<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 19:49:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 19:49:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جسٹس مظاہر نقوی کا سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی اوپن کرنے کا مطالبہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30360359/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے جوڈیشل کونسل کی کارروائی اوپن کرنے کا مطالبہ کردیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس مظاہرنقوی نے جوڈیشل کونسل کو خط لکھ دیا جس میں کہا گیا کہ شوکت عزیز صدیقی کیس میں سپریم کورٹ نے جوڈیشل کونسل کی کھلی سماعت کا حق تسلیم کیا،  میری درخواست ہے، میرے خلاف جوڈیشل کونسل کی کارروائی  پر بھی کھلی سماعت کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں کہا گیا کہ  آئین پاکستان مجھے کھلی سماعت کا حق دیتا ہے،  میں نے جوڈیشل کونسل کی تشکیل پر اعتراضات اٹھائے،  کونسل کے ان کیمرہ اجلاس کی وجہ سے میرا میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس مظاہر نے کہا کہ کونسل کی کارروائی کی وجہ سے مجھے تضحیک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،  شفاف ٹرائل کا تقاضا ہے کہ انصاف صرف ہونا نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30359483"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں جوڈیشل کونسل سے استدعا کی گئی کہ  میری جوڈیشل کونسل کے سامنے متعدد درخواستیں زیر التواء ہیں، لہٰذا جب تک میری درخواستوں پر فیصلہ نہیں آتا تب تک جوڈیشل کونسل کی کاروائی روک دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ  میری دونوں درخواستیں 15 دسمبر کو سماعت کے لیے مقرر ہیں جب کہ 13 نومبر کو میں نے نوٹس کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30360030/"&gt;سیاسی اشرافیہ کے ہاتھوں کھلونا بننے سے انکار پر نتائج بھگت رہا ہوں،
جسٹس مظاہر نقوی کا خط&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30359952/"&gt;سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس طلب، جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف شکایات پر غور
ہوگا&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سمیت سپریم کورٹ کے ججز کو لکھے گئے خط میں کہا کہ سیاسی اشرافیہ کے ہاتھوں کھلونا بننے سے انکار پر نتائج بھگت رہا ہوں، سپریم جوڈیشل کونسل کی جعلی کاررواٸی کا آخر تک مقابلہ کروں گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے جوڈیشل کونسل کی کارروائی اوپن کرنے کا مطالبہ کردیا۔</strong></p>
<p>جسٹس مظاہرنقوی نے جوڈیشل کونسل کو خط لکھ دیا جس میں کہا گیا کہ شوکت عزیز صدیقی کیس میں سپریم کورٹ نے جوڈیشل کونسل کی کھلی سماعت کا حق تسلیم کیا،  میری درخواست ہے، میرے خلاف جوڈیشل کونسل کی کارروائی  پر بھی کھلی سماعت کی جائے۔</p>
<p>خط میں کہا گیا کہ  آئین پاکستان مجھے کھلی سماعت کا حق دیتا ہے،  میں نے جوڈیشل کونسل کی تشکیل پر اعتراضات اٹھائے،  کونسل کے ان کیمرہ اجلاس کی وجہ سے میرا میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>جسٹس مظاہر نے کہا کہ کونسل کی کارروائی کی وجہ سے مجھے تضحیک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،  شفاف ٹرائل کا تقاضا ہے کہ انصاف صرف ہونا نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30359483"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>خط میں جوڈیشل کونسل سے استدعا کی گئی کہ  میری جوڈیشل کونسل کے سامنے متعدد درخواستیں زیر التواء ہیں، لہٰذا جب تک میری درخواستوں پر فیصلہ نہیں آتا تب تک جوڈیشل کونسل کی کاروائی روک دی جائے۔</p>
<p>جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ  میری دونوں درخواستیں 15 دسمبر کو سماعت کے لیے مقرر ہیں جب کہ 13 نومبر کو میں نے نوٹس کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔</p>
<p><strong>یہ بھی پڑھیں:</strong></p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30360030/">سیاسی اشرافیہ کے ہاتھوں کھلونا بننے سے انکار پر نتائج بھگت رہا ہوں،
جسٹس مظاہر نقوی کا خط</a></p>
</blockquote>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30359952/">سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس طلب، جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف شکایات پر غور
ہوگا</a></p>
</blockquote>
<p>گزشتہ روز جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سمیت سپریم کورٹ کے ججز کو لکھے گئے خط میں کہا کہ سیاسی اشرافیہ کے ہاتھوں کھلونا بننے سے انکار پر نتائج بھگت رہا ہوں، سپریم جوڈیشل کونسل کی جعلی کاررواٸی کا آخر تک مقابلہ کروں گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30360359</guid>
      <pubDate>Thu, 14 Dec 2023 13:37:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (افضل جاوید)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/12/141333098839596.jpg?r=133326" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/12/141333098839596.jpg?r=133326"/>
        <media:title>جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی۔ فوٹو — فائل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
