<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 23:24:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 23:24:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانیوں سے شادی کرنے والے افغانوں کیلئے رولز میں نرمی کرنی چاہیے، فیصلہ جاری</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30359043/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پشاور ہائیکورٹ نےحکم دیا کہ جن افغان مہاجرین نے پاکستانی مرد یا خاتون سے شادی کی ہے ان کے لئے رولز میں نرمی کرنی چاہیے،  ان کی حد تک پی او سی کے لئے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ لازمی قرار نہ دیا جائے، اور ان کے نکاح رجسٹرڈ کرنے میں آسانی پپدا کی جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پشاور ہائیکورٹ نے پاکستانی شہریوں سے شادی کرنے والے افغان مہاجرین کو پی او سی (پاکستان اوریجن کارڈ) کے حوالے سے دائر درخواستوں کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;33 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس وقار احمد نے تحریر کیا ہے، جس میں کہا گیا کہ افغان مہاجرین جنہوں نے پاکستانی مرد یا خاتون  سے شادی کی ہے ان کے لئے رولز میں نرمی کرنی چاہیئے، جب کہ پی او سی کارڈ کے حوالے سے تمام درخواستیں جزوی طور پر منظور کی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30358259"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزاروں نے پی او سی کے لئے متعلقہ فورم میں طے شدہ طریقہ کار کے تحت  درخواست دیں، جن افغان شہریوں نے پاکستانی مرد یا خواتین سے شادی کی ہے ان کی حد تک پی او سی کے لئے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ لازمی قرار نہ دیا جائے۔ اور ان کو ضروری ڈاکومنٹس کی فراہمی کے بعد پی او سی کارڈ جاری کیا جائے، نادرا کو اختیار ہے کہ وہ درخواست گزاروں سے تفصیل اور ثبوت مانگے کہ وہ یقینی طور افغان شہری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="مزید-پڑھیں" href="#مزید-پڑھیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مزید پڑھیں:&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30355914/"&gt;افغانوں سے پاکستانی خواتین کی شادی: پشاور ہائیکورٹ کا پی او سی کارڈ جاری کرنے کا حکم&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں کہا گیا کہ شادی کرنے والے جوڑے میں مرد یا خاتون پاکستانی ہوں تو ان کی نکاح رجسٹرڈ کرنے میں آسانی پپدا کی جائے، اور پاکستانی افغان جوڑے کے بچوں کی رجسٹریشن میں بھی کوئی غیر ضروری رکاوٹ نہ ڈالی جائے، نادرا کلیرنس کے بعد کارڈ ایشو کریں، کلیرنس نہ ہونے کی صورت میں نادرا درخواست مسترد اور تحریری طور پر درخواست گزار کو فراہم کریں۔ جہاں تک سیکیورٹی کی بات ہے تو یہ وقت کی ضرورت ہے، سیکیورٹی کلیئرنس ہونے چاہیئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پشاور ہائیکورٹ نےحکم دیا کہ جن افغان مہاجرین نے پاکستانی مرد یا خاتون سے شادی کی ہے ان کے لئے رولز میں نرمی کرنی چاہیے،  ان کی حد تک پی او سی کے لئے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ لازمی قرار نہ دیا جائے، اور ان کے نکاح رجسٹرڈ کرنے میں آسانی پپدا کی جائے۔</strong></p>
<p>پشاور ہائیکورٹ نے پاکستانی شہریوں سے شادی کرنے والے افغان مہاجرین کو پی او سی (پاکستان اوریجن کارڈ) کے حوالے سے دائر درخواستوں کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے۔</p>
<p>33 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس وقار احمد نے تحریر کیا ہے، جس میں کہا گیا کہ افغان مہاجرین جنہوں نے پاکستانی مرد یا خاتون  سے شادی کی ہے ان کے لئے رولز میں نرمی کرنی چاہیئے، جب کہ پی او سی کارڈ کے حوالے سے تمام درخواستیں جزوی طور پر منظور کی جاتی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30358259"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزاروں نے پی او سی کے لئے متعلقہ فورم میں طے شدہ طریقہ کار کے تحت  درخواست دیں، جن افغان شہریوں نے پاکستانی مرد یا خواتین سے شادی کی ہے ان کی حد تک پی او سی کے لئے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ لازمی قرار نہ دیا جائے۔ اور ان کو ضروری ڈاکومنٹس کی فراہمی کے بعد پی او سی کارڈ جاری کیا جائے، نادرا کو اختیار ہے کہ وہ درخواست گزاروں سے تفصیل اور ثبوت مانگے کہ وہ یقینی طور افغان شہری ہیں۔</p>
<h2><a id="مزید-پڑھیں" href="#مزید-پڑھیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مزید پڑھیں:</h2>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30355914/">افغانوں سے پاکستانی خواتین کی شادی: پشاور ہائیکورٹ کا پی او سی کارڈ جاری کرنے کا حکم</a></p>
<p>فیصلے میں کہا گیا کہ شادی کرنے والے جوڑے میں مرد یا خاتون پاکستانی ہوں تو ان کی نکاح رجسٹرڈ کرنے میں آسانی پپدا کی جائے، اور پاکستانی افغان جوڑے کے بچوں کی رجسٹریشن میں بھی کوئی غیر ضروری رکاوٹ نہ ڈالی جائے، نادرا کلیرنس کے بعد کارڈ ایشو کریں، کلیرنس نہ ہونے کی صورت میں نادرا درخواست مسترد اور تحریری طور پر درخواست گزار کو فراہم کریں۔ جہاں تک سیکیورٹی کی بات ہے تو یہ وقت کی ضرورت ہے، سیکیورٹی کلیئرنس ہونے چاہیئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30359043</guid>
      <pubDate>Wed, 06 Dec 2023 13:40:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (کامران علی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/12/06133855e9e5574.jpg?r=133917" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/12/06133855e9e5574.jpg?r=133917"/>
        <media:title>فوٹو:فائل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
