<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 05:35:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 05:35:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’ٹیکس کی عدم وصولی سے آئی ایم ایف بیل آوٹ پروگرام خطرے میں پڑسکتا ہے‘</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30362945/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان مسلسل بلند مالیاتی خسارے کا سامنا کرنے پر مجبور ہے، تجزیہ کاروں نے خبر دار کیا ہے کہ ٹیکس کی عدم وصولی آئی ایم ایف کے تین بلین ڈالر کے امدادی بیل آؤٹ پروگرام کو خطرے میں ڈال سکتا ہے جس سے پاکستان کو انتخابات سے قبل ایک بار بھر بحران کا خدشہ ہو سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں نے پاکستان کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس وصولی میں ناکامی، مالیاتی خسارے کی سب سے بڑی وجہ ہے، ناقص ٹیکس صولی کے باعث آئی ایم ایف کے تین بلین ڈالر کے امدادی بیل آوٹ پروگرام کو خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جون 2024 کیلئے مقرر کیا جانے والا نو ہزار چار سو ارب کا ٹیکس ہدف آئندہ منتخب حکومت کیلئے بڑا پہاڑ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سپورٹ سے مالیاتی بحران وقتی طور پر ٹل گیا، تاہم اعداد و شمار نے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے، 25 کروڑ کی آبادی میں صرف دو فیصد ہی انکم ٹیکس میں رجسٹرڈ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30362244"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق  زرعی شعبے کا جی ڈی پی میں چوبیس فیصد حصہ ہے جبکہ انکم ٹیکس میں صرف ایک ہی فیصد رجسٹرڈ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرعی زمیندار، ہول سیلر، ریٹیلز اور رئیل اسٹیٹ کا شعبہ ٹیکس نیٹ سے باہر ہے، تجزیاتی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ سیاستدان ٹیکس اصلاحات میں سنجیدہ نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان مسلسل بلند مالیاتی خسارے کا سامنا کرنے پر مجبور ہے، تجزیہ کاروں نے خبر دار کیا ہے کہ ٹیکس کی عدم وصولی آئی ایم ایف کے تین بلین ڈالر کے امدادی بیل آؤٹ پروگرام کو خطرے میں ڈال سکتا ہے جس سے پاکستان کو انتخابات سے قبل ایک بار بھر بحران کا خدشہ ہو سکتا ہے۔</strong></p>
<p>تجزیہ کاروں نے پاکستان کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس وصولی میں ناکامی، مالیاتی خسارے کی سب سے بڑی وجہ ہے، ناقص ٹیکس صولی کے باعث آئی ایم ایف کے تین بلین ڈالر کے امدادی بیل آوٹ پروگرام کو خطرہ ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جون 2024 کیلئے مقرر کیا جانے والا نو ہزار چار سو ارب کا ٹیکس ہدف آئندہ منتخب حکومت کیلئے بڑا پہاڑ ہوگا۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سپورٹ سے مالیاتی بحران وقتی طور پر ٹل گیا، تاہم اعداد و شمار نے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے، 25 کروڑ کی آبادی میں صرف دو فیصد ہی انکم ٹیکس میں رجسٹرڈ ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30362244"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ماہرین کے مطابق  زرعی شعبے کا جی ڈی پی میں چوبیس فیصد حصہ ہے جبکہ انکم ٹیکس میں صرف ایک ہی فیصد رجسٹرڈ ہے۔</p>
<p>زرعی زمیندار، ہول سیلر، ریٹیلز اور رئیل اسٹیٹ کا شعبہ ٹیکس نیٹ سے باہر ہے، تجزیاتی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ سیاستدان ٹیکس اصلاحات میں سنجیدہ نہیں ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30362945</guid>
      <pubDate>Thu, 28 Dec 2023 20:59:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/12/282053462573f91.webp?r=205734" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/12/282053462573f91.webp?r=205734"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
