<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 15:07:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 15:07:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جسٹس اعجاز الاحسن کی جوڈیشل کونسل میں بطورممبرشمولیت چیلنج</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30359014/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;میاں دائود ایڈووکیٹ نے جسٹس اعجاز الاحسن کی جوڈیشل کونسل میں بطور ممبر شمولیت چیلنج کردی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم جوڈیشل کونسل میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف درخواستوں پر کارروائی جاری ہے، جس میں چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ سمیت دیگر ججز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم جسٹس اعجاز الاحسن کی جوڈیشل کونسل میں بطور ممبر شمولیت کو چیلنج کردیا گیا ہے، اور میاں داؤد ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کردی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں وفاقی حکومت اور سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل کو فریق بنایا گیا ہے، جب کہ&lt;br /&gt;
درخواست کے ساتھ سابق سی سی پی اومحمود ڈوگرکےمقدمےکی آرڈر شیٹ بھی منسلک کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30318049"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ  جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر سماعت ہے،  جوڈیشل کونسل انہیں دوسرا شوکاز نوٹس جاری کر چکی ہے، جس میں ان سے تین آڈیو لیکس کے حوالے سے سوال کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30352708/"&gt;سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کو شوکاز نوٹس جاری کردیا&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ تینوں آڈیو لیکس مقدمات کی بنچ فکسنگ اورغلام محمود ڈوگر کیس کی بابت ہیں،  جسٹس اعجاز الاحسن نے بینچ فکسنگ کے تحت غلام محمود ڈوگر کا مقدمہ سنا، جسٹس اعجاز الاحسن سپریم جوڈیشل کونسل کے ممبر ہیں، اور غلام محمود ڈوگرکا مقدمہ سننے والا جج سپریم جوڈیشل کونسل کا ممبرنہیں رہ سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں مؤقف اختیار کرتے ہوئے استدعا کی گئی ہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن کا کونسل میں ممبررہنا آرٹیکل 10 اے اور 9 کے خلاف ہے، ان کا کونسل کا حصہ رہنا شفافیت کے اصول کے خلاف ہے، وہ کونسل میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرسکیں گے، ان کی جوڈیشل کونسل میں شمولیت آئین کی خلاف ورزی قراردی جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>میاں دائود ایڈووکیٹ نے جسٹس اعجاز الاحسن کی جوڈیشل کونسل میں بطور ممبر شمولیت چیلنج کردی ہے۔</strong></p>
<p>سپریم جوڈیشل کونسل میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف درخواستوں پر کارروائی جاری ہے، جس میں چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ سمیت دیگر ججز شامل ہیں۔</p>
<p>تاہم جسٹس اعجاز الاحسن کی جوڈیشل کونسل میں بطور ممبر شمولیت کو چیلنج کردیا گیا ہے، اور میاں داؤد ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کردی ہے۔</p>
<p>درخواست میں وفاقی حکومت اور سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل کو فریق بنایا گیا ہے، جب کہ<br />
درخواست کے ساتھ سابق سی سی پی اومحمود ڈوگرکےمقدمےکی آرڈر شیٹ بھی منسلک کی گئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30318049"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ  جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر سماعت ہے،  جوڈیشل کونسل انہیں دوسرا شوکاز نوٹس جاری کر چکی ہے، جس میں ان سے تین آڈیو لیکس کے حوالے سے سوال کیا گیا ہے۔</p>
<p>مزید پڑھیں: <a href="https://www.aaj.tv/news/30352708/">سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کو شوکاز نوٹس جاری کردیا</a></p>
<p>درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ تینوں آڈیو لیکس مقدمات کی بنچ فکسنگ اورغلام محمود ڈوگر کیس کی بابت ہیں،  جسٹس اعجاز الاحسن نے بینچ فکسنگ کے تحت غلام محمود ڈوگر کا مقدمہ سنا، جسٹس اعجاز الاحسن سپریم جوڈیشل کونسل کے ممبر ہیں، اور غلام محمود ڈوگرکا مقدمہ سننے والا جج سپریم جوڈیشل کونسل کا ممبرنہیں رہ سکتا۔</p>
<p>درخواست میں مؤقف اختیار کرتے ہوئے استدعا کی گئی ہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن کا کونسل میں ممبررہنا آرٹیکل 10 اے اور 9 کے خلاف ہے، ان کا کونسل کا حصہ رہنا شفافیت کے اصول کے خلاف ہے، وہ کونسل میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرسکیں گے، ان کی جوڈیشل کونسل میں شمولیت آئین کی خلاف ورزی قراردی جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30359014</guid>
      <pubDate>Wed, 06 Dec 2023 12:25:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (افضل جاوید)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/12/06114406ae36c05.jpg?r=114436" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/12/06114406ae36c05.jpg?r=114436"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
