<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 12:22:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 12:22:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سندھ میں ایچ آئی وی کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 23 ہزار سے تجاوز</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30358174/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سندھ میں ایچ آئی وی کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 23 ہزار 300 سے زیادہ ہوگئی۔  متاثرین میں خواتین، مرد، بچے  اور خواجہ سرا بھی شامل ہیں۔ مرض پر کنٹرول کے لیے صوبے میں بیس سے زائد سینٹر قائم کیے گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کے سول اسپتال میں ایچ آئی وی علاج سینٹر کی انچارج ڈاکٹر سمیرا حیدر کا کہنا ہے کہ ضروری احتیاط کے ذریعے موذی مرض سے بچنا ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایچ آئی وی وائرس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ  ایڈز میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ ایک ہی سرنج کا بار بار استعمال، متاثرہ مریض کے زیراستعمال سرجیکل آلات، اسکریننگ کے بغیر خون کی منتقلی یا ایڈز متاثرہ شخص سے جنسی تعلق ایچ آئی وی وائرس پھیلانے کا باعث بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ میں رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد تیئس ہزار تین سو سے زیادہ ہے، جن میں متاثرہ مردوں کی تعداد تیرہ ہزار سے زائد ہے جبکہ متاثرہ خواتین کی تعداد تین ہزار سات سو چونسٹھہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدقسمتی سے ایک ہزار چار سوترپن بچے، نو سو اٹھارہ بچیاں اور سات سو دس خواجہ سرا بھی اس
موذی مرض میں مبتلا ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30358153"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت سندھ کے  ایچ آئی وی ایڈز کنٹرول پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر سکندر کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی ایڈز کے علاج کے لیے سندھ میں بیس سے زیادہ مراکز کام کر رہے ہیں۔ کراچی میں آٹھ، لاڑکانہ، سکھر، شہید بینظیرآباد، میرپور خاص اور حیدرآباد میں ایک ایک سینٹر قائم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت سندھ کے ایچ آئی وی پروگرام کے تحت موذی مرض میں مبتلا شخص پورے پاکستان میں کہیں بھی اپنا علاج اور تشخیص مفت کرا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سندھ میں ایچ آئی وی کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 23 ہزار 300 سے زیادہ ہوگئی۔  متاثرین میں خواتین، مرد، بچے  اور خواجہ سرا بھی شامل ہیں۔ مرض پر کنٹرول کے لیے صوبے میں بیس سے زائد سینٹر قائم کیے گئے ہیں۔</strong></p>
<p>کراچی کے سول اسپتال میں ایچ آئی وی علاج سینٹر کی انچارج ڈاکٹر سمیرا حیدر کا کہنا ہے کہ ضروری احتیاط کے ذریعے موذی مرض سے بچنا ممکن ہے۔</p>
<p>ایچ آئی وی وائرس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ  ایڈز میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ ایک ہی سرنج کا بار بار استعمال، متاثرہ مریض کے زیراستعمال سرجیکل آلات، اسکریننگ کے بغیر خون کی منتقلی یا ایڈز متاثرہ شخص سے جنسی تعلق ایچ آئی وی وائرس پھیلانے کا باعث بن سکتا ہے۔</p>
<p>سندھ میں رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد تیئس ہزار تین سو سے زیادہ ہے، جن میں متاثرہ مردوں کی تعداد تیرہ ہزار سے زائد ہے جبکہ متاثرہ خواتین کی تعداد تین ہزار سات سو چونسٹھہ ہے۔</p>
<p>بدقسمتی سے ایک ہزار چار سوترپن بچے، نو سو اٹھارہ بچیاں اور سات سو دس خواجہ سرا بھی اس
موذی مرض میں مبتلا ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30358153"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>حکومت سندھ کے  ایچ آئی وی ایڈز کنٹرول پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر سکندر کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی ایڈز کے علاج کے لیے سندھ میں بیس سے زیادہ مراکز کام کر رہے ہیں۔ کراچی میں آٹھ، لاڑکانہ، سکھر، شہید بینظیرآباد، میرپور خاص اور حیدرآباد میں ایک ایک سینٹر قائم ہے۔</p>
<p>حکومت سندھ کے ایچ آئی وی پروگرام کے تحت موذی مرض میں مبتلا شخص پورے پاکستان میں کہیں بھی اپنا علاج اور تشخیص مفت کرا سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30358174</guid>
      <pubDate>Fri, 01 Dec 2023 00:32:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (قیصر عباس)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/12/010019254268b11.webp?r=002351" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/12/010019254268b11.webp?r=002351"/>
        <media:title>سندھ میں ایچ آئی وی کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 23 ہزار سے تجاوز کر گئی۔ فوٹو ــ فائل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
