<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 04:12:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 04:12:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی یہودیوں کی فلسطینی نعرہ ہتھیانے کی کوشش</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30356970/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا میں مقیم دو یہودی افراد نے فلسطین کا مشہور ”دریا سے سمندر تک“ رپ اپنا حق جمانے کیلئے الگ الگ ٹریڈ مارک درخواستیں جمع کرائی ہیں، جس کے نتیجے میں ایک نیا تنازعہ جنم لینے کو خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل ایک ممتاز قانونی ماہر نے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے یہودی برادری اور اسرائیل دونوں کے لیے غیر ارادی نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرنون کی ٹیڈمور لیوی لاء فرم کے ایک پارٹنر لیہی کاٹزینلسن کا کہنا ہے کہ ’یہ اقدام الٹا پڑ سکتا ہے، اور ہر قسم کے لوگ اس نعے کی ٹوپیاں اور شرٹس پہنے نظر آئیں گے جو ہم نہیں دیکھنا چاہتے، اور یہ پوری دنیا میں پھیل جائے گا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30356789"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جول ایکرمین اور اورون روزینکرانٹز نامی ان دو یہودی اشخاص نے اس جملے کی ملکیت حاصل کرنے کیلئے ٹریڈ مارک کی درخواستیں دائر کی ہیں، جس میں دریائے اردن اور بحیرہ روم کے درمیان موجود فلسطینی سرزمین کی آزادی کی امید ظاہر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فلسطینی نعرے میں کہا گیا ہے کہ ’دریا سے سمندر تک فلسطین آزاد ہوگا‘ (From the river to the sea, Palestine will be free)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نعرہ اس وقت مقبول ہوا تھا جب 1960 کی دہائی میں فلسطینی آزادی کی تحریک نے اسے پہلی بار استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد سے اسے فلسطینی ریاست کی فلسطینی امنگوں کے اظہار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جس کے مطابق اس سرزمین پر اسرائیل کو وجود ناقابل برداشت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”ریور ٹو دی سی“ ایل ایل سی کی نمائندگی کرنے والے ایکرمین پورے نعرے کو ٹریڈ مارک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ روزن کرانٹز نے صرف ”دریا سے سمندر تک“ کے لیے درخواست دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30356907"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں صرف ٹوپیوں اور شرٹس پر ان نعروں کے درج کیئے جانے کا ذکر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہر قانون کیٹزینلسن نے وضاحت کی کہ اگر ان دونوں اشخاص کو ٹریڈ مارک مل جاتا ہے، تو وہ اس نعرے کو استعمال کرنے والے تیسرے فریق کے خلاف اپنے رائٹس کا دعویٰ کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ ایک ہفتہ قبل دائر کی گئی درخواستیں ان کیسز میں صرف ٹوپیوں اور شرٹس پر لاگو ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، ٹریڈ مارک حاصل کرنے میں نو ماہ اور ایک سال کا وقت لگ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ میں ٹریڈ مارک حاصل کرنے کے لیے، مالک کو اس کا استعمال ثابت کرنا ہوگا، جو ایک چیلنج بھی ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور اگر برانڈ مل بھی گیا تو یہ صرف امریکا میں لاگو ہوگا، مطلب یہ کہ دوسرے علاقوں جیسے کہ یورپ وغیرہ میں جہاں یہ نعرہ مقبول ہے اب بھی استعمال کیا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریڈ مارکس ابتدائی طور پر 10 سال کا تحفظ فراہم کرتے ہیں، اس دوران کوئی دوسرا ادارہ مخصوص یا متعلقہ سامان پر نعرہ استعمال نہیں کر سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر، ٹریڈ مارک کا مالک اس توسیع کے لیے دوبارہ درخواست دے سکتا ہے جو زندگی بھر چل سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، کیٹزینلسن  نے کہا وہ فکر مند ہیں کہ چونکہ ٹریڈ مارک کی درخواستیں عوامی ہیں، اس لیے دنیا بھر کے لوگوں کو احساس ہوگا کہ یہودیوں نے یہ درخواست دائر کی ہے اور وہ اسے کمیونٹی کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30356814"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی کہا کہ حماس کے خلاف اسرائیل کی جنگ کے ساتھ اس نعرے کی منفی وابستگیوں کے پیش نظر آج اس نعرے کی طرف توجہ دلانا مددگار ثابت نہیں ہو سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’ہر کوئی اس نعرے کے بارے میں بات کر رہا ہے، اس کو ٹریڈ مارک کرنے کی کوشش کرنے کا فیصلہ ہمارے خلاف موڑا جا سکتا ہے‘۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا میں مقیم دو یہودی افراد نے فلسطین کا مشہور ”دریا سے سمندر تک“ رپ اپنا حق جمانے کیلئے الگ الگ ٹریڈ مارک درخواستیں جمع کرائی ہیں، جس کے نتیجے میں ایک نیا تنازعہ جنم لینے کو خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔</strong></p>
