<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 05:45:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 05:45:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کے معاملے پر آئی ایم ایف اجلاس 11 جنوری کو طلب</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30363543/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کا نیا شیڈول جاری کر دیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق پاکستان کے معاملے پر آئی ایم ایف بورڈ کا اجلاس 11 جنوری کو طلب کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے دوران پاکستان کیلئے 70 کروڑ ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دی جائے گی جبکہ 3 ارب ڈالر کے سٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے تحت اقتصادی جائزے کی منظوری بھی متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی مالیاتی فنڈ کے بورڈ کی جانب سے پاکستان کے لیے قرضے کی منظوری کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کی تاریخ سامنے آنے کے بعد کئی دنوں تک جاری رہنے والی چہ مگوئیوں اور افوہوں کا سلسلہ تھم جانے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پچھلے مہینے آئی ایم ایف نے کہا تھا کہ وہ &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30334162"&gt;پاکستان کے لیے تین ارب ڈالر کے قرض پروگرام&lt;/a&gt; کے پہلے جائزے کے طور پر عملے کی سطح کے معاہدے پر پہنچ گیا ہے، جو ملک کے لئے ستر کروڑ ڈالر کے قرض کی فراہمی کے لئے پہلا قدم تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فنڈز بیل آؤٹ کی دوسری قسط پر مشتمل ہوں گے جو آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، حال ہی میں عالمی مالیاتی فنڈ کی طرف سے بورڈ کے دسمبر کے وسط میں ہونے والے &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30358696"&gt;اجلاس کے اعلان شدہ ایجنڈے میں پاکستان کے قرض پروگرام کو حصہ نہیں بنایا گیا تھا&lt;/a&gt;۔ جس سے چہ مگوئیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم آئی ایم ایف کے بیان کے بعد تبصروں اور خدشات کا یہ سلسلہ رک جانے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی مالیاتی فنڈ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان قرض پروگرام کے لئے بورڈ کا اجلاس 11 جنوری 2024 کو ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30353599"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ پاکستان کو حالیہ سالوں میں ادائیگی کے شدید عدم توازن کے بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کم ہونے کے ساتھ ساتھ تاریخی طور پر بڑھتے ہوئے افراط زر کے چیلنج اور کرنسی کی قدر میں غیر معمولی کمی کا سامنا تھا جس کے باعث معیشت شدید مشکلات کا شکار ہوگئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم آئی ایم کی جانب سے قرض پروگرام کی منظوری سے قومی معیشت کو سنبھالا دینے میں مدد ملی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کا نیا شیڈول جاری کر دیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>حکام کے مطابق پاکستان کے معاملے پر آئی ایم ایف بورڈ کا اجلاس 11 جنوری کو طلب کیا گیا ہے۔</p>
<p>اجلاس کے دوران پاکستان کیلئے 70 کروڑ ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دی جائے گی جبکہ 3 ارب ڈالر کے سٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے تحت اقتصادی جائزے کی منظوری بھی متوقع ہے۔</p>
<p>عالمی مالیاتی فنڈ کے بورڈ کی جانب سے پاکستان کے لیے قرضے کی منظوری کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کی تاریخ سامنے آنے کے بعد کئی دنوں تک جاری رہنے والی چہ مگوئیوں اور افوہوں کا سلسلہ تھم جانے کا امکان ہے۔</p>
<p>پچھلے مہینے آئی ایم ایف نے کہا تھا کہ وہ <a href="https://www.aaj.tv/news/30334162">پاکستان کے لیے تین ارب ڈالر کے قرض پروگرام</a> کے پہلے جائزے کے طور پر عملے کی سطح کے معاہدے پر پہنچ گیا ہے، جو ملک کے لئے ستر کروڑ ڈالر کے قرض کی فراہمی کے لئے پہلا قدم تھا۔</p>
<p>یہ فنڈز بیل آؤٹ کی دوسری قسط پر مشتمل ہوں گے جو آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔</p>
<p>تاہم، حال ہی میں عالمی مالیاتی فنڈ کی طرف سے بورڈ کے دسمبر کے وسط میں ہونے والے <a href="https://www.aaj.tv/news/30358696">اجلاس کے اعلان شدہ ایجنڈے میں پاکستان کے قرض پروگرام کو حصہ نہیں بنایا گیا تھا</a>۔ جس سے چہ مگوئیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔</p>
<p>تاہم آئی ایم ایف کے بیان کے بعد تبصروں اور خدشات کا یہ سلسلہ رک جانے کا امکان ہے۔</p>
<p>عالمی مالیاتی فنڈ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان قرض پروگرام کے لئے بورڈ کا اجلاس 11 جنوری 2024 کو ہوگا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30353599"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>واضح رہے کہ پاکستان کو حالیہ سالوں میں ادائیگی کے شدید عدم توازن کے بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے۔</p>
<p>اس کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کم ہونے کے ساتھ ساتھ تاریخی طور پر بڑھتے ہوئے افراط زر کے چیلنج اور کرنسی کی قدر میں غیر معمولی کمی کا سامنا تھا جس کے باعث معیشت شدید مشکلات کا شکار ہوگئی تھی۔</p>
<p>تاہم آئی ایم کی جانب سے قرض پروگرام کی منظوری سے قومی معیشت کو سنبھالا دینے میں مدد ملی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30363543</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Jan 2024 20:07:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (یاسر نذر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/01/011313134f0957c.jpg?r=131629" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/01/011313134f0957c.jpg?r=131629"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
