<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 08:08:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 08:08:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزٹ ویزا پر برطانیہ جانے والوں کو کام کرنے کی اجازت ، شرائط کیا ہیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30363642/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برطانیہ نے اپنے ویزا قوانین میں اہم تبدیلیاں متعارف کرا دی ہیں۔ جس سے وزٹر ویزا رکھنے والے افراد کے لیے کاروباری سرگرمیوں میں مزید سہولت دی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی حکومت کی جانب سے جاری کردہ امیگریشن قوانین 31 جنوری سے نافذ العمل ہوں گے جس کا مقصد ملک میں کاروبار اور سیاحت کے شعبے کو فروغ دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنس دانوں، محققین اور ماہرین تعلیم کو برطانیہ میں تحقیق کرنے کی اجازت ہوگی۔ اسی طرح وزیٹر ویزا پر برطانیہ کا دورہ کرنے والے مقررین بھی اپنی بات چیت کے لئے ادائیگی حاصل کرنے کے اہل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ نے وزیٹر ویزا کے حوالے سے اپنے قوانین پر جو نظر ثانی کی ہے اس میں سیاحوں کو ملک میں قیام کے دوران مشروط ملازمت کی اجازت دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30363304"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویزا گائیڈ ورلڈ کے مطابق برطانوی اور بین الاقوامی دونوں شاخوں والی کمپنیوں کے ذریعہ ملازمت کرنے والے افراد بیرون ملک کلائنٹ کے کام میں ملازمت کرسکتے ہیں جب تک کہ یہ ان کی بیرون ملک ذمہ داریوں کا ایک چھوٹا سا حصہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویزا گائیڈ ورلڈ کے مطابق اگرچہ سیاح برطانیہ سے کام کرسکتے ہیں ، لیکن ریموٹ کام ان کے قیام کی بنیادی وجہ نہیں ہونا چاہئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برطانیہ نے اپنے ویزا قوانین میں اہم تبدیلیاں متعارف کرا دی ہیں۔ جس سے وزٹر ویزا رکھنے والے افراد کے لیے کاروباری سرگرمیوں میں مزید سہولت دی گئی ہے۔</strong></p>
<p>برطانوی حکومت کی جانب سے جاری کردہ امیگریشن قوانین 31 جنوری سے نافذ العمل ہوں گے جس کا مقصد ملک میں کاروبار اور سیاحت کے شعبے کو فروغ دینا ہے۔</p>
<p>سائنس دانوں، محققین اور ماہرین تعلیم کو برطانیہ میں تحقیق کرنے کی اجازت ہوگی۔ اسی طرح وزیٹر ویزا پر برطانیہ کا دورہ کرنے والے مقررین بھی اپنی بات چیت کے لئے ادائیگی حاصل کرنے کے اہل ہوں گے۔</p>
<p>برطانیہ نے وزیٹر ویزا کے حوالے سے اپنے قوانین پر جو نظر ثانی کی ہے اس میں سیاحوں کو ملک میں قیام کے دوران مشروط ملازمت کی اجازت دی گئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30363304"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ویزا گائیڈ ورلڈ کے مطابق برطانوی اور بین الاقوامی دونوں شاخوں والی کمپنیوں کے ذریعہ ملازمت کرنے والے افراد بیرون ملک کلائنٹ کے کام میں ملازمت کرسکتے ہیں جب تک کہ یہ ان کی بیرون ملک ذمہ داریوں کا ایک چھوٹا سا حصہ ہو۔</p>
<p>ویزا گائیڈ ورلڈ کے مطابق اگرچہ سیاح برطانیہ سے کام کرسکتے ہیں ، لیکن ریموٹ کام ان کے قیام کی بنیادی وجہ نہیں ہونا چاہئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30363642</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Jan 2024 22:51:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/01/01204507cbe7ac3.webp?r=211218" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/01/01204507cbe7ac3.webp?r=211218"/>
        <media:title>فوٹو ــ اے ایف پی / فائل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