<p>اسرائیل ایک ممتاز قانونی ماہر نے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے یہودی برادری اور اسرائیل دونوں کے لیے غیر ارادی نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>آرنون کی ٹیڈمور لیوی لاء فرم کے ایک پارٹنر لیہی کاٹزینلسن کا کہنا ہے کہ ’یہ اقدام الٹا پڑ سکتا ہے، اور ہر قسم کے لوگ اس نعے کی ٹوپیاں اور شرٹس پہنے نظر آئیں گے جو ہم نہیں دیکھنا چاہتے، اور یہ پوری دنیا میں پھیل جائے گا۔‘</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30356789"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جول ایکرمین اور اورون روزینکرانٹز نامی ان دو یہودی اشخاص نے اس جملے کی ملکیت حاصل کرنے کیلئے ٹریڈ مارک کی درخواستیں دائر کی ہیں، جس میں دریائے اردن اور بحیرہ روم کے درمیان موجود فلسطینی سرزمین کی آزادی کی امید ظاہر کی گئی ہے۔</p>
<p>اس فلسطینی نعرے میں کہا گیا ہے کہ ’دریا سے سمندر تک فلسطین آزاد ہوگا‘ (From the river to the sea, Palestine will be free)۔</p>
<p>یہ نعرہ اس وقت مقبول ہوا تھا جب 1960 کی دہائی میں فلسطینی آزادی کی تحریک نے اسے پہلی بار استعمال کیا۔</p>
<p>اس کے بعد سے اسے فلسطینی ریاست کی فلسطینی امنگوں کے اظہار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جس کے مطابق اس سرزمین پر اسرائیل کو وجود ناقابل برداشت ہے۔</p>
<p>”ریور ٹو دی سی“ ایل ایل سی کی نمائندگی کرنے والے ایکرمین پورے نعرے کو ٹریڈ مارک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ روزن کرانٹز نے صرف ”دریا سے سمندر تک“ کے لیے درخواست دی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30356907"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>درخواست میں صرف ٹوپیوں اور شرٹس پر ان نعروں کے درج کیئے جانے کا ذکر ہے۔</p>
<p>ماہر قانون کیٹزینلسن نے وضاحت کی کہ اگر ان دونوں اشخاص کو ٹریڈ مارک مل جاتا ہے، تو وہ اس نعرے کو استعمال کرنے والے تیسرے فریق کے خلاف اپنے رائٹس کا دعویٰ کرسکتے ہیں۔</p>
<p>تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ ایک ہفتہ قبل دائر کی گئی درخواستیں ان کیسز میں صرف ٹوپیوں اور شرٹس پر لاگو ہوتی ہیں۔</p>
<p>مزید برآں، ٹریڈ مارک حاصل کرنے میں نو ماہ اور ایک سال کا وقت لگ سکتا ہے۔</p>
<p>امریکہ میں ٹریڈ مارک حاصل کرنے کے لیے، مالک کو اس کا استعمال ثابت کرنا ہوگا، جو ایک چیلنج بھی ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p>اور اگر برانڈ مل بھی گیا تو یہ صرف امریکا میں لاگو ہوگا، مطلب یہ کہ دوسرے علاقوں جیسے کہ یورپ وغیرہ میں جہاں یہ نعرہ مقبول ہے اب بھی استعمال کیا جا سکے گا۔</p>
<p>ٹریڈ مارکس ابتدائی طور پر 10 سال کا تحفظ فراہم کرتے ہیں، اس دوران کوئی دوسرا ادارہ مخصوص یا متعلقہ سامان پر نعرہ استعمال نہیں کر سکتا۔</p>
<p>پھر، ٹریڈ مارک کا مالک اس توسیع کے لیے دوبارہ درخواست دے سکتا ہے جو زندگی بھر چل سکے۔</p>
<p>تاہم، کیٹزینلسن  نے کہا وہ فکر مند ہیں کہ چونکہ ٹریڈ مارک کی درخواستیں عوامی ہیں، اس لیے دنیا بھر کے لوگوں کو احساس ہوگا کہ یہودیوں نے یہ درخواست دائر کی ہے اور وہ اسے کمیونٹی کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30356814"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے یہ بھی کہا کہ حماس کے خلاف اسرائیل کی جنگ کے ساتھ اس نعرے کی منفی وابستگیوں کے پیش نظر آج اس نعرے کی طرف توجہ دلانا مددگار ثابت نہیں ہو سکتا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’ہر کوئی اس نعرے کے بارے میں بات کر رہا ہے، اس کو ٹریڈ مارک کرنے کی کوشش کرنے کا فیصلہ ہمارے خلاف موڑا جا سکتا ہے‘۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30356970</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Nov 2023 23:04:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/11/232302342f189c7.png?r=230424" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/11/232302342f189c7.png?r=230424"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
