<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 19:11:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 19:11:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغانستان کے 21 صوبوں میں پولیو مہم، پاکستان سے آنیوالے بچوں کو قطرے پلانا ترجیح</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30362551/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;افغانستان کے 21 صوبوں میں انسداد پولیو مہم شروع کردی گئی، پاکستان سے آنیوالے بچوں کو ویکسین کی ڈوز دینے میں ترجیحات میں رکھا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغان وزارت صحت عامہ کے ترجمان شرافت زمان امرخیل نے کہا کہ ہمارا مقصد ملک سے وائرس کا خاتمہ کرنا ہے، مشرقی زون میں بیماری کا زیادہ خطرہ ہے، اس لئے وہاں فوکس کیا گیا ہے اور 42 مشرقی اضلاع میں انسداد پولیو کا منصوبہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انھوں نے کہا کہ انسداد پولیو کی مہم مشرقی صوبوں میں 23 دسمبر سے شروع کی گئی جو  29 دسمبر تک جاری رہے گی۔ مہم میں 10 سال سے کم عمر کے بچوں کو بھی شامل کیا جائے گا، اس سے پہلے کی انسداد مہم میں صرف پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو شامل کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت صحت کے مطابق سات روزہ مہم کے دوران 88 لاکھ بچوں کو انسداد پولیو ویکسین دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30362545"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ویکسی نیشن ورکر سید روح اللہ ابراہیمی نے کہا کہ پاکستان سے پناہ گزین افغانستان آ رہے ہیں جس کی وجہ سے افغانستان کو پولیو کا خطرہ مزید لاحق ہے۔ ہم تمام خاندانوں سے کہتے ہیں کہ وہ ویکسین کو سنجیدگی سے لیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور ویکسین ورکر مہناز نے بتایا کہ ویکسینیشن کے دوران ہمیں مختلف رد عمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کچھ لوگ ویکسین سے انکار کرتے ہیں اور کچھ لوگ بدسلوکی کرتے ہیں۔ ہم لوگوں سے کہتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>افغانستان کے 21 صوبوں میں انسداد پولیو مہم شروع کردی گئی، پاکستان سے آنیوالے بچوں کو ویکسین کی ڈوز دینے میں ترجیحات میں رکھا گیا ہے۔</strong></p>
<p>افغان وزارت صحت عامہ کے ترجمان شرافت زمان امرخیل نے کہا کہ ہمارا مقصد ملک سے وائرس کا خاتمہ کرنا ہے، مشرقی زون میں بیماری کا زیادہ خطرہ ہے، اس لئے وہاں فوکس کیا گیا ہے اور 42 مشرقی اضلاع میں انسداد پولیو کا منصوبہ ہے۔</p>
<p>انھوں نے کہا کہ انسداد پولیو کی مہم مشرقی صوبوں میں 23 دسمبر سے شروع کی گئی جو  29 دسمبر تک جاری رہے گی۔ مہم میں 10 سال سے کم عمر کے بچوں کو بھی شامل کیا جائے گا، اس سے پہلے کی انسداد مہم میں صرف پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو شامل کیا گیا تھا۔</p>
<p>وزارت صحت کے مطابق سات روزہ مہم کے دوران 88 لاکھ بچوں کو انسداد پولیو ویکسین دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30362545"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایک ویکسی نیشن ورکر سید روح اللہ ابراہیمی نے کہا کہ پاکستان سے پناہ گزین افغانستان آ رہے ہیں جس کی وجہ سے افغانستان کو پولیو کا خطرہ مزید لاحق ہے۔ ہم تمام خاندانوں سے کہتے ہیں کہ وہ ویکسین کو سنجیدگی سے لیں۔</p>
<p>ایک اور ویکسین ورکر مہناز نے بتایا کہ ویکسینیشن کے دوران ہمیں مختلف رد عمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کچھ لوگ ویکسین سے انکار کرتے ہیں اور کچھ لوگ بدسلوکی کرتے ہیں۔ ہم لوگوں سے کہتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30362551</guid>
      <pubDate>Tue, 26 Dec 2023 22:26:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/12/26215350833d846.webp?r=215558" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/12/26215350833d846.webp?r=215558"/>
        <media:title>تصویر بشکریہ طلوع نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
