<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 18:44:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 18:44:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کینیڈا کا 2024 میں ریموٹ ورک ویزہ دینے کا اعلان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30363536/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کینیڈا نے 2024 میں ڈیجیٹل نومیڈز (خانہ بدوش) یا فری لانسنگ کرنے والوں کے لیے ریموٹ ورک ویزا کا اعلان کیا ہے،&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹل نومیڈز سے مراد وہ فری لانسرز ہیں جو عارضی طور پرکسی بھی ملک کا ویزا حاصل کر کے وہاں رہائش اختیار کر سکتے ہیں اورآن لائن کام جاری رکھ سکتے ہیں، اسکے لیے لازم نہیں کہ وہ اس ملک کے کسی ادارے، بازار یا دفتر جا کر کام کریں۔ انہیں دیے جانے والے ویزے کی ایک مدت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باصلاحیت  کارکنوں کو تلاش کرنا تیزی سے مشکل ہوتا جارہا ہے ،جس کے نتیجے میں ایسے ممالک کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جو بیوروکریٹک رکاوٹیں کم کرتے ہوئے ریموٹ سرگرمیوں کے لیے ویزا پروگرام فراہم کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کینیڈا جس نے طویل عرصے سے ڈیجیٹل خانہ بدوشوں کو سیاحتی ویزا پر رہتے ہوئے 6 ماہ تک رہنے کی اجازت دی ہے  اشارہ دیا ہے کہ وہ غیر ملکی کارکنوں کو راغب کرنے کے لیے بے چین ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کا کہنا ہے کہ وہ بین الاقوامی کارکنوں کو راغب کرنے کے لیے ایک نئی ”ٹیک ٹیلنٹ حکمت عملی“ پرکام کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30363513"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے کینیڈا کی حکومت صوبوں اور علاقوں کے ساتھ مشغول ہے۔ اس بات پر بھی کام کیا جارہا ہے کہ کاروباری افراد کے لیے ورک پرمٹ سے متعلق درخواست دینا کس طرح ممکن بنایا جائے جو 3 سال تک کے لیے ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امیگریشن، ریفیوجیز اور سٹیزن شپ کینیڈا کی ترجمان ایزابیل ڈوبوئس نے  ایک بیان میں کہا کہ، ’ہم توقع کرتے ہیں کہ کچھ ڈیجیٹل نومیڈز کینیڈا میں رہنے کا فیصلہ کریں گے اور  ملازمت کے مواقع تلاش کریں گے اور یہاں آجروں کو اپنی مہارت یں فراہم کریں گے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارضی ورک پرمٹ اور / یا مستقل رہائش کے لیے درخواست جمع کرنا ضروری ہوگا.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈوبوئس کے مطابق ، “یہ حکمت عملی انتہائی ہنر مند ٹیکنالوجی کارکنوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے جو گھر سے کام کرنے کے قابل ہیں “اور یہ وہ منصوبہ ہے جو ان ضروریات کو بہترین طریقے سے ڈھالتا ہے۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امیگریشن، پناہ گزینوں اور شہریت کے دفتر کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ کینیڈا دور دراز کے کارکنوں کے لیے کوششیں کررہا ہے، اس حوالے سے مزید معلومات آنے والے مہینوں میں شیئر کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ  اگست 2023 میں ورک فورس مینجمنٹ کمپنی ایم بی او پارٹنرز کی ایک رپورٹ کے مطابق، 17.3 ملین امریکی، یا افرادی قوت کا 11 فیصد  اب خود کو ڈیجیٹل نومیڈز (خانہ بدوش) سمجھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں باقاعدہ ملازمت کرنے والے اور آزاد کارکن دونوں شامل ہیں۔ یہ اضافہ 2022 کے مقابلے میں دو فیصد اضافے کی نمائندگی کرتا ہے۔ مزید 70 ملین افراد  یا تو فری لانسرز یا ڈیجیٹل خانہ بدوش بن رہے ہیں یا آئندہ 2 سے 3 سالوں کے دوران ایسا کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کینیڈا نے 2024 میں ڈیجیٹل نومیڈز (خانہ بدوش) یا فری لانسنگ کرنے والوں کے لیے ریموٹ ورک ویزا کا اعلان کیا ہے،</strong></p>
