<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 08:13:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 08:13:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گوگل دسمبرمیں لاکھوں جی میل اکاؤنٹس ڈیلیٹ کردے گا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30354785/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا کا معروف ترین سرچ اِنجن گوگل نے دسمبر2023 میں لاکھوں ’جی میل‘ اکاؤنٹس ڈیلیٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل پروڈکٹ منیجمنٹ کی نائب صدررُتھ کریچلی کے مطابق صارفین کے اکاؤنٹس کو درپیش خطرہ کم کرنے کیلئے غیراستعمال شدہ اکاؤنٹس ڈیلیٹ کیے جارہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ڈی ٹی وی کے مطابق گوگل دسمبر میں ان میں لاکھوں جی میل اکاؤنٹس کو ڈیلیٹ کرے گاجنہیں دو سال سے استعمال نہیں کیا جارہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکاؤنٹس ڈیلیٹ کرنے کی پالیسی سے متعلق رُتھ لکریچلی مزید بتایا کہ غیر فعال اکاؤنٹس کے ساتھ  ساتھ ان پرموجود مواد بھی ڈیلیٹ کردیا جائے گا۔ یعنی جن اکاؤنٹس پر 2 سال سے سائن اِن نہیں کیا گیا انہیں ڈیلیٹ کرتے ہوئے ساتھ جی میل،ڈرائیو، کلینڈر اورفوٹوز بھی ڈیلیٹ کردی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="مزید-پڑھیں" href="#مزید-پڑھیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مزید پڑھیں&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30340341/"&gt;ای میل کا انگریزی سے اردو ترجمہ اب آپ کا فون کرے گا&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30326632/now-google-will-also-give-free-blue-tick-on-gmail"&gt;اب گوگل بھی جی میل پر مفت ”بلیو ٹک“ دے گا&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30293960/d"&gt;گوگل پلے کی 10ویں سالگرہ پر نیا لوگو متعارف&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ اقدام اٹھانے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ گوگل کے غیر فعال اکاؤنٹس اکثر پرانے یا دوبارہ استعمال شدہ پاس ورڈزپرانحصارکرتے ہیں جن پر ٹو وے اوتھینٹیکیشن نہیں ہوتی اور انہیں بآسانی ہیک کیاجاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل کی جانب سے کیے جانے والے  سروے کے مطابق غیر فعال اکاؤنٹس کی نسبت فعال اکاؤنٹس پردس گنا زیادہ ٹو وے ویریفیکیشن موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل پروڈکٹ مینجمنٹ کی نائب صدر کا کہنا ہے کہ ٹو وے ویریفیکیشن کے بغیر اکاؤنٹس کو بآسانی نقصان پہنچا کرکسی کی بھی شناخت چھِینی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="کون-سے-اکاؤنٹس-پہلے-ڈیلیٹ-کیے-جائیں-گے" href="#کون-سے-اکاؤنٹس-پہلے-ڈیلیٹ-کیے-جائیں-گے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;کون سے اکاؤنٹس پہلے ڈیلیٹ کیے جائیں گے؟&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;گوگل وہ اکاؤنٹس کو ڈیلیٹ کرے گا جو گزشتہ دو سال سے استعمال نہیں کیے جارہےتاہم آرگنائزیشنز مثلاً اسکول اوربزنس کیلئے استعمال کیے جانے والے اکاؤنٹس ڈیلیٹ نہیں کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30350142"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو سال میں کم از کم ایک بارسائن اِن کیے جانے والے اکاؤنٹس  فعال شمارکیے جائیں گے اور اُنہیں بھی ڈیلیٹ نہیں کیا جائے گا۔اس کے علاوہ جن اکاؤنٹس پر اس عرصے میں کوئی ای میل بھیجی یا پڑھی گئی، گوگل ڈرائیو استعمال کی گئی یا ویڈیو اسٹریمنگ پلیٹ فارم یوٹیوب پرویڈیو دیکھی گئی ہو گی تو وہ بھی فعال تصور کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل کی جانب سے یہ بھی کہاگیا ہے کہ جن اکاؤنٹس سے گوگل پلے اسٹور سے کوئی ایپلیکیشن ڈاون لوڈ یا گوگل سرچ انجن استعمال کیا گیا ہوگا وہ بھی فعال اکاؤنٹس میں شمار ہوں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا کا معروف ترین سرچ اِنجن گوگل نے دسمبر2023 میں لاکھوں ’جی میل‘ اکاؤنٹس ڈیلیٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔</strong></p>
