<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 16:16:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 16:16:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خواتین کے آنسوں مردانہ جارحیت کو کم کرتے ہیں، تحقیق میں اہم انکشاف</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30361756/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انسانی آنسوؤں سے متعلق ایک تحقیق نے سائنسدانوں کو حیران کردیا، تحقیق کے مطابق انسانی آنسوں جارحیت کو باآسانی کم کرسکتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محققین کے مطابق انسانی آنسوؤں میں ایک ایسا مادہ ہوتا ہے جو غصے کی کیفیت کو کم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواتین کے جذباتی آنسوؤں کو کمپیوٹرائزڈ ٹیسٹ کرنے کے بعد یہ نتیجہ سامنے آیا کہ ان آنسوؤں سے مردانہ غصے میں 40 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوتی ہے۔ تاہم سائنس دانوں کا خیال ہے کہ تمام انسانی آنسوؤں کا ایک جیسا اثر پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل میں ویزمین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس میں نیوروبائیولوجی کے پروفیسر نوام سوبیل کا کہنا ہے کہ ’جارحیت میں کمی ہمارے لیے متاثر کن تھی، جو کچھ بھی آنسوؤں میں ہے وہ دراصل جارحیت کو کم کرتا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30361645"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چارلس ڈارون رونے کی بات پر حیران رہ گئے، 1872 ء میں انسان اور جانوروں میں جذبات کے اظہار میں لکھتے ہوئے عظیم ماہرِ فطرت نے رونے کو ’آنکھ کے باہر ایک جھٹکے سے آنسوؤں کے اخراج کی طرح بے مقصد‘ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل سوبیل کی لیبارٹری میں کی جانے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ خواتین کے آنسو سونگھنے سے مردوں کے ٹیسٹوسٹیرون میں کمی واقع ہوتی ہے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس سے رویے پر اثر پڑتا ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تازہ ترین تحقیق کے لیے سوبیل کی لیبارٹری میں موجود ڈاکٹر شانی ایگرون اور دیگر افراد نے غمگین فلمیں دیکھتے ہوئے خواتین کے چہروں پر آنسو دیکھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30361616"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونیورسٹی آف ٹلبرگ میں جذبات اور تندرستی کے ایمریٹس پروفیسر ایڈ ونگرہوٹس نے کہا کہ ’یہ سمجھ میں آتا ہے کہ آنسو کسی طرح سے جارحیت کو روکتے ہیں کیونکہ یہ عام معلومات ہے کہ جو بچے بہت روتے ہیں انہیں جسمانی استحصال کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس سے انہیں زندہ رہنے میں مدد مل سکتی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیورپول جان مورس یونیورسٹی کی ماہر نفسیات ڈاکٹر مینا لیونز کا کہنا ہے کہ جارحیت میں کمی ’قابل ذکر‘ ہے لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ ٹھوس نتائج اخذ کرنے سے پہلے انسانی رویوں پر کیے جانے والے مطالعے کو دہرایا جانا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انسانی آنسوؤں سے متعلق ایک تحقیق نے سائنسدانوں کو حیران کردیا، تحقیق کے مطابق انسانی آنسوں جارحیت کو باآسانی کم کرسکتے ہیں۔</strong></p>
<p>محققین کے مطابق انسانی آنسوؤں میں ایک ایسا مادہ ہوتا ہے جو غصے کی کیفیت کو کم کرتا ہے۔</p>
<p>خواتین کے جذباتی آنسوؤں کو کمپیوٹرائزڈ ٹیسٹ کرنے کے بعد یہ نتیجہ سامنے آیا کہ ان آنسوؤں سے مردانہ غصے میں 40 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوتی ہے۔ تاہم سائنس دانوں کا خیال ہے کہ تمام انسانی آنسوؤں کا ایک جیسا اثر پڑتا ہے۔</p>
<p>اسرائیل میں ویزمین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس میں نیوروبائیولوجی کے پروفیسر نوام سوبیل کا کہنا ہے کہ ’جارحیت میں کمی ہمارے لیے متاثر کن تھی، جو کچھ بھی آنسوؤں میں ہے وہ دراصل جارحیت کو کم کرتا ہے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30361645"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>چارلس ڈارون رونے کی بات پر حیران رہ گئے، 1872 ء میں انسان اور جانوروں میں جذبات کے اظہار میں لکھتے ہوئے عظیم ماہرِ فطرت نے رونے کو ’آنکھ کے باہر ایک جھٹکے سے آنسوؤں کے اخراج کی طرح بے مقصد‘ قرار دیا۔</p>
<p>اس سے قبل سوبیل کی لیبارٹری میں کی جانے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ خواتین کے آنسو سونگھنے سے مردوں کے ٹیسٹوسٹیرون میں کمی واقع ہوتی ہے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس سے رویے پر اثر پڑتا ہے یا نہیں۔</p>
<p>تازہ ترین تحقیق کے لیے سوبیل کی لیبارٹری میں موجود ڈاکٹر شانی ایگرون اور دیگر افراد نے غمگین فلمیں دیکھتے ہوئے خواتین کے چہروں پر آنسو دیکھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30361616"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یونیورسٹی آف ٹلبرگ میں جذبات اور تندرستی کے ایمریٹس پروفیسر ایڈ ونگرہوٹس نے کہا کہ ’یہ سمجھ میں آتا ہے کہ آنسو کسی طرح سے جارحیت کو روکتے ہیں کیونکہ یہ عام معلومات ہے کہ جو بچے بہت روتے ہیں انہیں جسمانی استحصال کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس سے انہیں زندہ رہنے میں مدد مل سکتی ہے‘۔</p>
<p>لیورپول جان مورس یونیورسٹی کی ماہر نفسیات ڈاکٹر مینا لیونز کا کہنا ہے کہ جارحیت میں کمی ’قابل ذکر‘ ہے لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ ٹھوس نتائج اخذ کرنے سے پہلے انسانی رویوں پر کیے جانے والے مطالعے کو دہرایا جانا ضروری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30361756</guid>
      <pubDate>Fri, 22 Dec 2023 11:30:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/12/220936211374641.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/12/220936211374641.jpg"/>
        <media:title>تصویر: فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
