<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 10:58:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 10:58:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آرٹیکل 184(3) کے تحت اپیل کا حق دینا آئین کے برخلاف ہے، جسٹس حسن اظہر رضوی کا اختلافی نوٹ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30362897/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس میں جسٹس حسن اظہر رضوی نے 184(3) کی اپیل دینے پر اختلافی نوٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ سیکشن 5 کی ذیلی شق 2 کو کالعدم قرار دینے کے علاوہ اکثریتی فیصلے سے اتفاق کرتا ہوں، آرٹیکل 184 (3) کے مقدمات میں اپیل کا حق سادہ قانون سازی سے نہیں دیا جاسکتا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس میں جسٹس حسن اظہر رضوی نے آرٹیکل 184(3) کے مقدمات میں اپیل کا حق دینے پر اختلافی نوٹ جاری کیا ہے اور اسے آئین کے برخلاف قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے اختلافی نوٹ میں جسٹس حسن اظہر رضوی نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی آئینی حثیت پر اکثریتی فیصلے سے اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سے پہلے آرٹیکل 184(3) کے تحت مقدمات میں اپیل کے حق کے بجائے نظر ثانی کا حق استعمال کیا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30362746"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس حسن اظہر رضوی نے آرٹیکل 184(3) کے تحت مقدمات میں اپیل دینے کے حق کو آئین کے آرٹیکل 9، 10 اے، 24 اور 25 کے بر خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئی شک نہیں کہ پارلیمان قانون سازی کا اختیار رکھتی ہے مگر آرٹیکل 184(3) کے مقدمات میں اپیل کا حق سادہ قانون سازی سے نہیں دیا جاسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اپنے اختلافی نوٹ میں مزید کہا کہ آرٹیکل 184(3) کے مقدمات میں اپیل کا حق دینا آئینی حقوق اور تقاضوں کے خلاف ہوگا، سیکشن 5 کی ذیلی شق 2 کو کالعدم قرار دینے کے علاوہ اکثریتی فیصلے سے اتفاق کرتا ہوں، آرٹیکل 184(3) کے مقدمات میں اپیل کے حق کے خلاف درخواستیں منظور کی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان نے پریکٹس اینڈ پروسجیر ایکٹ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ آئین چیف جسٹس کو اکیلے فیصلے کرنے کا کوئی اختیار نہیں دیتا۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے تحریر کیے گئے 21 صفحات پر مشتمل فیصلے میں لکھا گیا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ آئین اور عدلیہ کی آزادی کے منافی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30362675"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے کے مطابق چیف جسٹس کے اختیارات باٹنے کی مخالفت کرنے والوں میں جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید شامل ہیں۔ آرٹیکل 184(3) کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق دینے کی قانونی شق پر 6-9 کی اکثریت سے فیصلہ دینے کے بعد اپیل کا حق آئینی قرار دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس میں جسٹس حسن اظہر رضوی نے 184(3) کی اپیل دینے پر اختلافی نوٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ سیکشن 5 کی ذیلی شق 2 کو کالعدم قرار دینے کے علاوہ اکثریتی فیصلے سے اتفاق کرتا ہوں، آرٹیکل 184 (3) کے مقدمات میں اپیل کا حق سادہ قانون سازی سے نہیں دیا جاسکتا۔</strong></p>
<p>سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس میں جسٹس حسن اظہر رضوی نے آرٹیکل 184(3) کے مقدمات میں اپیل کا حق دینے پر اختلافی نوٹ جاری کیا ہے اور اسے آئین کے برخلاف قرار دیا ہے۔</p>
<p>اپنے اختلافی نوٹ میں جسٹس حسن اظہر رضوی نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی آئینی حثیت پر اکثریتی فیصلے سے اتفاق کیا۔</p>
<p>انہوں نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سے پہلے آرٹیکل 184(3) کے تحت مقدمات میں اپیل کے حق کے بجائے نظر ثانی کا حق استعمال کیا جاتا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30362746"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جسٹس حسن اظہر رضوی نے آرٹیکل 184(3) کے تحت مقدمات میں اپیل دینے کے حق کو آئین کے آرٹیکل 9، 10 اے، 24 اور 25 کے بر خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئی شک نہیں کہ پارلیمان قانون سازی کا اختیار رکھتی ہے مگر آرٹیکل 184(3) کے مقدمات میں اپیل کا حق سادہ قانون سازی سے نہیں دیا جاسکتا۔</p>
<p>انہوں نے اپنے اختلافی نوٹ میں مزید کہا کہ آرٹیکل 184(3) کے مقدمات میں اپیل کا حق دینا آئینی حقوق اور تقاضوں کے خلاف ہوگا، سیکشن 5 کی ذیلی شق 2 کو کالعدم قرار دینے کے علاوہ اکثریتی فیصلے سے اتفاق کرتا ہوں، آرٹیکل 184(3) کے مقدمات میں اپیل کے حق کے خلاف درخواستیں منظور کی جاتی ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان نے پریکٹس اینڈ پروسجیر ایکٹ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ آئین چیف جسٹس کو اکیلے فیصلے کرنے کا کوئی اختیار نہیں دیتا۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے تحریر کیے گئے 21 صفحات پر مشتمل فیصلے میں لکھا گیا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ آئین اور عدلیہ کی آزادی کے منافی نہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30362675"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>فیصلے کے مطابق چیف جسٹس کے اختیارات باٹنے کی مخالفت کرنے والوں میں جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید شامل ہیں۔ آرٹیکل 184(3) کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق دینے کی قانونی شق پر 6-9 کی اکثریت سے فیصلہ دینے کے بعد اپیل کا حق آئینی قرار دیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30362897</guid>
      <pubDate>Thu, 28 Dec 2023 22:33:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (افضل جاوید)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/12/2816485348a95b2.jpg?r=164944" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/12/2816485348a95b2.jpg?r=164944"/>
        <media:title>فوٹو۔۔۔۔۔۔۔ سپریم کورٹ آف پاکستان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