<p>گوگل پروڈکٹ منیجمنٹ کی نائب صدررُتھ کریچلی کے مطابق صارفین کے اکاؤنٹس کو درپیش خطرہ کم کرنے کیلئے غیراستعمال شدہ اکاؤنٹس ڈیلیٹ کیے جارہے ہیں۔</p>
<p>این ڈی ٹی وی کے مطابق گوگل دسمبر میں ان میں لاکھوں جی میل اکاؤنٹس کو ڈیلیٹ کرے گاجنہیں دو سال سے استعمال نہیں کیا جارہا۔</p>
<p>اکاؤنٹس ڈیلیٹ کرنے کی پالیسی سے متعلق رُتھ لکریچلی مزید بتایا کہ غیر فعال اکاؤنٹس کے ساتھ  ساتھ ان پرموجود مواد بھی ڈیلیٹ کردیا جائے گا۔ یعنی جن اکاؤنٹس پر 2 سال سے سائن اِن نہیں کیا گیا انہیں ڈیلیٹ کرتے ہوئے ساتھ جی میل،ڈرائیو، کلینڈر اورفوٹوز بھی ڈیلیٹ کردی جائیں گی۔</p>
<h2><a id="مزید-پڑھیں" href="#مزید-پڑھیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مزید پڑھیں</h2>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30340341/">ای میل کا انگریزی سے اردو ترجمہ اب آپ کا فون کرے گا</a></p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30326632/now-google-will-also-give-free-blue-tick-on-gmail">اب گوگل بھی جی میل پر مفت ”بلیو ٹک“ دے گا</a></p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30293960/d">گوگل پلے کی 10ویں سالگرہ پر نیا لوگو متعارف</a></p>
<p>انہوں نے یہ اقدام اٹھانے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ گوگل کے غیر فعال اکاؤنٹس اکثر پرانے یا دوبارہ استعمال شدہ پاس ورڈزپرانحصارکرتے ہیں جن پر ٹو وے اوتھینٹیکیشن نہیں ہوتی اور انہیں بآسانی ہیک کیاجاسکتا ہے۔</p>
<p>گوگل کی جانب سے کیے جانے والے  سروے کے مطابق غیر فعال اکاؤنٹس کی نسبت فعال اکاؤنٹس پردس گنا زیادہ ٹو وے ویریفیکیشن موجود ہے۔</p>
<p>گوگل پروڈکٹ مینجمنٹ کی نائب صدر کا کہنا ہے کہ ٹو وے ویریفیکیشن کے بغیر اکاؤنٹس کو بآسانی نقصان پہنچا کرکسی کی بھی شناخت چھِینی جاسکتی ہے۔</p>
<h2><a id="کون-سے-اکاؤنٹس-پہلے-ڈیلیٹ-کیے-جائیں-گے" href="#کون-سے-اکاؤنٹس-پہلے-ڈیلیٹ-کیے-جائیں-گے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>کون سے اکاؤنٹس پہلے ڈیلیٹ کیے جائیں گے؟</h2>
<p>گوگل وہ اکاؤنٹس کو ڈیلیٹ کرے گا جو گزشتہ دو سال سے استعمال نہیں کیے جارہےتاہم آرگنائزیشنز مثلاً اسکول اوربزنس کیلئے استعمال کیے جانے والے اکاؤنٹس ڈیلیٹ نہیں کیے جائیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30350142"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دو سال میں کم از کم ایک بارسائن اِن کیے جانے والے اکاؤنٹس  فعال شمارکیے جائیں گے اور اُنہیں بھی ڈیلیٹ نہیں کیا جائے گا۔اس کے علاوہ جن اکاؤنٹس پر اس عرصے میں کوئی ای میل بھیجی یا پڑھی گئی، گوگل ڈرائیو استعمال کی گئی یا ویڈیو اسٹریمنگ پلیٹ فارم یوٹیوب پرویڈیو دیکھی گئی ہو گی تو وہ بھی فعال تصور کیے جائیں گے۔</p>
<p>گوگل کی جانب سے یہ بھی کہاگیا ہے کہ جن اکاؤنٹس سے گوگل پلے اسٹور سے کوئی ایپلیکیشن ڈاون لوڈ یا گوگل سرچ انجن استعمال کیا گیا ہوگا وہ بھی فعال اکاؤنٹس میں شمار ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30354785</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Nov 2023 09:37:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/11/11093438a94cfac.webp?r=093505" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/11/11093438a94cfac.webp?r=093505"/>
        <media:title>تصویر — فائل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
