<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 04:59:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 04:59:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کم نیند خواتین میں ذیابیطس کا خطرہ بڑھا سکتی ہے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30355633/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں ایک تحقیق کے مطابق ٹائپ 2 ذیابیطس  کے مریضوں کی تعداد دوسرے ممالک کے مقابلے میں بہت تیزی سےبڑھ رہی ہے جس کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کی ایک تحقیق کے مطابق محققین نے خواتین، خاص طور پر پوسٹ مینوپازل افراد میں  ناکافی نیند اور انسولین کی مزاحمت میں اضافے کے درمیان ایک اہم تعلق کا انکشاف کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذیابیطس کیئر میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرے کو کم کرنے میں مناسب نیند کے اہم کردار پر زور دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک ایسی حالت ہے جو خون میں شکر کی سطح کو منظم کرنے کے لئے انسولین کے غیر مؤثر استعمال سے پیدا ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق خواتین مردوں کے مقابلے میں کم نیند لیتی ہیں۔ لہذا یہ بات سامنے آتی ہے کہ نیند کی خرابی زندگی بھر ان کی صحت کو کس طرح متاثر کرسکتی ہے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2023/11/161058423759c41.jpg'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تحقیق 20 سے 75 سال کی عمر کی 40 خواتین پر کی گئی جن میں زیادہ وزن، موٹاپا، ٹائپ ٹو ذیابیطس کی خاندانی ہسٹری، لیپڈ لیول میں اضافہ یا دل کی بیماری جیسے عوامل کی وجہ سے کارڈیو میٹابولک بیماریوں کا خطرہ زیادہ پایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تمام افراد کو چھ ہفتے کے مراحل سے گزارا گیا جس میں سے کچھ اخواتین اد کو ایک صحت مند نیند کے پیٹرن اور دوسرے گروپ کو چند گھنٹوں (6 گھنٹے ) کی ناکافی نیند کے ساتھ سلایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2023/11/1610584694e8a15.jpg'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="مزید-پڑھیں" href="#مزید-پڑھیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/60554"&gt;دن کے وقت زیادہ نیند لینا ذیابیطس کا سبب ہوسکتا ہے
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30315587"&gt;رات کی نیند کو بہتر بنانے کے 3 طریقے
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/118970"&gt;کم سونا بچوں میں ذیابیطس کا سبب ہو سکتا ہے
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تحقیق کی سینئر مصنفہ میری پیئر سینٹ اونگے کا کہنا ہے کہ ’ نیند کی پابندی کے حالات میں خواتین میں گلوکوز کی سطح کو معمول پرلانے کے لیے انسولین کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--right  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30337981"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتائج میں یہ بات سامنے آئی کہ جو خواتین کم نیند لے رہی تھیں ان میں انسولین کی مزاحمت ذیادہ پائی گئی بہ نسبت ان خواتین کے جو ایک مکمل نیند لے رہی تھیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں ایک تحقیق کے مطابق ٹائپ 2 ذیابیطس  کے مریضوں کی تعداد دوسرے ممالک کے مقابلے میں بہت تیزی سےبڑھ رہی ہے جس کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔</strong></p>
<p>نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کی ایک تحقیق کے مطابق محققین نے خواتین، خاص طور پر پوسٹ مینوپازل افراد میں  ناکافی نیند اور انسولین کی مزاحمت میں اضافے کے درمیان ایک اہم تعلق کا انکشاف کیا ہے۔</p>
<p>ذیابیطس کیئر میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرے کو کم کرنے میں مناسب نیند کے اہم کردار پر زور دیا گیا ہے۔</p>
<p>یہ ایک ایسی حالت ہے جو خون میں شکر کی سطح کو منظم کرنے کے لئے انسولین کے غیر مؤثر استعمال سے پیدا ہوتی ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق خواتین مردوں کے مقابلے میں کم نیند لیتی ہیں۔ لہذا یہ بات سامنے آتی ہے کہ نیند کی خرابی زندگی بھر ان کی صحت کو کس طرح متاثر کرسکتی ہے ۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2023/11/161058423759c41.jpg'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ تحقیق 20 سے 75 سال کی عمر کی 40 خواتین پر کی گئی جن میں زیادہ وزن، موٹاپا، ٹائپ ٹو ذیابیطس کی خاندانی ہسٹری، لیپڈ لیول میں اضافہ یا دل کی بیماری جیسے عوامل کی وجہ سے کارڈیو میٹابولک بیماریوں کا خطرہ زیادہ پایا گیا۔</p>
<p>ان تمام افراد کو چھ ہفتے کے مراحل سے گزارا گیا جس میں سے کچھ اخواتین اد کو ایک صحت مند نیند کے پیٹرن اور دوسرے گروپ کو چند گھنٹوں (6 گھنٹے ) کی ناکافی نیند کے ساتھ سلایا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2023/11/1610584694e8a15.jpg'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<h2><a id="مزید-پڑھیں" href="#مزید-پڑھیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>مزید پڑھیں</strong></h2>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/60554">دن کے وقت زیادہ نیند لینا ذیابیطس کا سبب ہوسکتا ہے
</a></p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30315587">رات کی نیند کو بہتر بنانے کے 3 طریقے
</a></p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/118970">کم سونا بچوں میں ذیابیطس کا سبب ہو سکتا ہے
</a></p>
<p>اس تحقیق کی سینئر مصنفہ میری پیئر سینٹ اونگے کا کہنا ہے کہ ’ نیند کی پابندی کے حالات میں خواتین میں گلوکوز کی سطح کو معمول پرلانے کے لیے انسولین کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--right  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30337981"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>نتائج میں یہ بات سامنے آئی کہ جو خواتین کم نیند لے رہی تھیں ان میں انسولین کی مزاحمت ذیادہ پائی گئی بہ نسبت ان خواتین کے جو ایک مکمل نیند لے رہی تھیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30355633</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Nov 2023 11:33:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/11/16110151c918081.png?r=110438" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/11/16110151c918081.png?r=110438"/>
        <media:title>تصویر-فری پک /فائل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
