<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 06:16:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 06:16:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دبئی پراپرٹی سیکٹر میں بھی چھا گیا، اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30362982/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹریول اور ٹورازم کے ساتھ دبئی پراپرٹی سیکٹر بھی بلندی پر ہے۔ اس شعبے میں رواں سال 108 ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کیلئے دبئی اب بھی فیورٹ ہے۔ رواں سال پراپرٹی سیکٹر میں مجموعی طور پر 108 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو اے ای کی حکومت نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو متوجہ رکھنے کے لیے جو پرکشش مراعات دی ہیں ان کے نتیجے میں اب دبئی میں پراپرٹی یا ریئل اسٹیٹ سیکٹر غیر معمولی رفتار سے پروان چڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز سعودی عرب نے بھی پراپرٹ سیکٹر کے ساتھ ساتھ افرادی قوت کے شعبے میں جو اقدامات کیے ہیں ان کا مقصد بھی بیرونی سرمایہ کاروں کو زیادہ متوجہ کرنا ہے۔ سعودی عرب نے بیرونی سرمایہ کاروں سے 30 سال تک انکم اور گین ٹیکس وصول نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے  کہ رواں سال دبئی کے پراپرٹی سیکٹر میں مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری 108 ارب تک رہنے کا امکان ہے۔ خلیجی مجلس تعاون کے رکن ممالک میں رواں سال مجموعی سرمایہ کاری 172 ارب ڈالر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30362890"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دبئی کی حکومت بیرونی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری پر مائل رکھنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کر رہی ہے۔ ڈبلیو کیپٹل کے سی ای او ولید الزروری نے کہا ہے کہ رواں سال پراپرٹی سیکٹر میں سرمایہ کی ایک لاکھ 27 ہزار ڈیلز ہوئی ہیں۔ سرمایہ کاری صرف لگژری ریزورٹ اور ہوٹل انڈسٹری میں نہیں ہو رہی ہے بلکہ درمیانے طبقے کے مکانات، اپارٹمنٹس اور دکانوں میں بھی سرمایہ لگایا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ولید الزروری کا یہ بھی کہنا ہے کہ بیرونی سرمایہ کار دبئی میں سرمایہ کاری کو اس لیے ترجیح دے رہے ہیں کہ سرمایہ لگانے کا طریق کار بہت آسان رکھا گیا ہے، ٹیکس کے معاملے میں رعایتیں دی جارہی ہیں اور دبئی کا بنیادی ڈھانچا زیادہ منافع کمانے کے بھرپور مواقع فراہم کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹریول اور ٹورازم کے ساتھ دبئی پراپرٹی سیکٹر بھی بلندی پر ہے۔ اس شعبے میں رواں سال 108 ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔</strong></p>
<p>دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کیلئے دبئی اب بھی فیورٹ ہے۔ رواں سال پراپرٹی سیکٹر میں مجموعی طور پر 108 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔</p>
<p>یو اے ای کی حکومت نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو متوجہ رکھنے کے لیے جو پرکشش مراعات دی ہیں ان کے نتیجے میں اب دبئی میں پراپرٹی یا ریئل اسٹیٹ سیکٹر غیر معمولی رفتار سے پروان چڑھ رہا ہے۔</p>
<p>گزشتہ روز سعودی عرب نے بھی پراپرٹ سیکٹر کے ساتھ ساتھ افرادی قوت کے شعبے میں جو اقدامات کیے ہیں ان کا مقصد بھی بیرونی سرمایہ کاروں کو زیادہ متوجہ کرنا ہے۔ سعودی عرب نے بیرونی سرمایہ کاروں سے 30 سال تک انکم اور گین ٹیکس وصول نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے  کہ رواں سال دبئی کے پراپرٹی سیکٹر میں مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری 108 ارب تک رہنے کا امکان ہے۔ خلیجی مجلس تعاون کے رکن ممالک میں رواں سال مجموعی سرمایہ کاری 172 ارب ڈالر رہی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30362890"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دبئی کی حکومت بیرونی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری پر مائل رکھنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کر رہی ہے۔ ڈبلیو کیپٹل کے سی ای او ولید الزروری نے کہا ہے کہ رواں سال پراپرٹی سیکٹر میں سرمایہ کی ایک لاکھ 27 ہزار ڈیلز ہوئی ہیں۔ سرمایہ کاری صرف لگژری ریزورٹ اور ہوٹل انڈسٹری میں نہیں ہو رہی ہے بلکہ درمیانے طبقے کے مکانات، اپارٹمنٹس اور دکانوں میں بھی سرمایہ لگایا جارہا ہے۔</p>
<p>ولید الزروری کا یہ بھی کہنا ہے کہ بیرونی سرمایہ کار دبئی میں سرمایہ کاری کو اس لیے ترجیح دے رہے ہیں کہ سرمایہ لگانے کا طریق کار بہت آسان رکھا گیا ہے، ٹیکس کے معاملے میں رعایتیں دی جارہی ہیں اور دبئی کا بنیادی ڈھانچا زیادہ منافع کمانے کے بھرپور مواقع فراہم کر رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30362982</guid>
      <pubDate>Fri, 29 Dec 2023 09:08:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2023/12/29090328761713d.webp?r=090527" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2023/12/29090328761713d.webp?r=090527"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