<p>ڈیجیٹل نومیڈز سے مراد وہ فری لانسرز ہیں جو عارضی طور پرکسی بھی ملک کا ویزا حاصل کر کے وہاں رہائش اختیار کر سکتے ہیں اورآن لائن کام جاری رکھ سکتے ہیں، اسکے لیے لازم نہیں کہ وہ اس ملک کے کسی ادارے، بازار یا دفتر جا کر کام کریں۔ انہیں دیے جانے والے ویزے کی ایک مدت ہوتی ہے۔</p>
<p>باصلاحیت  کارکنوں کو تلاش کرنا تیزی سے مشکل ہوتا جارہا ہے ،جس کے نتیجے میں ایسے ممالک کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جو بیوروکریٹک رکاوٹیں کم کرتے ہوئے ریموٹ سرگرمیوں کے لیے ویزا پروگرام فراہم کررہے ہیں۔</p>
<p>کینیڈا جس نے طویل عرصے سے ڈیجیٹل خانہ بدوشوں کو سیاحتی ویزا پر رہتے ہوئے 6 ماہ تک رہنے کی اجازت دی ہے  اشارہ دیا ہے کہ وہ غیر ملکی کارکنوں کو راغب کرنے کے لیے بے چین ہے۔</p>
<p>حکومت کا کہنا ہے کہ وہ بین الاقوامی کارکنوں کو راغب کرنے کے لیے ایک نئی ”ٹیک ٹیلنٹ حکمت عملی“ پرکام کررہی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30363513"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس حوالے سے کینیڈا کی حکومت صوبوں اور علاقوں کے ساتھ مشغول ہے۔ اس بات پر بھی کام کیا جارہا ہے کہ کاروباری افراد کے لیے ورک پرمٹ سے متعلق درخواست دینا کس طرح ممکن بنایا جائے جو 3 سال تک کے لیے ہو۔</p>
<p>امیگریشن، ریفیوجیز اور سٹیزن شپ کینیڈا کی ترجمان ایزابیل ڈوبوئس نے  ایک بیان میں کہا کہ، ’ہم توقع کرتے ہیں کہ کچھ ڈیجیٹل نومیڈز کینیڈا میں رہنے کا فیصلہ کریں گے اور  ملازمت کے مواقع تلاش کریں گے اور یہاں آجروں کو اپنی مہارت یں فراہم کریں گے۔‘</p>
<p>عارضی ورک پرمٹ اور / یا مستقل رہائش کے لیے درخواست جمع کرنا ضروری ہوگا.</p>
<p>ڈوبوئس کے مطابق ، “یہ حکمت عملی انتہائی ہنر مند ٹیکنالوجی کارکنوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے جو گھر سے کام کرنے کے قابل ہیں “اور یہ وہ منصوبہ ہے جو ان ضروریات کو بہترین طریقے سے ڈھالتا ہے۔’</p>
<p>امیگریشن، پناہ گزینوں اور شہریت کے دفتر کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ کینیڈا دور دراز کے کارکنوں کے لیے کوششیں کررہا ہے، اس حوالے سے مزید معلومات آنے والے مہینوں میں شیئر کی جائیں گی۔</p>
<p>واضح رہے کہ  اگست 2023 میں ورک فورس مینجمنٹ کمپنی ایم بی او پارٹنرز کی ایک رپورٹ کے مطابق، 17.3 ملین امریکی، یا افرادی قوت کا 11 فیصد  اب خود کو ڈیجیٹل نومیڈز (خانہ بدوش) سمجھتے ہیں۔</p>
<p>اس میں باقاعدہ ملازمت کرنے والے اور آزاد کارکن دونوں شامل ہیں۔ یہ اضافہ 2022 کے مقابلے میں دو فیصد اضافے کی نمائندگی کرتا ہے۔ مزید 70 ملین افراد  یا تو فری لانسرز یا ڈیجیٹل خانہ بدوش بن رہے ہیں یا آئندہ 2 سے 3 سالوں کے دوران ایسا کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30363536</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Jan 2024 20:19:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/01/01125407f66d08d.webp?r=125421" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/01/01125407f66d08d.webp?r=125421"/>
        <media:title>فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
