<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 02:50:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 02:50:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جوڈیشل کونسل میں شکایات: جسٹس مظاہر نے رجسٹرار آفس نوٹس پرجواب جمع کرادیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30358682/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت کے معاملے پر رجسٹرار سپریم کورٹ کے نوٹس کا جواب جمع کرادیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس مظاہرنقوی نے جواب کی کاپی سپریم کورٹ کی 3 رکنی کمیٹی کو بھی بھجوادی جس میں کہا گیا کہ رجسٹرارکو یہ اختیارنہیں پوچھے کہ مقدمہ کی پیروی کرنا چاہتے ہیں یا نہیں، رجسٹرار کے نوٹس کی کوئی آئینی و قانونی حیثیت نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ میں نے سپریم کورٹ میں 20 اور30 نومبرکو دو آئینی درخواستیں دائرکی تھیں تاہم میری درخواستوں پر تاحال نمبر نہیں لگایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ آئینی درخواستوں کوجلد مقررکرنے کے لیے  متفرق درخواست بھی دائرکی لیکن مقدمہ نہیں لگا، آئینی درخواستیں مقررنہ ہونا پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30358077"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس  یہ آئینی درخواستیں تین رکنی کمیٹی کے سامنے رکھی جائیں اور میری دونوں آئینی درخواستوں کو  سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل میں متفرق درخواست دائر کردی اور استدعا کی کہ میرے خلاف شوکاز نوٹس واپس لیا جائے جب کہ جسٹس مظاہرنے رجسٹرار نوٹس کے جواب کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی بھی استدعا کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت کے معاملے پر کونسل کی جانب سے جاری شوکاز نوٹسز کو سپریم کورٹ میں بھی چیلنج کررکھا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت کے معاملے پر رجسٹرار سپریم کورٹ کے نوٹس کا جواب جمع کرادیا ہے۔</strong></p>
<p>جسٹس مظاہرنقوی نے جواب کی کاپی سپریم کورٹ کی 3 رکنی کمیٹی کو بھی بھجوادی جس میں کہا گیا کہ رجسٹرارکو یہ اختیارنہیں پوچھے کہ مقدمہ کی پیروی کرنا چاہتے ہیں یا نہیں، رجسٹرار کے نوٹس کی کوئی آئینی و قانونی حیثیت نہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ میں نے سپریم کورٹ میں 20 اور30 نومبرکو دو آئینی درخواستیں دائرکی تھیں تاہم میری درخواستوں پر تاحال نمبر نہیں لگایا گیا۔</p>
<p>جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ آئینی درخواستوں کوجلد مقررکرنے کے لیے  متفرق درخواست بھی دائرکی لیکن مقدمہ نہیں لگا، آئینی درخواستیں مقررنہ ہونا پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30358077"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جسٹس  یہ آئینی درخواستیں تین رکنی کمیٹی کے سامنے رکھی جائیں اور میری دونوں آئینی درخواستوں کو  سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔</p>
<p>جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل میں متفرق درخواست دائر کردی اور استدعا کی کہ میرے خلاف شوکاز نوٹس واپس لیا جائے جب کہ جسٹس مظاہرنے رجسٹرار نوٹس کے جواب کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی بھی استدعا کی ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت کے معاملے پر کونسل کی جانب سے جاری شوکاز نوٹسز کو سپریم کورٹ میں بھی چیلنج کررکھا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30358682</guid>
      <pubDate>Mon, 04 Dec 2023 13:19:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (یاسر نذر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/12/041317528d9af4f.jpg?r=131846" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/12/041317528d9af4f.jpg?r=131846"/>
        <media:title>سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر اکبر نقوی۔ فوٹو — فائل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
