<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 23:24:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 23:24:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رہائی نہ ملنے پر مجرم کا کمرہ عدالت میں خاتون جج پر حملہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30364035/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی شہر لاس ویگاس میں ایک سیاہ فام مجرم نے سزا سننے کے بعد کمرہ عدالت میں خاتون جج پر حملہ کردیا۔ خاتون جج نے مجرم کو عبوری ضمانت دینے سے انکار کردیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;30 سالہ ڈیوبرا ریڈن کو تین بار پہلے بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ کلارک کائونٹی کی ڈسٹرکٹ کورٹ کی جج میری کے ہالتھس نے اسے سزا سنائی۔ ڈیوبرا ریڈن پر ایک شخص کو بری طرح زد و کوب کرنے کا الزام تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میری ہالتھس نے بتایا کہ ڈیوبرا ریڈن کے وکیل نے عبوری ضمانت کی استدعا کی تھی مگر ریڈن کا ٹریک ریکارڈ دیکھتے ہوئے میں نے سوچا کہ اس بات اسے سزا کا مزا چکھنا ہی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سزا سنتے ہی ڈیوبرا ریڈن اپنی بینچ سے اسپرنگ کی طرح اچھلا اور جج میری ہالتھس کو گرادیا۔ اس حملے کے دوران ڈیوبرا ریڈن نے جج میری ہالتھس کو دبوچ کر زد و کوب بھی کیا اور مغلظات بھی بکتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/1742825207411491023"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجرم کی حرکت سے عدالت میں کھلبلی مچ گئی۔ الارم بجایا گیا تاکہ خاتون جج کو بچایا جاسکے۔ انہیں بچانے کے لیے لوگ تیزی سے لپکے۔ فوٹیج میں مجرم اور لوگوں کے درمیان دھینگا مشتی دیکھی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت کے ایک افسر نے ڈیوبرا ریڈن کو ایک طرف ہٹایا تاہم وہ پلٹ کر جج پر پھر حملہ آور ہوا۔ وہاں موجود لوگوں نے مجرم پر قابو پایا اور اسے ہتھکڑیاں لگاکر جیل بھیج دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حملے کے دوران امریکہ اور ریاستی پرچم کی بے حرمتی بھی ہوئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی شہر لاس ویگاس میں ایک سیاہ فام مجرم نے سزا سننے کے بعد کمرہ عدالت میں خاتون جج پر حملہ کردیا۔ خاتون جج نے مجرم کو عبوری ضمانت دینے سے انکار کردیا تھا۔</strong></p>
<p>30 سالہ ڈیوبرا ریڈن کو تین بار پہلے بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ کلارک کائونٹی کی ڈسٹرکٹ کورٹ کی جج میری کے ہالتھس نے اسے سزا سنائی۔ ڈیوبرا ریڈن پر ایک شخص کو بری طرح زد و کوب کرنے کا الزام تھا۔</p>
<p>میری ہالتھس نے بتایا کہ ڈیوبرا ریڈن کے وکیل نے عبوری ضمانت کی استدعا کی تھی مگر ریڈن کا ٹریک ریکارڈ دیکھتے ہوئے میں نے سوچا کہ اس بات اسے سزا کا مزا چکھنا ہی چاہیے۔</p>
<p>سزا سنتے ہی ڈیوبرا ریڈن اپنی بینچ سے اسپرنگ کی طرح اچھلا اور جج میری ہالتھس کو گرادیا۔ اس حملے کے دوران ڈیوبرا ریڈن نے جج میری ہالتھس کو دبوچ کر زد و کوب بھی کیا اور مغلظات بھی بکتا رہا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/1742825207411491023"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>مجرم کی حرکت سے عدالت میں کھلبلی مچ گئی۔ الارم بجایا گیا تاکہ خاتون جج کو بچایا جاسکے۔ انہیں بچانے کے لیے لوگ تیزی سے لپکے۔ فوٹیج میں مجرم اور لوگوں کے درمیان دھینگا مشتی دیکھی جاسکتی ہے۔</p>
<p>عدالت کے ایک افسر نے ڈیوبرا ریڈن کو ایک طرف ہٹایا تاہم وہ پلٹ کر جج پر پھر حملہ آور ہوا۔ وہاں موجود لوگوں نے مجرم پر قابو پایا اور اسے ہتھکڑیاں لگاکر جیل بھیج دیا گیا۔</p>
<p>حملے کے دوران امریکہ اور ریاستی پرچم کی بے حرمتی بھی ہوئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30364035</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jan 2024 13:55:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/01/04083404397ec44.webp?r=083642" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/01/04083404397ec44.webp?r=083642"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
