزاروں فلسطینیوں کے نام پڑھ کر سنائے۔ فوٹو: ایکس / @johnknefel
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
