<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style - Living</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 19:08:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 19:08:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بہت سے لوگ عجلت میں کھانا کیوں کھاتے ہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30357501/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اکثر دیکھا گیا ہے کہ بہت سے لوگ بہت عجلت میں کھانا کھا رہے ہوتے ہیں وہیں کچھ لوگوں کی کھانا کھانے کی رفتارسست ہوتی ہے،  اس کی وجہ آپ کے دماغ کے خلیات ہوتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنسدانوں نے چوہوں پر کی گئی ایک تحقیق سے یہ بات واضح کی ہے دماغ کے خلیات جو کھانا کھانے کو کنٹرول کرتے ہیں کھانے میں عجلت یا سست روی کا باعث ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق چوہوں میں ایک قسم کے خلیات دریافت کیے ہیں جس کے ذریعے انسانی بھوک کوسمجھ  سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معدے میں موجود اعصاب جن کو ’ویگل اعصاب ’ کہا جاتا ہے، بھوک کی معلومات کو دماغ کے ایک چھوٹے سے حصے میں منتقل کرنے کے لئے برقی سگنل کا استعمال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محققین کے مطابق ’جب چوہے یا انسان کھانا روک دیتے ہیں تویہ ویگل اعصاب اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مقصد کے لئے  یونیورسٹی آف کیلیفورنیا-سان فرانسسکو کے فزیولوجسٹ زکری نائٹ اور ان کے ساتھیوں نے چوہوں کے دماغ میں ایک ’لائٹ سینسر‘ لگایا جسے جینیاتی طور پر تبدیل کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2023/11/27142017f98fc35.jpg'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاکہ ’پی آر ایل ایچ نیورونز‘ جسم میں کہیں اورسے منتقل ہونے والے برقی سگنلز کے ذریعے متحرک ہونے پر فلوروسنٹ سگنل جاری کردیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائٹ اور ان کی ٹیم نے ان چوہوں کے پیٹ میں مائع غذا داخل کی جو کہ چربی، پروٹین، چینی، وٹامنز اور معدنیات پر مشتمل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/152662"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دس منٹ کی مدت کے دوران ، نیورونز تیزی سے کام کرنے لگے کیونکہ چوہوں کے جسم میں زیادہ مقدار میں کھانا داخل کیا گیا تھا اس کے برعکس، جب ٹیم نے چوہوں کے پیٹ میں نمکین محلول ڈالا تو ’پی آر ایل ایچ نیورون‘ نے کام شروع ہی نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید تجربات سے پتہ چلا کہ پی آر ایل ایچ نیورونز ان چوہوں میں کھانے کے دوران فعال نہیں ہوئے جن میں مٹھاس چکھنے کی صلاحیت کم تھی اور یہ واضح کرتا ہے کہ  ذائقہ بھی نیورونز کو متحرک کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ جی سی جی نیورونز آنتوں سے آنے والے سگنلز کے ذریعے فعال ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائٹ کا کہنا ہے کہ ’منہ سے ملنے والے سگنلز اس بات کو کنٹرول کر رہے ہوتے ہیں کہ آپ کتنی تیزی سے کھانا کھاتے ہیں اور آنتوں سے ملنے والے سگنلز اس بات کو کنٹرول کر رہے ہیں کہ آپ کتنا کھاتے ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="مزیدپڑھیں" href="#مزیدپڑھیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مزیدپڑھیں&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30349528"&gt;آپ اپنا کھانا غلط چبا رہے ہیں، صحیح طریقہ جانیے
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30346236"&gt;رات کا کھانا مغرب سے پہلے کیوں کھا لینا چاہیے
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/170531"&gt;کھانے کے بعد کچھ میٹھا کھانے کو دل کیوں کرتا ہے؟
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میساچوسٹس کے شہر بوسٹن کی ہارورڈ یونیورسٹی کے نیورو سائنٹسٹ چن رن کا کہنا ہے کہ ’میں اس مقالے سے بہت متاثر ہوں ، یہ اس طرف نشاندہی کرتا ہے کہ ’ذائقہ بھوک کو کس طرح کنٹرول کرتا ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--right  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/60468"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چن رن مزید کہتے ہیں کہ ’یہ نتائج شاید انسانوں پر بھی لاگو ہوتے ہیں کیونکہ یہ اعصابی سرکٹ دونوں انواع میں اچھی طرح سے محفوظ ہوتے ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ انسانوں میں استعمال ہونے والی بہت سی ادویات کو سب سے پہلے لیبارٹریز میں چوہوں اور خرگوش پر تجربات کر کے بنایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اکثر دیکھا گیا ہے کہ بہت سے لوگ بہت عجلت میں کھانا کھا رہے ہوتے ہیں وہیں کچھ لوگوں کی کھانا کھانے کی رفتارسست ہوتی ہے،  اس کی وجہ آپ کے دماغ کے خلیات ہوتے ہیں۔</strong></p>
