<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 01:57:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 01:57:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیسلا کی 20 لاکھ گاڑیوں کے آٹوپائلٹ میں نقص نکل آیا، واپس طلب</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30360324/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنی ’ٹیسلا‘ نے 20 لاکھ سے زیادہ گاڑیاں واپس منگوالی ہیں کیونکہ ان کے آٹو پائلٹ سسٹم میں خرابیاں حفاظت کے لیے خطرہ ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیرملکی میڈیا کے مطابق ٹیسلا نے کہا کہ آٹو پائلٹ سافٹ ویئر سسٹم کنٹرول ڈرائیور کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے کافی نہیں ہو سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن کے ایک ترجمان نے کہا کہ خودکار ٹیکنالوجی حفاظت کو بہتر بنانے کا وعدہ کرتی ہے لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جب اسے ذمہ داری کے ساتھ لگایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے نقص نکل آنے کے بعد گاڑیوں کو مارکیٹ سے واپس طلب کرنے کا فیصلہ اپنی نوعیت کا ایک بڑا فیصلہ ہے، ٹیسلا کا کہنا ہے کہ وہ نئے حفاظتی اقدامات لگائے گی اور موجودہ نقائص کو دور کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/4  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30358194"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ جن گاڑیوں کو مارکیٹ سے اٹھایا گیا ہے، ان میں پانچ اکتوبر 2012 اور سات دسمبر2023 کے درمیان تیار کردہ وائے، ایس، تھری، اور ایکس ماڈلز میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو امریکی ایوان نمائندگان کے سامنے بات کرتے ہوئے نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن کے قائم مقام ایڈمنسٹریٹر این کارلسن نے کہا کہ وہ خوش ہیں کہ ٹیسلا نے گاڑیاں واپس لینے پراتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="مزید-پڑھیں" href="#مزید-پڑھیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مزید پڑھیں&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30359737/"&gt;کیا واقعی ٹیسلا کی کار بھارت میں 17 لاکھ میں دستیاب ہے؟&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30353341/"&gt;ٹیسلا نے آٹو پائلٹ کے سبب ہلاکت کا مقدمہ جیت لیا&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30320390/"&gt;گاڑی خریدنے کے خواہشمندوں کیلئے ”ایک پر ایک فری“ کی ناقابل یقین شاندار آفر&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این کارلسن نے کہا کہ ہم نے سب سے پہلے اگست2021 میں ٹیسلا کے آٹو پائلٹ فنکشن کی تحقیقات شروع کیں، جب آٹو پائلٹ آن ہونے پر متعدد حادثات سامنے آئے تھے۔ ایک چیز جس کا ہم نے تعین کیا ہے وہ یہ ہے کہ جب وہ سسٹم آن ہوتا ہے تو ڈرائیور ہمیشہ توجہ نہیں دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ اکتوبر میں کیلیفورنیا کے محکمہ موٹر وہیکلز کی جانب سے حفاظتی خدشات کے بارے میں سوالات اٹھائے جانے کے بعد سیلف ڈرائیونگ کار فرم کروز کے ذریعے ٹیسٹنگ کو معطل کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنی ’ٹیسلا‘ نے 20 لاکھ سے زیادہ گاڑیاں واپس منگوالی ہیں کیونکہ ان کے آٹو پائلٹ سسٹم میں خرابیاں حفاظت کے لیے خطرہ ہیں۔</strong></p>
<p>غیرملکی میڈیا کے مطابق ٹیسلا نے کہا کہ آٹو پائلٹ سافٹ ویئر سسٹم کنٹرول ڈرائیور کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے کافی نہیں ہو سکتا۔</p>
<p>نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن کے ایک ترجمان نے کہا کہ خودکار ٹیکنالوجی حفاظت کو بہتر بنانے کا وعدہ کرتی ہے لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جب اسے ذمہ داری کے ساتھ لگایا جائے۔</p>
<p>کمپنی نے نقص نکل آنے کے بعد گاڑیوں کو مارکیٹ سے واپس طلب کرنے کا فیصلہ اپنی نوعیت کا ایک بڑا فیصلہ ہے، ٹیسلا کا کہنا ہے کہ وہ نئے حفاظتی اقدامات لگائے گی اور موجودہ نقائص کو دور کرے گی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/4  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30358194"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>واضح رہے کہ جن گاڑیوں کو مارکیٹ سے اٹھایا گیا ہے، ان میں پانچ اکتوبر 2012 اور سات دسمبر2023 کے درمیان تیار کردہ وائے، ایس، تھری، اور ایکس ماڈلز میں شامل ہیں۔</p>
<p>بدھ کو امریکی ایوان نمائندگان کے سامنے بات کرتے ہوئے نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن کے قائم مقام ایڈمنسٹریٹر این کارلسن نے کہا کہ وہ خوش ہیں کہ ٹیسلا نے گاڑیاں واپس لینے پراتفاق کیا۔</p>
<h2><a id="مزید-پڑھیں" href="#مزید-پڑھیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مزید پڑھیں</h2>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30359737/">کیا واقعی ٹیسلا کی کار بھارت میں 17 لاکھ میں دستیاب ہے؟</a></p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30353341/">ٹیسلا نے آٹو پائلٹ کے سبب ہلاکت کا مقدمہ جیت لیا</a></p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30320390/">گاڑی خریدنے کے خواہشمندوں کیلئے ”ایک پر ایک فری“ کی ناقابل یقین شاندار آفر</a></p>
<p>این کارلسن نے کہا کہ ہم نے سب سے پہلے اگست2021 میں ٹیسلا کے آٹو پائلٹ فنکشن کی تحقیقات شروع کیں، جب آٹو پائلٹ آن ہونے پر متعدد حادثات سامنے آئے تھے۔ ایک چیز جس کا ہم نے تعین کیا ہے وہ یہ ہے کہ جب وہ سسٹم آن ہوتا ہے تو ڈرائیور ہمیشہ توجہ نہیں دیتے ہیں۔</p>
<p>خیال رہے کہ اکتوبر میں کیلیفورنیا کے محکمہ موٹر وہیکلز کی جانب سے حفاظتی خدشات کے بارے میں سوالات اٹھائے جانے کے بعد سیلف ڈرائیونگ کار فرم کروز کے ذریعے ٹیسٹنگ کو معطل کر دیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30360324</guid>
      <pubDate>Thu, 14 Dec 2023 11:08:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/12/141057470957e49.webp?r=110056" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/12/141057470957e49.webp?r=110056"/>
        <media:title>تصویر — روئٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
