<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 18:23:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 18:23:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خصوصی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرا ردینے کیخلاف اپیلیں سماعت کیلئے مقرر</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30359526/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سپریم کورٹ میں خصوصی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کردی گئیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس سردار طارق کی سربراہی میں 6 رکنی لارجر بینچ خصوصی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیلوں پر 13 دسمبر کو سماعت کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لارجر بینچ میں جسٹس امین الدین، جسٹس حسن اظہر، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس عرفان سعادت شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ وفاقی حکومت، وزارت دفاع، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں نے خصوصی عدالتوں میں سویلنز کا ٹرائل روکنے کا سپریم کورٹ کا فیصلہ چیلنج کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30355831"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ ملٹری کورٹس کیس میں بنایا گیا بینچ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت نہیں تھا، پانچ رکنی لارجر بنچ کا قیام قانون کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے فیصلہ بھی غیر موثر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ سے یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ درخواستوں پر حتمی فیصلے تک خصوصی عدالتوں میں ٹرائل روکنے کے خلاف حکم امتناع  دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے 23 اکتوبر کو فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دیا تھا۔اور 6 صفحات پر مشتمل مختصر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے لکھا کہ آرمی ایکٹ کی سیکشن ڈی ٹو کی ذیلی شقیں ایک اور دو کالعدم قرار دی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سپریم کورٹ میں خصوصی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کردی گئیں۔</strong></p>
<p>جسٹس سردار طارق کی سربراہی میں 6 رکنی لارجر بینچ خصوصی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیلوں پر 13 دسمبر کو سماعت کرے گا۔</p>
<p>لارجر بینچ میں جسٹس امین الدین، جسٹس حسن اظہر، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس عرفان سعادت شامل ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ وفاقی حکومت، وزارت دفاع، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں نے خصوصی عدالتوں میں سویلنز کا ٹرائل روکنے کا سپریم کورٹ کا فیصلہ چیلنج کر رکھا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30355831"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ ملٹری کورٹس کیس میں بنایا گیا بینچ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت نہیں تھا، پانچ رکنی لارجر بنچ کا قیام قانون کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے فیصلہ بھی غیر موثر ہے۔</p>
<p>سپریم کورٹ سے یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ درخواستوں پر حتمی فیصلے تک خصوصی عدالتوں میں ٹرائل روکنے کے خلاف حکم امتناع  دیا جائے۔</p>
<p>سپریم کورٹ نے 23 اکتوبر کو فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دیا تھا۔اور 6 صفحات پر مشتمل مختصر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے لکھا کہ آرمی ایکٹ کی سیکشن ڈی ٹو کی ذیلی شقیں ایک اور دو کالعدم قرار دی جاتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30359526</guid>
      <pubDate>Sat, 09 Dec 2023 11:03:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (افضل جاوید)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/12/091058583c43cbd.jpg?r=105950" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/12/091058583c43cbd.jpg?r=105950"/>
        <media:title>فوٹو — فائل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