<p>سائنسدانوں نے چوہوں پر کی گئی ایک تحقیق سے یہ بات واضح کی ہے دماغ کے خلیات جو کھانا کھانے کو کنٹرول کرتے ہیں کھانے میں عجلت یا سست روی کا باعث ہوتے ہیں۔</p>
<p>تحقیق کے مطابق چوہوں میں ایک قسم کے خلیات دریافت کیے ہیں جس کے ذریعے انسانی بھوک کوسمجھ  سکتے ہیں۔</p>
<p>معدے میں موجود اعصاب جن کو ’ویگل اعصاب ’ کہا جاتا ہے، بھوک کی معلومات کو دماغ کے ایک چھوٹے سے حصے میں منتقل کرنے کے لئے برقی سگنل کا استعمال کرتے ہیں۔</p>
<p>محققین کے مطابق ’جب چوہے یا انسان کھانا روک دیتے ہیں تویہ ویگل اعصاب اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔‘</p>
<p>اس مقصد کے لئے  یونیورسٹی آف کیلیفورنیا-سان فرانسسکو کے فزیولوجسٹ زکری نائٹ اور ان کے ساتھیوں نے چوہوں کے دماغ میں ایک ’لائٹ سینسر‘ لگایا جسے جینیاتی طور پر تبدیل کیا گیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2023/11/27142017f98fc35.jpg'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>تاکہ ’پی آر ایل ایچ نیورونز‘ جسم میں کہیں اورسے منتقل ہونے والے برقی سگنلز کے ذریعے متحرک ہونے پر فلوروسنٹ سگنل جاری کردیں۔</p>
<p>نائٹ اور ان کی ٹیم نے ان چوہوں کے پیٹ میں مائع غذا داخل کی جو کہ چربی، پروٹین، چینی، وٹامنز اور معدنیات پر مشتمل تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/152662"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دس منٹ کی مدت کے دوران ، نیورونز تیزی سے کام کرنے لگے کیونکہ چوہوں کے جسم میں زیادہ مقدار میں کھانا داخل کیا گیا تھا اس کے برعکس، جب ٹیم نے چوہوں کے پیٹ میں نمکین محلول ڈالا تو ’پی آر ایل ایچ نیورون‘ نے کام شروع ہی نہیں کیا۔</p>
<p>مزید تجربات سے پتہ چلا کہ پی آر ایل ایچ نیورونز ان چوہوں میں کھانے کے دوران فعال نہیں ہوئے جن میں مٹھاس چکھنے کی صلاحیت کم تھی اور یہ واضح کرتا ہے کہ  ذائقہ بھی نیورونز کو متحرک کرتا ہے۔</p>
<p>محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ جی سی جی نیورونز آنتوں سے آنے والے سگنلز کے ذریعے فعال ہوتے ہیں۔</p>
<p>نائٹ کا کہنا ہے کہ ’منہ سے ملنے والے سگنلز اس بات کو کنٹرول کر رہے ہوتے ہیں کہ آپ کتنی تیزی سے کھانا کھاتے ہیں اور آنتوں سے ملنے والے سگنلز اس بات کو کنٹرول کر رہے ہیں کہ آپ کتنا کھاتے ہیں۔‘</p>
<h2><a id="مزیدپڑھیں" href="#مزیدپڑھیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مزیدپڑھیں</h2>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30349528">آپ اپنا کھانا غلط چبا رہے ہیں، صحیح طریقہ جانیے
</a></p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30346236">رات کا کھانا مغرب سے پہلے کیوں کھا لینا چاہیے
</a></p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/170531">کھانے کے بعد کچھ میٹھا کھانے کو دل کیوں کرتا ہے؟
</a></p>
<p>میساچوسٹس کے شہر بوسٹن کی ہارورڈ یونیورسٹی کے نیورو سائنٹسٹ چن رن کا کہنا ہے کہ ’میں اس مقالے سے بہت متاثر ہوں ، یہ اس طرف نشاندہی کرتا ہے کہ ’ذائقہ بھوک کو کس طرح کنٹرول کرتا ہے۔‘</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--right  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/60468"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>چن رن مزید کہتے ہیں کہ ’یہ نتائج شاید انسانوں پر بھی لاگو ہوتے ہیں کیونکہ یہ اعصابی سرکٹ دونوں انواع میں اچھی طرح سے محفوظ ہوتے ہیں۔‘</p>
<p>واضح رہے کہ انسانوں میں استعمال ہونے والی بہت سی ادویات کو سب سے پہلے لیبارٹریز میں چوہوں اور خرگوش پر تجربات کر کے بنایا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30357501</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Nov 2023 14:58:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/11/27142012cb64f5c.jpg?r=142415" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/11/27142012cb64f5c.jpg?r=142415"/>
        <media:title>تصویر-انٹرسٹنگ اینجینئرنگ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
